دورِ جدید کے ڈاکٹر گوئیبلز اور افواہ سازی
ڈاکٹر افتخارالحق
افکارِ تازہ
ہٹلر کے پروپیگنڈا سیکریٹری ڈاکٹر گوئیبلز سے منسوب ایک قول ہے کہ جھوٹ اس کثرت اور شدت سے بولیے کہ وہ سچ لگنے لگے ۔ہماری سیاسی تاریخ ،جو پہلے ہی “ تُن ہمہ داغ داغِ شد “ کی عملی تصویر ہے ، گزشتہ ایک ڈیڑھ عشرے میں مزید مجروح ہوتی چلی گئی ہے۔ دیگر وجوہات کے علاوہ اس کا ایک بڑا سبب فلسفۂ گوئیبلز کی پیروی ہے ۔بدقسمتی سے سیاسی مخالفت میںُ ہمارا مزاج یہ بن چکا ہے کہ جو رہنما ہمیں پسند آ گیا اسے عام انسان سے کہیں بلند تر مرتبے پر فائز کر دیتے ہیں اور جو پسند نہیں اس کو گالم گلوچ ، جارحانہ لہجے اور دروغ گوئی پر مبنی افواہوں اور من گھڑت سنسنی خیز خبروں کا ہدف بناتے ہوئے تمام اخلاقی حدوں سے گزر جاتے ہیں ۔ یہ حقیقت بچوں تک کو پتا ہے کہ ان دنوں پاکستان کو مشرقی سرحد پر بھارت کی طرف سے براہِ راست اور مغربی سرحد پر بھارتی شہ پر افغانی جارحیت کا سامنا ہے ۔ افغانستان کو بھارت کی طرف سے اتنی ہُلاشیری ملی کہ اس نے باقاعدہ سرحد عبور کرکے ہماری سرزمین پر حملے کیے ۔ تاہم ان حملوں کا منہ توڑ جواب دیا گیا جس سے ہماری عالمی سطح پر ساکھ میں مزید اضافہ ہوا ۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس عسکری بحران کے دوران صرف اور صرف ایک مذہبی جماعت نے سراسر شر انگیزی کی نیت سے پنجاب کے کچھ علاقوں میں معمولاتِ زندگی کو دشوار بناتے ہوئے پولیس سے براہِ راست تصادم کی روش اپنائی ۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک اور تشویش ناک عمل یہ دیکھنے میں آیا کہ سوشل میڈیا پر ایسی ایسی دہشت ناک خبروں کا سیلاب چھوڑا گیا جس کی زد میں ہر طبقۂ فکر و عمر آیا ۔کبھی یہ کہا گیا کہ اس متنازعہ مذہبی تنظیم کے دونوں بڑے لیڈر بھائیوں کو پولیس نے غائب یا قتل کر دیا ہے ، کبھی یہ بات پھیلائی گئی کہ انھیں مذاکرات کا موقع نہیں دیا جا رہا اور کبھی یہ کہ سیکڑوں کی تعداد میں پارٹی کے کارکنان کو مار دیا گیا ہے ۔ یہ مذموم مقصد حاصل کرنے کے لیے یوٹیوب اور اے آئی / مصنوعی ذہانت کا کثرت اور دھڑلّے سے استعمال کیا گیا اور ان قبیح افعال کے باقاعدہ شرعی جواز بھی تراشے گئے۔میں نے بارہا اپنے ان رفقائے محترم سے دریافت کیا کہ آپ کا ذریعۂ معلومات کیا ہے تو حسبِ توقع و روایت :
ہم کہیں گے حالِ دل اور آپ فرمائیں گے “ کیا؟”
کی صورت جواب ملتے رہے ۔ یہ وطیرہ اب خوف ناک حد تک پروان چڑھ چکا ہے کہ جب بھی ایسے انتہا پسندوں سے ان کے قابلِ اعتراض اقوال و اعمال کی بابت سوال کیا جائے تو ہمیشہ جواب میں یہ بات کسی اور طرف اتنی مہارت اور شاطر انداز میں لے جاتے ہیں کہ سائل یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاید مسئول کا جواب درست ہے اور سوال ہی غلط / خارج از نصاب تھا ۔ بالفاظِ دگر بقولِ منیر نیازی اس منفی روش کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
تمام خلوص و دردِ دل رکھنے والے اہلِ دانش کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ اس روش کو اپنا کر ہم کس سمت جا رہے ہیں اور اسی روش کی تربیت نئی نسل کو دے کر ہم کون سا عظیم مقصد حاصل کرنے کی خوش فہمی میں مبتلا ہیں ۔ اگر آپ کو کسی بھی سیاسی جماعت/ مقتدرہ سے شدید اختلاف ہے اور آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آزادیِ اظہار کی فضا ان کے حسبِ منشا نہیں ہے تو کیا اس کا واحد ردِ عمل یہی ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر مہذب انداز میں جو دل چاہے لکھ دیں ، مغلّظات و دشنام طرازی کا استعمال اپنی من پسند شرعی تاویلات کے ساتھ چوبیس گھنٹے کرنے میں مصروف ہو جائیں ۔ کیا ہم ایسا کر کے رفتہ رفتہ کون سی “ مہذب اور ترقی یافتہ” اقوام کی صف میں اپنی جگہ بنانے کے خود فریبِ عمل کا شکار ہیں ؟ کیا ہمارے پاس اختلافِ رائے کی انتہائی صورتیں یہی رہ گئی ہیں ؟ کیا عدم برداشت اور عدم رواداری کی ناہموار شارع پر چلتے ہوئے ہم اسی کو خدانخواستہ صراطِ مستقیم تو نہیں سمجھنے لگ گئے ہیں؟ ایسے سوالات اس لیے بے حد اہم ہیں کہ متذکرہ ناقابلِ قبول و برداشت رویہ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں حیرت انگیز تیزی سے پرورش پانے لگا ہے ۔ ایسے تعلیم یافتہ افراد تو نئی نسل کے آئیڈیل ہوتے ہیں اور اگر یہ روش برقرار رکھی گئی تو بچوں اور نوجوانوں کے اذہان میں یہی طرزِ فکر جڑیں پکڑتی جائے گی اور اس صورت میں یہ اندیشہ منطقی ہوگا کہ آنے والی نسلوں کی فکری تربیت اسی منفی نہج پر ہوتی چلی جائے گی ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سماجی اور تہذیبی اعتبار سے ایسے تمام افعال کی شدت سے حوصلہ شکنی کی جائے اور نوجوان ذہنوں میں درست اور غلط کی حدِ فاصل کو واضح تر کیا جائے ، ورنہ اسی فکری پگڈنڈی پر چلتے ہوئے اچانک ہماری آئندہ نسلوں کو یہ احساس بہت دیر سے ہوگا:
تھا منیر آغاذ سے ہی راستہ اپنا غلط
اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا
اس کے ساتھ یہ باور کرانا بھی اشد ضروری ہے کہ اختلافِ رائے جہاں آپ کا پیدائشی و آئینی حق ہے وہیں اس کا اظہار صحت مند مکالمے اور تحریروں کی صورت کرنا بھی آئینی فریضوں میں وضاحت کے ساتھ شامل ہے۔ صحت مند اور مثبت حزبِ اختلاف تو حکومت اور عوام دونوں کے لیے مشعلِ راہ کا کام کرتے ہیں اور مغربی اقوام نے یہی تعاملی صورت اپنا کر آگے کی سمت کامیاب سفر کیا ہے۔ تمام اہلِ قلم اور تعلیم یافتہ افراد جنھیں مقتدرہ سے شدید اختلاف ہے، وہ اس اختلاف کو نفرت اور حقارت میں نہ بدلیں کیونکہ ایسا کرنے سے انھیں بھی علم ہے کہ پوری قوم ترقیِ معکوس کرتے کرتے پھر سے ایک ایسی بند گلی میں چلی جائے گی جہاں کوئی وحشی






