سیلاب کے بعد سردی ۔۔اک نیا امتحان
احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان
سیلاب کو گزرے کئی ہفتے ہو چکے ہیں اور آج بھی بہاولپور ،احمدپور شرقیہ ،جلالپور پیر والا ،علی پور ،سیت پور ،اوچشریف جہانگڑہ شرقی اور دوسرے کئی علاقوں میں سیلاب زدگان کھلے آسمان تلے یا خیموں میں سیلابی پانی اترنے کے منتظر ہیں اور دور سے سیلاب کے پانی میں اپنے ڈوبے ہوۓ گھروں کو بڑی حسرت سے دیکھ رہے ہیں ۔دوسری جانب حالیہ سیلاب کے بعد سخت سردی کی یلغار اور بارشوں کی پیشن گوئی خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے ۔سردی کے ساتھ ساتھ دھند ،برفباری ،ژالہ باری اور یخ بستہ ہواوں کا جان لیوا انجانا سا خوف سیلاب زدگان کے لیے کسی نئے امتحان کی خبر دۓ رہا ہے ۔سیلان متاثرین جو اس سردی میں اپنے بچوں کو لے کر کھلے آسمان یا خیموں میں بیٹھے ہیں اور راشن کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی کے بھی منتظر ہیں ۔ذرا سوچئے ان کی مشکلات بغیر گرم کپڑوں یا کمبلوں کے اس سردی سے کس قدر بڑھ سکتی ہیں ؟ ایسے لوگ بھی ہیں کہ جنہیں چاروں طرف سے پانی نے گھیر ا ہوا ہے مگر وہ اپنے گھر کو کیسے چھوڑ یں ؟ پنجاب اور خصوصی جنوبی پنجاب میں اس سیلاب میں پھنسے خاندانوں کی مشکلات اور تکالیف کی بے شمار کہانیاں منظر عام پر آچکی ہیں ۔ہر کہانی کا اپنا الگ دکھ نظر آتاہے ۔ہر روز نکلنے والی سیلابی پانی تلے دبی لاشیں ان کے دکھ کو اور بھی سوا کردیتی ہیں۔ذرا تصور کریں چاروں طرف پانی ،بےگھری ،لاچاری ،بھوک اور پیاس ،ڈوبنے والوں کا دکھ ،سیلاب سے پھیلتی بیماریاں اور وبائیں اور پھر اپنوں کے ڈوبنے کا المناک دکھ کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ایسے میں سردی کی شدت میں اضافہ ان کے لیے ایک نیا اور تکلیف دہ امتحان بن کر آگیا ہے ۔ان حالات میں چھوٹے چھوٹےبچوں کے ساتھ یہ شدید سردی گزارنا کس قدر دشوار ہے اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو اس تکلیف سے کبھی گزراہو ۔
یادرہے کہ جب یہ سیلابی پانی اترتا ہے تو زمین خشک ہوکر سکھ کا سانس لیتی ہے ۔لیکن جن کے گھر خواب اور رشتے پانی بہا لے جاۓ ان کے دلوں کی زمین کبھی خشک نہیں ہوتی آنسوں کی جھڑی لگی رہتی ہے ۔سیلاب کی تباہیوں کے بعد ایک خاموشی سی تو ضرور آجاتی ہے مگر اس خاموشی میں چھپے بے بسی کے درد ،چیخیں اور محرومیاں کے نقوش ہمیشہ باقی رہ جاتے ہیں ۔ ہولناک سیلابی تباہی کے بعد اب فطرت کا نیا موسم "سردی” ان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے جو ان لوگوں کے لیے ایک نیا امتحان بن چکا ہے جو پہلے ہی اس آفت کے ہاتھوں اپنا سب کچھ گنوا چکے ہیں ۔جہاں چند دن پہلے دریا اور بارشوں کے پانی کا شور مچا تھا وہاں اب سردی کی ٹھنڈی ہواوں کی سرسراہٹ گونجنے لگی ہے ۔بچے کھچے کچے مکانوں کی سیلاب سے کمزور دیواریں اور چھتیں ان سرد ہواوں کو کیسے برداشت کرسکتی ہیں؟ پہلے وہ گرمی مین سایہ تلاش کرتے تھے اب سردی میں دھوپ کے متلاشی ہیں ۔بچے جو سیلاب کے باوجود بارش میں نہاتے تھے اب سردی کی نمی سے خوفزدہ ہیں ۔یہ سردی ان کے لیے صرف سردی نہیں بلکہ یادوں ،بھوک اور بےسہارگی کا امتزاج ہے ۔گیلی لکڑیاں جلا کر اپنے خیموں میں اپنی سانسوں کو گرم رکھنے کی کوشش میں مصروف لوگوں کے لیے یہ سردی صرف درجہ حرارت میں کمی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ معاشرے کے احساس کی کمی کو آشکار کرتی ہے جن کے گھر سلامت ہیں اور وہ گرم کمروں میں بجلی کے ہیٹر روشن کرکے خبر نامے میں ان لوگوں کی خبریں سن کر تبصرے کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ قومیں قدرتی آفات سے کبھی اسقدر کمزور نہیں ہوتیں جتنا احساس کی کمی سے کمزور ہوتی ہیں ۔سیلاب کے بعد کے مراحل ہمیشہ زیادہ خطر ناک ہوتے ہیں ۔جب سیلابی گندہ پانی کھڑا رہے تو وبائیں اور بیماریاں پھیلتی ہیں ۔کچے ہوں یا پکے گھر تو گر جاتے ہیں لیکن مایوسی کی دیواریں بلند ہو جاتی ہیں ۔ انسانی مدد کم ہو جاتی ہے مگر ضرورت بڑھ جاتی ہے ۔اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ریاست ،معاشرۓ اور ہر ذی شعور فرد کا امتحان شروع ہوتا ہے ۔
گو حکومتی ادارے دن رات ریلیف اور بحالی کی جدوجہد میں مصروف ضرور ہیں جو قابل تحسین ہے لیکن ایسی صورتحال میں ریاست کی ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے کیونکہ ریلیف صرف وقتی بندوبست نہیں بلکہ انسانی عزت اور وقار کی بحالی کا بھی نام ہوتا ہے ۔گو سردی کی شدت تو کم نہیں کی جاسکتی مگر تن کے کپڑے ،سر کی چادر ،گرم سویٹر اور ٹوپیاں ان تک پہنچانا تو ہمارے اختیار میں ضرور ہے ۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان سیلاب زدگان کو صرف زبانی ہمدردی نہیں بلکہ "ہم نصیبی ” کا تحفہ پیش کریں ۔کیونکہ موسم تو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں مگر انسانیت اور ہمدردی کا موسم ہمیشہ زندہ رہتا ہے ۔ہمارے ان آفت زدہ بھائیوں کو صرف حکومت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ہمدردی اور مدد کی ضرورت ہے ۔اتنے بڑے سانحے سے متاثر لوگوں تک مدد پہنچانا صرف اداروں کا کام نہیں ہے ۔ہم میں سے ہر ایک کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ایسا نہ ہو کہ جو افراد سیلاب کے پانیوں سے بچ گئے ہیں وہ اس سردی اور وبائی امراض کے بےرحم ہاتھوں اپنی تکالیف میں مزید اضافہ کر بیٹھیں ۔
ہمیں اپنی ریاستی ،سماجی، اخلاقی اور مذہبی ذمہ داریاں سمجھنی ا اور نبھانی ہوں گی ۔اب ضروت اس امر کی ہے کہ امدادی مرحلے کو وقتی نہیں بلکہ مستقل بحالی منصوبے کی شکل دی جاۓ ۔سیلا ب زدہ علاقوں میں عارضی خیموں کی بجاۓ مستقل رہائش کے فوری انتظامات کئے جائیں ۔ہیلتھ کیمپس ،موبائل کلینکس اور ویکسینیشن کی مہمات فوری طور پر فعال اور فراہم کی جائیں تاکہ سردی سے پھیلانے والی بیماریوں کا بروقت انسداد ہو سکے ۔بہتر ہو گا کہ ان متاثرین کو نزدیکی سرکاری عمارات میں منتقل کردیا جاۓ اور متاثرہ خاندانوں کو گرم کپڑے ،کمبل اور ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنایا جانا چاہیے ۔مقامی اسکولوں کالجوں ،سجاجی و فلاحی اداروں کی رضاکار ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو امداد اور آگاہی کے عمل میں شریک ہوں ۔ملک کی تمام این جی اوز کو اس جانب خصوصی توجہ دینا ہوگی ۔میڈیا اور سوشل میڈیا کو سانحات دکھانے کی بجاۓ امید اور شمولیت کی مہم چلانی چاہیے تاکہ عوامی تعاون میں اضافہ ہوسکے ۔ہماری مسجد اور منبر سے مدد کی آواز بلند ہونی چاہیے ۔
یہ وقت صرف حکومت یا ریاست کا نہیں بلکہ ہم سب کا امتحان ہے ۔ہمیں انفرادی ،اجتماعی طور پر ہر سطح پر حکومت کا ہاتھ بٹانا ہو گا ۔ایسی آفات سے صرف حکومتیں نہیں بلکہ پوری قوم نبردآزما ہوتی ہے ۔آئیں اپنے گرم کپڑوں میں سے اضافی کپڑے ضرورت مندوں کو دیں اور اپنے چاۓ کے کپ کی ایک پیالی کم کرکے کسی خیمے میں دودھ چینی اور پتی پہنچا دیں ۔راشن اور خوراک ان تک پہنچانا ہمارا اخلاقی ،معاشرتی اور مذہبی فریضہ ہے ۔میری معلومات کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں اس وقت سب سے اہم ضرورت پینے کا صاف پانی ہے ۔ انسانیت کے موسم وہی خوبصورت ہوتے ہیں جہاں احساس کی دھوپ باقی رہے ۔سیلاب نے ہماری زمیں کو زخمی کیا ہے اور اب سردی ان زخموں پر نمک چھڑک رہی ہے ۔لیکن اگر ہم سب مل کر تھوڑی سی گرمی ،تھوڑا سا پیار اور تھوڑا سا احساس بانٹ لیں تو شاید یہ موسم ان کے لیے بھی امید کی کرن بن سکے گا جو ان خیموں میں بیٹھے مایوسی کے اندھیروں میں روشنی کے منتظر ہیں ۔





