پاکستان کے مجوزہ امن فارمولے پر خدشات
اج کا اداریہ
پاکستان نے غزہ امن فارمولے میں تحریف پر خدشات کا اظہا کر دیا ہے’ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ یہ منصوبہ اُن نکات سے مختلف ہے جو آٹھ مسلم ممالک نے تجویز کیے تھے۔
اسحاق ڈار کے مطابق ٹرمپ کے منصوبے میں جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور جبری بے دخلی کے خاتمے جیسے اہم نکات شامل نہیں، اس لیے پاکستان اس کی تائید نہیں کرتا اور کہا: ’یہ ہماری دستاویز نہیں ہے۔‘
یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس پر امن منصوبے کے نکات شیئر کرنے اور اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اور صدر ٹرمپ کی ملاقات سے گھنٹوں پہلے ہی پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس امن منصوبے کا خیر مقدم کیا تھا اور کہا تھا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہوں، جس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے۔۔
امن منصوبے کے اعلان کے موقع پر صدر ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اُن کے غزہ منصوبے کے ’100 فیصد‘ حامی ہیں۔
اور پھر اگلے ہی روز وزیر خارجہ اسحاق ڈار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے سے کچھ فاصلہ اختیار کرتے دکھائی دیے۔
پاکستانی حکومت کے اِس بدلتے موقف کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ اچانک تبدیلی کیوں رونما ہوئی؟ کیا پاکستان نے ابتدا میں ٹرمپ کے منصوبے کی حمایت کرنے میں جلدبازی کا مظاہرہ کیا تھا؟ کیا حالیہ موقف کی تبدیلی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اصرار پر منصوبے میں کی گئی ترامیم کا ردعمل ہے، یا اس کے پیچھے پاکستان کا اندرونی سیاسی دباؤ اصل وجہ ہے؟
خیال رہے ٹرمپ کے غزہ منصوبے اور پاکستان کی جانب سے اس کی حمایت پر پاکستانی سیاستدانوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے وسیع پیمانے پر تنقید کی گئی ہے۔
’ٹائمز آف اسرائیل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق نتن یاہو نے ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اس معاہدے میں کچھ تبدیلیاں کروائی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان ترامیم کے تحت اسرائیلی فوج کی غزہ سے واپسی اب مخصوص شرائط سے مشروط ہے اور ایک حفاظتی زون قائم کرنے کی تجویز بھی بعد میں شامل کی گئی ہے۔ اس سے قبل پیش کردہ منصوبے میں اسرائیل کی ریڈ لائنز کے حوالے سے وضاحت کم تھی۔
اگرچہ ٹرمپ امن روڈ میپ میں 8اسلامک، عرب ممالک کی خواہش کے احترام میں انیسواں پوائنٹ یہ واضح کرتا ہے کہ امریکا خود اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات شروع کروائے گا تاکہ پرامن بقائے باہمی کیلئے ایک سیاسی افق طے کیاجاسکے۔یہ امر بہرصورت واضح رہنا چاہیے کہ غزہ امن منصوبے کا بنیادی مقصد دو برسوں سے جاری اس خونریز جنگ کا خاتمہ ہے جو اتنے بے گناہوں کی جانیں لے چکی ہے جس سے ہنستے بستے شہر اور قصبے کھنڈرات کے ڈھیر بن گئے۔ تباہ حال انفرسٹرکچر میں خیمہ بستیوں کی باتیں ہورہی تھیں بلکہ اس نوع کی تجاویز زیربحث تھیں کہ کیوں نہ عوام ہی کو مختلف گروہوں میں بانٹتے ہوئے دیگر ممالک میں بسانے کا اہتمام کردیاجائے نتیجتاً اسرائیل غزہ ہی نہیں ویسٹ بنک کا الحاق بھی اپنی ریاست کے ساتھ کرلے۔ اب کم از کم ٹرمپ کے اس امن منصوبے میں یہ صراحت کردی گئی ہے کہ بحوالہ پوائنٹ نمبر16اسرائیل نہ تو غزہ پر قبضہ کرے گا اور نہ ہی اس کے کسی حصے کوضم کرے گا، اسرائیلی سیکیورٹی فورسز جونہی انخلا کریں گی انٹرنیشنل ڈیفنس فورس مرحلہ وار اسکا کنٹرول لیتے ہوئے یہاں استحکام قائم کرئیگی۔ اگر حماس اس امن روڈ میپ کو مسترد کردے گی یا تاخیری حربے اختیار کرے گی تب بھی انٹرنیشنل ڈیفنس اورسٹیبلٹی فورسز ان خطوں میں پرامن امدادی کارروائیاں جاری رکھیں گی جو ان کے حوالے کردیے گئے ہونگے۔ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کا اولین نکتہ ہی یہ ہے کہ غزہ کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے پاک خطہ بنایا جائے جو اپنے ہمسایوں اسرائیل اور مصر کیلئے خطرہ نہ ہو۔ یہاں یہ امر واضح کرنا ضروری ھے کہ اس غزہ امن منصوبے کا اصل نقصان نہ توکسی عام فلسطینی کو ہے اور نہ اسرائیلیوں کو، نہ ہی کسی عام عرب یا غیر عرب کو، اس کا اصل ٹارگٹ صرف اور صرف حماس ہے جسکے کارکنوں کو عام معافی اور لائف سیکیورٹی کی ضمانت دی گئی ہے، شق نمبر6 کے مطابق یرغمالیوں کی رہائی اور قیدیوں کے تبادلے کی کارروائی ہونے کے بعد حماس کے وہ ارکان جو پرامن بقائے باہمی پر راضی ہوں اور ہتھیار ڈال دیں انہیں عام معافی دی جائے گی جو غزہ میں رہنا چاہیں رہیں اور جو چھوڑنا چاہیں انہیں محفوظ رستہ دیاجائے گا اور قبول کرنیوالے ممالک جانے کی سہولت دی جائیگی اس کے باوجود گمان ہے کہ حماس چونکہ اس منصوبے کو اپنی سیاست یا طاقت کا خاتمہ سمجھ رہی ہے وہ اسے مسترد کردئیگی حالانکہ اب اسے کوئی بڑی بیرونی سپورٹ حاصل نہیں رہی سوائے ایران کے جسکی رسائی پہلے ہی کم ہوچکی ہے نیز ترکیہ یا قطر بھی اب سوائے محدود مالی امداد کے کوئی زیادہ تعاون کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے ، چنانچہ بہتر راستہ تو یہی دکھائی دیتا ہے کہ حماس اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے۔ کہا جا رہا ہے کہ روڈ میپ کی سب سے خوبصورت شق 18 ہے جسکے مطابق ایک انٹرریلیجن ڈائیلاگ کا عمل شروع کیاجائیگا تاکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی باہمی منافرتوں کو ختم کیاجائے اور ذہنی و فکری طور پر امن کے فوائد اجاگر کیے جاسکیں
تاہم فارمولے میں ترامیم نے خدشات کو جنم دیا ہے۔
پاکستان سمیت عرب اور اسلامی ممالک نے معاہدے کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے اُس کے مطابق انھوں نے غزہ کی تعمیر، اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور امن کے قیام کے بین الاقوامی قوانین کے تحت دو ریاستی حل کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کی تشکیل کی پر اتفاق کیا ہے جس میں غزہ مغربی کنارے کے ساتھ فلسطین ریاست کا حصہ ہو گا۔
اس میں عالمی عدالت برائے انصاف کے اس فیصلے کو بطور قانونی حوالا لیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کا فلسطینی اراضی پر






