غریب، منشیات اور باپ کاقتل
تحریر: محمد ندیم بھٹی
ہنجروال کی سرزمین ایک بار پھر خون سے رنگین ھو گئی۔ وہ گلیاں جو کبھی بچوں کے کھیلنے کی آوازوں سے آباد رہتی تھیں، وہاں اب کہرام مچا تھا۔ ایک نوجوان بیٹے نے اپنے ھی باپ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ خبر سادہ الفاظ میں شاید چند سطروں پر مشتمل ھو، لیکن اس کے پیچھے ایک پوری کہانی چھپی ھے، ایک ایسا دکھ بھرا المیہ جو ہمارے معاشرے کے زوال کی عکاسی کرتا ھے۔ علی رضا، جو نشے کی لعنت میں مبتلا تھا، جب اسے نشہ نہ ملا تو اس نے اپنے والد کے سر پر سلنڈر کے پے در پے وار کیے اور باپ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
یہ واقعہ محض ایک فرد کے قتل کی خبر نہیں، بلکہ ہمارے سماج کی اجتماعی بربادی کی گھنٹی ھے۔ ہم جس تیزی سے منشیات کے عفریت کے نرغے میں آتے جا رھے ہیں، یہ انہی نتائج کی ایک کڑی ھے۔ باپ نے جس بیٹے کو اپنی زندگی کے سائے تلے پالا، جس کے لئے دن رات محنت کی، اسی بیٹے کے ہاتھوں اپنی جان گنوانا والدین کی محبت کی تذلیل بھی ھے اور رشتوں کی حرمت کے ٹوٹنے کا اشارہ بھی۔
یہ سوال دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ھے کہ آخر ایک معاشرہ کس مقام پر پہنچ گیا جہاں اولاد والدین کے لئے رحمت کے بجائے زحمت بن جائے۔ جہاں والدین کے قدموں کو جنت کہا گیا، وہیں اب ان قدموں پر حملے کیے جا رھے ہیں۔ یہ محض ایک گھر کا سانحہ نہیں بلکہ اس معاشرے کے لئے آئینہ ھے جو غربت، منشیات اور بے روزگاری کے اندھیروں میں ڈوبتا جا رھا ھے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او ہنجروال اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رش اور ٹریفک سے بچنے کے لئے موٹر سائیکل پر موقع پر پہنچے۔ ان کی فوری موجودگی نے حالات کو قابو میں کیا۔ انہوں نے جائے وقوعہ کو محفوظ بنایا، اہل علاقہ کے غم و غصے کو سنبھالا اور شواہد اکٹھے کیے۔ یہ عمل عوام کے لئے باعث اطمینان تھا کہ پولیس اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں۔ ایسے لمحات میں پولیس کی بروقت موجودگی عوام کو یہ پیغام دیتی ھے کہ ریاست کمزور نہیں بلکہ ہر وقت تیار کھڑی ھے۔
اس کے بعد ایس پی سدرہ خان کی قائدانہ صلاحیت سامنے آئی۔ انہوں نے نہ صرف معاملے کو قریب سے مانیٹر کیا بلکہ انویسٹی گیشن ٹیم کو سخت ہدایات دیں کہ ملزم کسی بھی صورت قانون کی گرفت سے باہر نہ جا سکے۔ ان کی قیادت میں انویسٹی گیشن آفیسر محسن رفیق نے دن رات ایک کیا اور سفاک بیٹے کو گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاری پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت اور سنجیدگی کی عکاس ھے۔ بعد ازاں ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور چالان جمع کرایا گیا تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
ایسے کیسوں میں اکثر یہ دیکھا گیا ھے کہ ملزمان طویل عرصے تک روپوش رہتے ہیں اور متاثرہ خاندان انصاف کے لئے برسوں دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ھے۔ لیکن یہاں معاملہ مختلف تھا۔ ایس پی سدرہ خان کی قیادت نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ھو اور کام دیانت داری سے کیا جائے تو انصاف میں تاخیر نہیں ھوتی۔
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ علی رضا آخر اس مقام تک کیوں پہنچا؟ منشیات کی عادت کیسے بنی؟ معاشی حالات نے اسے کس طرح ذہنی دباؤ کا شکار بنایا؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جواب تلاش کیے بغیر ہم آئندہ ایسے سانحات کو روک نہیں سکتے۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ بے روزگاری اور غربت نے علی رضا کو منشیات کی دلدل میں دھکیل دیا تھا۔ جب انسان کو روزگار نہ ملے، تعلیم کی سہولت نہ ملے اور سماج اسے بے یارو مددگار چھوڑ دے تو وہ جرم اور نشے کی طرف مائل ھو جاتا ھے۔
منشیات صرف ایک فرد کی بربادی نہیں بلکہ پورے خاندان کی تباہی ھے۔ نشئی بیٹا صرف اپنے والدین کے لئے عذاب نہیں بنتا بلکہ معاشرے کے لئے بھی ایک خطرہ بن جاتا ھے۔ وہ نہ عزت کی پرواہ کرتا ھے نہ رشتوں کا احترام۔ یہی وجہ ھے کہ آج ہمارا معاشرہ قتل، چوری، ڈکیتی اور گھریلو تنازعات کے اندھیروں میں ڈوبا ھے۔
اگر ہم نے ابھی بھی ھوش کے ناخن نہ لیے تو نہ جانے کتنے والدین اپنے بچوں کے ہاتھوں لقمہ اجل بن جائیں گے۔ یہ معاملہ صرف پولیس کی کارکردگی یا گرفتاریوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک سماجی ناسور ھے جسے جڑ سے ختم کرنے کے لئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ھے۔ حکومت کو چاہیے کہ غربت کے خاتمے اور بے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف سخت ترین اقدامات کیے جائیں۔ محلے، گلیاں اور کمیونٹیز مل کر منشیات فروشوں کی نشاندہی کریں۔ یہ کام صرف پولیس پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
پولیس اپنی جگہ بہترین کام کر رھی ھے۔ پولیس کی تیز ترین کاروائی نے یہ ثابت کیا کہ اگر نیت سچی ھو تو انصاف تاخیر کا شکار نہیں ھوتا۔ مگر سوال یہ ھے کہ کیا پولیس ہر گھر میں جا کر کسی باپ کو بیٹے کے ہاتھوں قتل ھونے سے روک سکتی ھے؟ یقیناً نہیں۔ اس کے لئے ہمیں بحیثیت قوم اپنی اجتماعی ذمہ داری ادا کرنا ھوگی۔
ہنجروال کا یہ المیہ ہمیں رلا بھی رھا ھے اور جگا بھی رھا ھے۔ یہ چیخ رھی ھے کہ اب مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم اور شعور دیں، ان کے دوستوں اور مشاغل پر نظر رکھیں۔ معاشرہ اپنے رشتوں کی تقدیس بحال کرے۔ حکومت منشیات فروشوں کے خلاف سخت ترین اقدامات کرے۔ اور پولیس اپنی یہ روایت قائم رکھے کہ ہر مجرم چند گھنٹوں میں قانون کی گرفت میں آئے۔
یہ واقعہ اس بات کا اعلان ھے کہ اگر ایک طرف جرم بڑھ رھا ھے تو دوسری طرف انصاف بھی زندہ ھے۔ اگر ایک طرف اولاد والدین کی عزت کو پامال کر رھی ھے تو دوسری طرف پولیس اپنی محنت سے معاشرے کو تحفظ دے رھی ھے۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ھے کہ ہم کس طرف کھڑے ھوتے ہیں۔ اگر ہم نے خاموشی اختیار کی تو کل ہر گھر میں ایک علی رضا پیدا ھو سکتا ھے۔ اگر ہم نے متحد ھو کر قدم اٹھایا تو یہ معاشرہ اب بھی بچ سکتا ھے۔
یہ تحریر ایک سانحہ کی روداد
ھی نہیں بلکہ ایک پکار بھی ھے۔ ریاست اور عوام مل کر اپنی ذمہ داری نبھائیں، ورنہ غربت، بے روزگاری اور منشیات کے ہاتھوں یہ معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھوتا رھے گا۔ ہنجروال کا یہ واقعہ ہمارے لئے ایک وارننگ سے کم نہیں ھے۔




