سو لفظوں کی کہانی حاصل
شاہد کاظمی
تنگ دستی ایسی تھی کہ سمجھ سے بالاتر تھا کہ ہوا کیا ہے،
پریشانیاں دن بدن بڑھتی جا رہی تھیں،
ہر حربہ کر لیا، مگر کامیابی جیسے روٹھ گئی تھی،
جتنی مشقت کرتا،
ایسا لگتا تھا کہ لاحاصل ہے،
دعائیں بھی جیسے بے سود ٹھہرائی جا رہی ہوں۔۔۔
دفتر سے واپسی پر کتا زخمی حالت میں دیکھا،
اس کو ایک طرف کر کے اسے دیکھا بھالا،
رحمدلی پہ خالق کو ایسا رحم آیا کہ عرصے کے رکے ہوئے کام ہونے لگے،
اپنا محاسبہ کیا،
جیسے سب سمجھ میں آ گیا،
اپنی روش بدلی،
تنگ دستی کا وقت بھی بدلنے لگا۔






