#کالم

پاکستان و سعودیہ کا دفاعی معاہدہ اور اس کے عالمی سطح پر اثرات

اورنگزیب اعوان

اورنگزیب اعوان

پاکستان نے اپنی دفاعی ٹیکنالوجی سے دنیا کو یہ بات باور کروا دی ہے. کہ اس کی دفاعی طاقت کسی سے کم نہیں. پاکستان سے سات گنا بڑا دشمن بھارت جو اپنی فوجی طاقت پر بڑا مان کرتا تھا. امریکہ اور اسرائیل اس کی پشت پناہی کرتے تھے. کیونکہ ان کی نطروں میں یہ بڑا بدمعاش ملک تھا. وہ سمجھتے تھے. کہ اپنے اس کرایہ کے بدمعاش کو جب چاہیے. جس سے چاہیے لڑوا سکتے ہیں. مطلب اس کو کسی کے گلے بھی پڑوا سکتے ہیں. اسی غلط فہمی میں انہوں نے پاکستان کے خلاف اس کو مہم جوئی پر آمادہ کیا. اس نے اپنی جھوٹی طاقت کے نشہ میں پاکستان کے خلاف محاذ آرائی شروع کر دی. پاکستان نے اسے بہت سمجھایا کہ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں. اس سے دونوں طرف انسانی جانوں کا ضیاع ہوگا. مگر اس کی سمجھ میں یہ بات ہرگز نہ آئی. تین دن یہ پاکستان کی فضائی و سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتا رہا. بالآخر چوتھے روز پاکستان کی بہادر فضائیہ نے علی الصبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد بھارت کو اس کی زبان میں سبق سیکھانے کا پروگرام تشکیل دیا. ہمارے بہادر شاہینوں نے اس کی سرحد کے اندر جا کر اس کے دفاعی نظام کو ناصرف ناکارہ کیا. بلکہ اس کی اینٹ سے اینٹ سے بجا دی. رافیل جنگی طیارے جن کے بل بوتے پر بھارت اکڑ رہا تھا. پاکستان کی بہادر شیر دل فضائیہ نے اس کو اس طرح دبوچا کہ اس کو بنانے والے ملک فزانس کو فکر لاحق ہو گئی. کہ پاکستان کے پاس وہ کون سی ٹیکنالوجی ہے. جس نے ہمارے جنگی طیاروں کو پلک جھپکنے میں مار گرایا ہے. بھارت کے ائیر بیس کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے تھے. بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جو بہت بول رہا تھا. اس دن کے بعد عالمی منظر نامہ سے غائب ہے. امریکہ نے بھارت کی بربادی اور بے بسی کو دیکھتے ہوئے. پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور آرمی چیف حافظ سید عاصم منیر سے جنگ بندی کی درخواست کی. جس کو پاکستان نے قبول کیا. اور جنگ بندی کا اعلان کیا. پوری دنیا میں آباد پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند ہو گئے. کہ ان کی بری ،بحری اور ہوائی افواج نے محض چند گھنٹوں میں دشمن کے ڈانٹ کھٹے کر دیئے. اور اس کو دھول چٹا دی. ایک طرف پاکستانی قوم فتح کا جشن منا رہی تھی. اور اللہ تعالیٰ کے حضور شکر بجا لا رہی تھی. تو دوسری طرف دنیا ورطہ حیرت میں مبتلا تھی.کہ یہ کیسے ممکن ہو گیا. یہ سارا کھیل اسرائیل کی ایماء پر کھیلا گیا تھا. اسرائیل پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو جانچنا چایتا تھا. کیونکہ اسرائیل مسلم دنیا کے خلاف ایک بڑی جنگ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے. اس سے قبل وہ پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا تھا. مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور منظور تھا. اللہ رب العزت نے اسرائیل اور بھارت کے منصوبہ کو خاک میں ملا دیا. اور پاکستان کو فتح کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں منفرد مقام عطا کیا. آج جس کا اعتراف ساری دنیا کر رہی ہے. پاکستان کی دفاعی طاقت کے چرچے دنیا بھر کے گلی کوچوں میں گونج رہے ہیں اسلامی ملک سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ امریکہ بہادر کے ساتھ کیا ہوا تھا. کہ اگر کوئی بیرونی طاقت سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا آغاز کرے. تو اس کا دفاع امریکہ نے کرنا ہے. مگر وقت نے ثابت کر دیا. کہ امریکی اور اسرائیلی اسلحہ رکھنے کے باوجود پاکستان نے بھارت کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا ہے. سعودی عرب کی حکومت نے سر جوڑ کر سوچا کہ ہمارا برادر اسلامی ملک پاکستان اگر ان ممالک کو شکست دے سکتا ہے. وہ ہمارا دفاع بھی کر سکتا ہے. اس نے امریکہ سے اپنا دفاعی معاہدہ فی الفور ختم کیا. اور پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل حافظ سید عاصم منیر کو سعودی عرب کے سرکاری دورے کی دعوت دی. اس سرکاری دورہ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پایا. اس معاہدہ کی رو سے سعودی عرب پر کسی بھی قسم کا حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا. جس کا بھرپور جواب دیا جائے گا. اس دفاعی معاہدہ نے اسرائیل کی نیندیں اڑا کے رکھ دی ہے. پاکستان نے اپنے جدید ترین جنگی طیارے اور میزائل سعودی عرب منتقل کر دئیے ہیں. سعودی عرب سے محض چند سو کی مسافت پر اسرائیل ہمارے میزائلوں کے نشانہ پر ہے. اس کی ایک چھوٹی سی غلطی اس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے کافی ہے. پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ اقتصادی معاہدہ بھی ہے. دفاع کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے بھی ہوگے. جس سے دونوں ممالک مستفید ہو سکے گے. پاکستان کی کامیابیوں کا یہ سفر یہی نہیں رکا. امریکہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران بھی پاکستان کو ایک منفرد حیثیت بخشی گئی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل حافظ عاصم منیر کا انتہائی پرتپاک استقبال کیا. اور بھارت کو جواب دیا. کہ اب پاکستان سے اس کی دوستی نئے دور میں داخل ہونے جا رہی ہے. اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے. پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے برملا کہا ہے. کہ اگر امریکی صدر پاکستان کو جنگ بندی کا نہ کہتے. تو آج بھارت دنیا کے نقشہ پر نہ ہوتا. امریک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے. دنیا میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے. اگر ڈونلڈ ٹرمپ حقیقت میں دنیا کو جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں. تو انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد کیا جانا چاہیے. جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے مثبت جواب دیتے ہوئے. یقین دہانی کروائی ہے. کہ وہ ہمیشہ دنیا میں قیام امن کی کوشش کو فروغ دے گے. اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دیگر عالمی رہنماؤں

پاکستان و سعودیہ کا دفاعی معاہدہ اور اس کے عالمی سطح پر اثرات

بات بنتی گئی۔۔۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے