الفاظ کا امین، عہد کا شاہدالطاف حسن قریشی
منشا قاضی حسبِ منشا
جب صحافت کو محض خبروں اور کالموں کی دنیا تک محدود نہ سمجھا جائے بلکہ اسے قوموں کی فکری تشکیل اور اجتماعی شعور کی آبیاری کا وسیلہ مانا جائے، تو وہاں کچھ ایسی شخصیات جلوہ گر ہوتی ہیں جو اپنے قلم کے ذریعے صدیوں کی گونج اور آنے والے کل کے سفر کا تعین کرتی ہیں۔ انہی میں ایک نام ہے پاکستان کی علمی، فکری اور صحافتی دنیا کا معتبر حوالہ، سینئر صحافی، مصنف، سیاسی مبصر اور ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے مدیرِ اعلیٰ، جناب الطاف حسن قریشی۔
اردو ڈائجسٹ: ایک تحریک، ایک عہد
الطاف حسن قریشی نے اپنی زندگی کو اردو صحافت اور فکری صحافت کے ساتھ یوں وابستہ کیا کہ ان کی ذات خود ایک ادارے کی صورت اختیار کر گئی۔ 1959ء میں ان کے بڑے بھائی، محترم اعجاز حسن قریشی نے اردو ڈائجسٹ کی بنیاد رکھی اور الطاف حسن قریشی اس کے پہلے مدیر مقرر ہوئے۔ یہ محض ایک رسالہ نہ تھا بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم تھا جس نے پاکستان کے فکری مباحث، تہذیبی رویوں اور نظریاتی سمت کو تشکیل دینے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود الطاف حسن قریشی کی ادارت اور فکری بصیرت نے اس رسالے کو زندہ، فعال اور معتبر رکھا ہے۔
قریشی صاحب نے اپنی صحافتی زندگی ایسے وقت میں شروع کی جب 1960ء اور 1970ء کی دہائیاں نظریاتی کشمکش سے بھری ہوئی تھیں۔ ایک طرف کمیونزم اور سوشلسٹ تحریکوں کا زور تھا اور دوسری طرف مذہبی و اسلامی قوتیں ایک واضح سیاسی اور فکری نظام کے قیام کے لیے سرگرم تھیں۔ الطاف حسن قریشی اور ان کے بھائی نے اسلامی فکر کے قافلے میں شمولیت اختیار کی اور اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف اس موقف کی وکالت کی بلکہ اپنے قارئین کو یہ باور کرایا کہ پاکستان کی اساس اسلام ہے اور اس کی بقا بھی اسی نظریے سے وابستہ ہے۔
ان پر سید ابو الاعلیٰ مودودی کی تحریروں اور فکر کا گہرا اثر رہا، جس نے ان کی سوچ کو ایک نظریاتی سمت عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ قریشی صاحب نے کبھی اقتدار کی قربت یا وقتی مفاد کے لیے اپنی تحریروں کو مسخ نہ ہونے دیا بلکہ سچائی کو، خواہ وہ کتنی ہی کڑوی کیوں نہ ہو، اپنے قلم کا زیور بنایا۔
صحافت کا اصل امتحان وہی وقت ہوتا ہے جب زبان و قلم پر پابندیاں لگتی ہیں، جب حق بات کہنے والوں کو زندانوں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ الطاف حسن قریشی اور ان کے بھائی نے اپنے عہد کے مختلف ادوار میں یہی صعوبتیں برداشت کیں۔ انہیں کئی بار قید و بند کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑا مگر ان کا قلم جھکا نہیں۔ ان کی تحریروں میں وہی استقامت اور سچائی کی روشنی جھلکتی رہی جس کی بدولت انہوں نے اپنی نسل کو ایک فکری ہمت بخشی۔
قریشی صاحب کی سیاسی بصیرت کو اس وقت سب نے تسلیم کیا جب انہوں نے سقوطِ مشرقی پاکستان کے حالات پر اپنی گہری نظر ڈالی۔ ان کے تجزیات میں نہ جذباتی سطحیت تھی نہ وقتی تعصب، بلکہ ایک درد مند دل اور صاحبِ شعور نگاہ کی جھلک تھی۔ فوجی ادوار ہوں یا جمہوری ادوار، الطاف حسن قریشی نے ہمیشہ حکمرانوں کے سامنے آئینہ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں کو ہر مکتبِ فکر نے توجہ اور وقعت دی۔
تصنیفی ورثہ
ان کا ادبی و تحقیقی سرمایہ پاکستان کی فکری تاریخ میں ایک روشنی کی مانند ہے۔
ملاقاتیں – ایک ایسا سلسلہ جس میں وہ اہلِ فکر و ادب اور سیاست کے نمایاں چہروں سے مکالمہ کرتے ہیں۔
جنگِ ستمبر کی یادیں – 1965ء کی جنگ کا زندہ حوالہ جو ایک قومی تاریخ کا حصہ ہے۔
مقابل ہے آئینہ – حقیقت پسندانہ سیاسی مشاہدات۔
چھ نکات کی سچی تصویر – مشرقی پاکستان کی تحریک کا عینی اور فکری تجزیہ۔
مزید ملاقاتیں اور ملاقاتیں کیا کیا – بڑے بڑے قومی و بین الاقوامی شخصیات کے ساتھ فکری گفتگو۔
نوکِ زباں – قلم کی کاٹ اور فکر کی روشنی سے مزین تحریریں۔
یہ سب کتابیں نہ صرف تاریخ کے صفحات کو محفوظ کرتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے سبق آموز ہیں۔
ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ اس کے علاوہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی اور کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز نے انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا۔ مگر ان کے اصل اعزازات وہ محبت اور احترام ہیں جو انہیں عوام اور اہلِ علم کے دلوں سے نصیب ہوئے۔
آج جب صحافت کے میدان میں تیز رفتاری، سطحیت اور مفاد پرستی نے جگہ بنا لی ہے، الطاف حسن قریشی ایک ایسی علامت کے طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں جو بتاتی ہے کہ صحافت دراصل ایک مقدس امانت ہے۔ ان کی ذات یہ پیغام دیتی ہے کہ کاتبِ حق کو اپنے قلم کو ضمیر کے روشن چراغ سے جوڑنا چاہیے، ورنہ الفاظ کھوکھلے نعروں میں ڈھل جاتے ہیں۔
الطاف حسن قریشی کی زندگی دراصل پاکستان کی فکری تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ ان کے قلم نے کئی نسلوں کو سوچنے، سمجھنے اور شعور حاصل کرنے کی جرات دی۔ وہ محض ایک مدیر یا تجزیہ کار نہیں بلکہ وہ ایک فکری معمار ہیں جنہوں نے اردو صحافت کو وقار بخشا، اور پاکستان کے فکری و نظریاتی وجود کو مضبوط کیا۔ آنے والی نسلیں جب بھی فکری استقامت اور صحافتی دیانت کا حوالہ ڈھونڈیں گی، الطاف حسن قریشی کا نام روشنی کے مینار کی طرح سامنے آئے گا۔
الطاف حسن قریشی کی شخصیت ایک فلسفہ ہے—یہ فلسفہ کہ قلم محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ قوموں کی تقدیر بدلنے کا ہنر ہے۔ ان کی زندگی اس بات کا اعلان ہے کہ سچائی کے راستے پر چلنے والا فرد وقتی مصائب جھیل سکتا ہے مگر تاریخ اس کے نام کو ہمیشہ عزت سے یاد رکھتی ہے۔ وہ آج بھی ایک استاد، ایک رہنما اور ایک فکری معمار کے طور پر زندہ ہیں، اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ الطاف حسن قریشی اردو صحافت کے صرف ایک باب نہیں بلکہ ایک پورا عہد ہیں۔





