#کالم

کامل مسلمان کی پہچان: اخلاق اور کردار کی روشنی

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

منافق کی پہچان ان صفات میں ہے جو نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر بیان فرمائی ہیں۔ ایک طرف ایمان والے ہیں جو سچائی، امانت داری اور وعدے کی پاسداری سے پہچانے جاتے ہیں، اور دوسری طرف منافق ہیں جن کی زندگی جھوٹ، خیانت، وعدہ خلافی اور بدزبانی سے بھری ہوتی ہے۔

آج کے مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے کردار کو ان نشانیوں کے آئینے میں دیکھے اور سوچے کہ کہیں ہم نے اپنی عادات اور رویوں سے نفاق کو اپنی زندگیوں کا حصہ تو نہیں بنا لیا۔ جھوٹ بولنا عام بات سمجھی جانے لگی ہے۔ وعدہ کرنا اور پھر اس کی خلاف ورزی کرنا معمولی بات بن گئی ہے۔ امانت کو خیانت کے ساتھ لوٹانا، اور ذرا سا اختلاف ہونے پر گالی گلوچ تک پہنچ جانا ہماری روزمرہ کی عادتیں بنتی جا رہی ہیں۔

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف ورزی کرے، جب امانت دی جائے تو اس میں خیانت کرے، اور جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ پر اتر آئے، تو یہ منافق کی علامتیں ہیں۔

یہ بات آج کے انسان کے لیے نہایت بڑی نصیحت ہے۔ اسلام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان کا حسن صرف عبادات میں نہیں بلکہ کردار کی سچائی میں ہے۔ اگر سچائی، امانت داری اور وعدہ نبھانا ہماری زندگی کا حصہ نہیں تو ہماری عبادات بھی کمزور ہو جاتی ہیں۔

آج کے دور میں جب سچائی نایاب اور جھوٹ عام ہو گیا ہے، ایمان والے کے لیے یہ زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنے قول اور فعل کو برابر رکھے۔ ایک مومن کی زبان اور دل ایک جیسے ہونے چاہئیں۔

وعدے کے بارے میں ضرور سوال ہوگا۔ (الإسراء: 34، ترجمہ)۔ یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا میں جو وعدے ہم توڑتے ہیں، وہ آخرت میں ہمارے لیے پکڑ کا سبب بنیں گے۔

یہی تعلیم ہمیں اس بات پر لے آتی ہے کہ وعدے کی پاسداری صرف دنیاوی کامیابی نہیں بلکہ آخرت کی نجات کا ذریعہ بھی ہے۔

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری، مسلم، ترجمہ)۔ یہ تعلیم آج کے معاشرے کے لیے نہایت اہم ہے جہاں زبان کی سختی اور بدکلامی نے تعلقات کو برباد کر دیا ہے۔

اسی تعلیم سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان کی اصل حقیقت دوسروں کو امن دینا ہے، نہ کہ تکلیف۔

یہ سب تعلیمات ہمیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ کامل مسلمان وہ ہے جو نہ صرف نماز اور روزے میں آگے ہو بلکہ اخلاقیات اور کردار میں بھی دوسروں کے لیے مثال بنے۔

آج کے دور میں کامل مسلمان بننے کے لیے یہ لازمی ہے کہ ہم جھوٹ سے بچیں، وعدے پورے کریں، امانت میں خیانت نہ کریں اور جھگڑے کے وقت زبان کو قابو میں رکھیں۔

ایک اچھا مسلمان اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے آسانی کا ذریعہ بنتا ہے۔ وہ کسی کے ساتھ دھوکہ نہیں کرتا، کسی کو تکلیف نہیں دیتا، اور ہمیشہ خیر خواہی کرتا ہے۔

اگر کوئی ہم پر ظلم کرے یا زیادتی کرے، تو ہمیں بدلہ لینے کی بجائے معاف کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ یہی ایک بڑے دل والے مومن کی پہچان ہے۔

ہمارے معاشرے کی بہت سی برائیاں اسی وجہ سے پھیل رہی ہیں کہ ہم نے ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو معمولی سمجھ لیا ہے۔ لیکن یہی باتیں ایمان کی بنیاد ہیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہمیں "کامل مسلمان” کے نام سے یاد کرے تو ہمیں اپنی زندگی میں سچائی، امانت داری، وعدہ نبھانا، اور نرم اخلاق کو اپنانا ہوگا۔

کامل مسلمان وہ نہیں جو صرف عبادات میں نظر آئے بلکہ وہ ہے جس کا کردار، گفتار اور عمل سب کچھ ایمان کی روشنی کو ظاہر کرے۔

یہی وہ سبق ہے جو آج کی دنیا کے لیے نہایت ضروری ہے کہ ایمان کو زندہ رکھنے کے لیے نفاق کی نشانیوں سے بچنا اور اچھے اخلاق کو اپنانا ناگزیر ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے