گھر کا خواب اور بینک کا جال – ایک معاشی و اسلامی جائزہ
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں بینک اپنی پالیسیوں اور حکمتِ عملیوں کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ عوام کو اپنے گھروں کے خواب پورے کرنے کے لیے قرض دیتے ہیں، مگر جب خود اپنی شاخ کھولنے کا معاملہ آتا ہے تو زیادہ تر کرائے کی عمارت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ مشاہدہ عام انسان کے لیے حیرت انگیز بھی ہے اور سوچنے پر مجبور کرنے والا بھی۔
بینک دراصل ایک کاروباری ادارہ ہے، جو نفع اور نقصان کے حساب کتاب پر چلتا ہے۔ ان کا مقصد زمین یا جائیداد کا مالک بننا نہیں بلکہ پیسہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ گھمانا اور منافع کمانا ہے۔ اگر وہ اپنی شاخ کے لیے بڑی رقم زمین یا عمارت خریدنے پر لگا دیں تو ان کا سرمایہ برسوں کے لیے جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس کرائے کی عمارت میں شاخ کھولنے سے وہی رقم دوسری جگہوں پر استعمال ہو کر مسلسل منافع کما سکتی ہے۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ بینک کا اصل کاروبار قرض دینا ہے، چاہے وہ رہائشی منصوبے ہوں، تجارتی سرگرمیاں ہوں یا صنعتی سرمایہ کاری۔ لوگ جب گھر خریدنے یا بنانے کے لیے قرض لیتے ہیں تو اس پر سود یا منافع کے نام پر بینک کو طویل مدت تک ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ یہی بینک کے لیے اصل نفع کا ذریعہ ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے یہاں ایک نہایت اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) ایسے کھڑے ہوں گے جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر دیوانہ بنا دیا ہو۔”
(سورۃ البقرہ، آیت 275)
عام آدمی جب مکان بناتا ہے تو وہ برسوں کی کمائی اور جمع پونجی لگا دیتا ہے۔ اس کے برعکس بینک اس سوچ پر چلتے ہیں کہ جائیداد میں پیسہ لگانا سرمایہ کو قید کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے نزدیک سب سے بڑی حکمت عملی یہی ہے کہ سرمایہ ہمیشہ حرکت میں رہے تاکہ نیا منافع پیدا کرے۔ مگر ایک مسلمان کے لیے اصل سوچ یہ ہونی چاہیے کہ سرمایہ صرف دنیاوی فائدے کے لیے نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی کے لیے بھی استعمال ہو۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔”
(صحیح بخاری، حدیث: 1410)
یہ رویہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ بینک اپنی مالی طاقت کو زمین یا پتھروں کی دیواروں سے نہیں ناپتے بلکہ اس بات سے ناپتے ہیں کہ ان کے پاس کتنی رقم گردش میں ہے اور وہ اس سے کتنے سودی منافع کما سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑے شہروں میں آپ دیکھیں گے کہ بیشتر بینک خوبصورت مگر کرائے کی عمارتوں میں بیٹھے ہیں۔ مسلمان کے لیے اصل طاقت مگر اللہ پر توکل اور حلال ذرائع سے کمایا ہوا مال ہے، نہ کہ سودی نظام پر مبنی سرمایہ۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل گھر وہ ہے جو آخرت میں بنایا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 2956)
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بینک جب کسی عمارت کو کرائے پر لیتے ہیں تو اس کے اندرونی ڈیزائن اور سہولتوں پر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں تاکہ صارفین کو لگے کہ یہ ایک پُر وقار اور مضبوط ادارہ ہے۔ اس طرح عام آدمی کبھی سوچ بھی نہیں پاتا کہ یہ شاندار برانچ اصل میں کرائے کی عمارت میں قائم ہے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ عمل یاد دہانی ہے کہ دنیا کی چمک دمک پر دھوکہ نہ کھائے بلکہ حقیقت کو سمجھے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا:
"اور دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہے۔”
(سورۃ آل عمران، آیت 185)
یہ ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے کہ بینک اپنی شاخوں کو مضبوطی اور وقار کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں، تاکہ عوام کا اعتماد جیت سکیں۔ مگر اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل وقار ایمان اور اخلاق سے ہے، نہ کہ بلند و بالا عمارتوں یا دنیاوی مال و دولت سے۔
اسی رویے سے ایک سبق عام لوگوں کو بھی ملتا ہے کہ سرمایہ کو غیر متحرک اثاثوں میں قید کرنے کے بجائے اسے کسی نہ کسی صورت حرکت میں رکھنا چاہیے۔ مگر یہ حرکت حلال دائرے میں ہونی چاہیے۔ قرآن میں ہے:
"اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ۔”
(سورۃ النساء، آیت 29)
بینک اس انسانی کمزوری کو بھی خوب سمجھتے ہیں اور اسی لیے ہاؤسنگ فنانس ان کے کاروبار کا سب سے بڑا حصہ بن چکا ہے۔ لوگ اپنی چھت کے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے کسی بھی قیمت پر قرض لینے پر تیار ہوتے ہیں اور بینک اسی خواب کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ مسلمان کے لیے بہتر یہ ہے کہ صبر کرے، حلال راستہ اپنائے اور اپنی استطاعت کے مطابق گھر بنائے، بجائے اس کے کہ سودی قرضوں میں جکڑ جائے۔
یہ تضاد بظاہر عجیب لگتا ہے کہ جو ادارے دوسروں کو جائیداد کے مالک بننے پر آمادہ کرتے ہیں وہ خود مالک بننے سے گریز کرتے ہیں۔ مگر کاروباری عقل مندی کے لحاظ سے یہ ایک منطقی حکمت عملی ہے۔ اسلام میں بھی حکمت اور تدبیر کو اہمیت دی گئی ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ مسلمان کو اپنی تدبیر ہمیشہ حلال ذرائع کے مطابق رکھنی چاہیے۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ بینک کا یہ رویہ ہمیں اس بات کا سبق دیتا ہے کہ پیسہ اپنے آپ میں منزل نہیں بلکہ ایک وسیلہ ہے۔ جو لوگ اسے حرکت میں رکھتے ہیں وہ وقت کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں، اور جو اسے غیر متحرک کر دیتے ہیں وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ لیکن مسلمان کے لیے اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے، سود سے بچے اور حلال روزی کو اپنا اصول بنائے۔
یہی وہ راز ہے






