#کالم

اجتماعی بے بسی کی تصویر

بشریٰ ارشاد

تحریر۔ بشریٰ ارشاد

یہ وہ لمحہ ہے جب قلم لرزتا ہے، جب الفاظ چیخ اٹھتے ہیں، جب اعداد و شمار صرف اعداد نہیں رہتے بلکہ ایک قوم کی اجتماعی بے بسی کی تصویر بن جاتے ہیں۔ جولائی 2025 میں مائیکروسافٹ کا پاکستان سے رخصت ہونا صرف ایک کمپنی کا انخلا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک علامت تھی—اس نظام کی ناکامی کی جو سرمایہ کاری کو تحفظ دینے میں ناکام رہا۔ اسی مہینے کار سروس کریم نے بھی اپنے آپریشنز بند کیے، گویا شہریوں کی نقل و حرکت کی آزادی بھی محدود ہوگئی۔ گل احمد جیسے معتبر ٹیکسٹائل ادارے نے اپنا ایکسپورٹ بزنس بند کیا، جس سے نہ صرف ہزاروں مزدور بے روزگار ہوئے بلکہ پاکستان کی برآمدی شناخت کو بھی دھچکا لگا۔

پراکٹر اینڈ گیمبل نے 2024 میں صابن کی پروڈکشن بند کی اور اگلے سال مکمل کاروبار ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ صرف ایک کمپنی کا فیصلہ نہیں، بلکہ صارفین کے اعتماد کی شکست ہے۔ سیمنز ٹیکنالوجیز، بئیر، شیل، ٹوٹل پارکو، ٹیلی نار، سانفوئی، فائزر، واوا کارز، ایس ڈبلیو وی ایل—یہ سب نام ایک ایک کر کے پاکستان سے رخصت ہوتے گئے۔ ان کے جانے سے نہ صرف روزگار کے مواقع ختم ہوئے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بھی مجروح ہوئی۔

ہنڈا، ملت ٹریکٹرز، سوزوکی موٹرز، نشاط چونیاں، انڈس موٹرز، امریلی اسٹیل، جی ایس کے—یہ سب ادارے بار بار اپنی پروڈکشن بند کرتے رہے۔ یہ تسلسل اس بات کا غماز ہے کہ صنعتی پہیہ اب رکنے کے قریب ہے۔ ٹرک ان، سینڈوسو، ریٹالیو جیسے نئے کاروبار بھی اس ماحول میں پنپ نہ سکے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پروڈکشن پچاس فیصد کم ہوئی، جو کہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ گندم کے کسان کو دو سال سے امدادی قیمت نہیں ملی، جس سے زرعی شعبہ بھی شدید بحران کا شکار ہے۔

یہ سب واقعات کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک سوچے سمجھے نظام کی پیداوار ہیں۔ وہ نظام جو سول اور فوجی بیوروکریسی کے ویژن پر مبنی ہے، جو ترقی کے بجائے بربادی کی طرف لے جا رہا ہے۔ یہ وہ ویژن ہے جس میں اصلاحات کی گنجائش نہیں، صرف مفادات کی حفاظت ہے۔ توانائی کے نرخ، ٹیکس بوجھ، پالیسی کی غیر یقینی صورتحال—یہ سب عوامل سرمایہ کاروں کو بھگا رہے ہیں۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، مگر سننے والا کوئی نہیں۔

جب بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان سے نکلتی ہیں، تو یہ صرف سرمایہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ یہ اعتماد کا بحران ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ پاکستان اب کاروبار کے لیے محفوظ نہیں رہا۔ جب مقامی صنعتیں بند ہوتی ہیں، تو یہ صرف فیکٹریوں کے دروازے بند نہیں ہوتے، بلکہ لاکھوں خواب بھی دفن ہو جاتے ہیں۔ جب کسان کو امدادی قیمت نہیں ملتی، تو یہ صرف فصل کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ ایک نسل کی امیدیں مٹی میں مل جاتی ہیں۔

اس سب کے باوجود، حکومتی بیانات میں ترقی کی نوید سنائی جاتی ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں 42 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مگر یہ اعتماد کہاں ہے؟ ان فیکٹریوں میں جو بند ہو چکی ہیں؟ ان مزدوروں میں جو بے روزگار ہو چکے ہیں؟ ان کسانوں میں جن کی زمین بنجر ہو چکی ہے؟ یہ اعتماد صرف کاغذوں میں ہے، زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

یہ وقت ہے کہ ہم صرف اعداد و شمار پر نہ جائیں، بلکہ ان کے پیچھے چھپی کہانیوں کو سمجھیں۔ ہر بند ہوتی فیکٹری ایک خاندان کی روٹی چھینتی ہے۔ ہر کمپنی کا انخلا ایک نوجوان کا خواب توڑتا ہے۔ ہر کسان کی بے بسی ایک قوم کی غذائی خودمختاری کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اس بیوروکریسی کے ویژن کو چیلنج کریں، جو ہمیں بربادی کی طرف لے جا رہا ہے۔

پاکستان کو ایک نئے ویژن کی ضرورت ہے—ایسا ویژن جو صنعت، زراعت، تعلیم، صحت اور انصاف کو یکساں اہمیت دے۔ ایسا ویژن جو سرمایہ کاروں کو تحفظ دے، مزدوروں کو عزت دے، کسانوں کو قیمت دے، اور نوجوانوں کو امید دے۔ ورنہ یہ فہرست مزید طویل ہوتی جائے گی، اور ہم صرف بند ہوتی کمپنیوں کے نام یاد کرتے رہیں گے۔

یہ تحریر صرف ایک مضمون نہیں، ایک پکار ہے۔ ایک صدا ہے ان در و دیوار سے جو خاموشی سے ٹوٹ رہے ہیں۔ ایک سوال ہے ان ارباب اختیار سے جو صرف اقتدار کے کھیل میں مصروف ہیں۔ کیا ہم صرف تماشائی بنے رہیں گے؟ یا اس بربادی کے خلاف آواز بلند کریں گے؟ فیصلہ ہمیں کرنا ہے، کیونکہ وقت اب بھی باقی ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے