غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر اتفاق
اج کا اداریہ
اسرائیل اور حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا، جس کا مقصد اس تباہ کن تنازع کو ختم کرنا ہے جس میں دسیوں ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، فلسطینی علاقے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے اور ایک بڑے انسانی بحران نے جنم لیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے غزہ امن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کا اعلان مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کا ایک تاریخی موقع ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر اور ثالثی کرنے والے ممالک کی قیادت کو خراج تحسین پیش کیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے گی جبکہ اسرائیل اپنی افواج کو ایک طے شدہ لائن تک پیچھے ہٹا لے گا۔
حماس 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کے بدلے 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔
ٹرمپ نے ثالثی کرنے والے ممالک قطر، مصر اور ترکیہ کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ اس ہفتے مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کر سکتے ہیں کیونکہ معاہدہ ’انتہائی قریب‘ ہے، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں توقع ہے یرغمالیوں کی رہائی پیر کے روز متوقع ہے۔
جس کے تحت قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ساتھ ساتھ غزہ میں انسانی امداد کے بڑے پیمانے پر داخلے کی اجازت دی جائے گی، یہ اقدام دو سال سے جاری نسل کشی کے بعد کیا جا رہا ہے، جو اس وقت شروع ہوئی تھی جب تل ابیب نے اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد فلسطینی علاقے پر بمباری شروع کی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے 20 نکاتی امن منصوبے پر مصر میں ہونے والے مذاکرات کے بعد طے پانے والے معاہدے کے بعد کہا کہ حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے گی، جب کہ اسرائیل اپنی افواج کو ایک طے شدہ لائن تک پیچھے ہٹا لے گا۔
قطر نے کہا کہ یہ معاہدہ غزہ جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ ہے جو جنگ کے خاتمے، اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی، اور امداد کی فراہمی کا باعث بنے گا۔
پہلے مرحلے میں 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں رہا کیا جائے گا۔
یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے عمر قید کی سزا کاٹنے والے 250 فلسطینی اور جنگ شروع ہونے کے بعد گرفتار کیے گئے 1700 دیگر فلسطینی رہا کیے جائیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ ’میں بہت فخر سے اعلان کرتا ہوں کہ اسرائیل اور حماس دونوں نے ہمارے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام یرغمالیوں کو بہت جلد رہا کر دیا جائے گا، اور اسرائیل اپنی افواج کو ایک متفقہ لائن تک پیچھے ہٹا لے گا، جو ایک مضبوط، پائیدار اور دائمی امن کی طرف پہلا قدم ہوگا‘۔
ٹرمپ نے ثالثی کرنے والے ممالک قطر، مصر اور ترکیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’امن قائم کرنے والوں پر سلامتی ہو‘۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ دنیا کے لیے ایک عظیم دن ہے، ایک خوشی کا دن، سب کے لیے ایک شاندار دن‘۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ’منصوبے کے پہلے مرحلے کی منظوری کے ساتھ ہی ہمارے تمام یرغمالیوں کو وطن واپس لایا جائے گا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ اسرائیل کی ریاست کے لیے ایک سفارتی کامیابی اور قومی و اخلاقی فتح ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’استقامت، طاقتور فوجی کارروائی اور ہمارے عظیم دوست و اتحادی صدر ٹرمپ کی غیر معمولی کوششوں کے نتیجے میں ہم اس فیصلہ کن موڑ پر پہنچے ہیں‘۔
اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر کا ان کی قیادت، شراکت داری، اور اسرائیل کی سلامتی و یرغمالیوں کی آزادی کے لیے غیر متزلزل عزم پر شکریہ ادا کیا۔
اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم اپنے برادر ممالک قطر، مصر اور ترکیہ کے ثالثوں کی کوششوں کی دل سے قدر کرتے ہیں، اور ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان کوششوں کو بھی سراہتے ہیں جو جنگ کے مکمل خاتمے اور غزہ کی پٹی سے قبضے کے مکمل انخلا کے لیے کی جا رہی ہیں‘۔
حماس نے کہا کہ ’ہم صدر ٹرمپ، معاہدے کے ضامن ممالک اور تمام عرب، اسلامی و بین الاقوامی فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قابض حکومت کو اس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کرنے پر مجبور کریں اور اسے طے شدہ شرائط سے پہلو تہی یا عمل درآمد میں تاخیر سے روکیں‘۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم اپنے عظیم عوام کو سلام پیش کرتے ہیں، چاہے وہ غزہ کی پٹی میں ہوں، بیت المقدس، مغربی کنارے، یا وطنِ عزیز اور جلاوطنی کے مختلف مقامات پر جہاں کہیں بھی ہوں، جنہوں نے فسطائی قبضے کے ان منصوبوں کے سامنے بے مثال عزت، جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا جو ان کے خلاف اور ان کے قومی حقوق کے خاتمے کے لیے بنائے گئے تھے‘۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی ان قربانیوں اور ثابت قدم موقف نے اسرائیلی قبضے کے محکومی اور جبری بے دخلی کے منصوبوں کو ناکام بنایا‘۔
حماس نے مزید کہا کہ ’ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہمارے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، اور ہم اپنے عہد پر قائم رہیں گے، اپنے عوام کے قومی حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے، جب تک آزادی، خودمختاری اور حقِ خودارادیت حاصل نہیں ہو جاتا‘۔
ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ اس ہفتے مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کر سکتے ہیں کیونکہ معاہدہ ’انتہائی قریب‘ ہے۔
ایک ڈرامائی لمحے میں ’اے ایف پی‘ کے صحافیوں نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران مداخلت کرتے دیکھا،






