کوئی ھم سا ھو گا؟
جمع تفریق۔۔۔ ناصر نقوی
دم میں دم ہے تو ہم ہیں ورنہ کچھ نہیں، مالک و خالق نے اپنے نور کا ایک ذرہ آ دم کی اولاد کو دے کر مٹی کے پتلے کو زندگی دی تو وہ سمجھتا ہے کہ جیسے اسے ہی سب کچھ مل گیا ہے ؟ اس کی اکڑ, تکبر ,غرور اس وقت تک ختم نہیں ہوتا ,جب تک دم میں دم ھےحالانکہ ہم ، آ پ اور سب روزانہ لوگوں کا دم نکلتے اور غریب، امیر ،طاقتور، صاحب منصب اور اعلی منصب کو مٹی کی ڈھیری بنتے دیکھتے ہیں، پھر بھی اسی غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ جیسے اس کی باری آ ئی ہے ہماری نہیں آ نی، جبکہ ابھی ہنستے بستے گھروں کو اجڑتے اور خاندانوں کو بے آ باد ہوتے دیکھا ہے، اچھی بھلی فصلیں پانی بہا کر لے گیا، مال مویشی سے مالدار گھرانے بھی بے مال ہو گئے، حقیقت یہی ہے کہ آ ج کیا ہے؟ کل کیا ہوگا؟ صرف مالک و خالق ہی جانتا ہے پھر بھی ہم فخریہ دندناتے پھر رہے ہیں, ہم صرف لمحہ موجود کے قائل ہیں مستقبل کی کسی کو فکر لاحق نہیں کیونکہ یہ ایمان ہے کہ کل کس نے دیکھی ؟ امید پر دنیا قائم ہے اس لیے ہم سب محبت دنیا میں اگلی دنیا کو بھول کر مگن ہیں بلکہ ایسے مگن ہیں کہ کسی کی فکر ہی نہیں، صرف ہم ہیں تو دنیا ہے، ہم نہیں تو دنیا جائے بھاڑ میں، اس قدر مطلب پرستی کلمہ حق اور دین اسلام میں ناحق ہے لیکن سب جانتے بوجھتے بھی اپنے اور اپنی نئی نسل کے کل کے لیے وہ کچھ نہیں کرنا چاہتے ،جو حالات و واقعات کا تقاضا ہیں، اچھے اور خوشحال گھرانے کے بزرگ سے پوچھیں کہ کیا حال ہے آ پ کا ؟ تو جواب یہی ملتا ہے الحمدللہ، دعا کریں زندگی کا انجام اچھا ہو، ہمارے ھمصروں میں ایسا لگتا ہے کہ٫٫ پت جھڑ،، کا موسم ہے یہ بات درست بھی ہے کہ فصل اب پکی ہوئی ہے باری باری انہی کی کٹائی ہوگی۔۔۔ پہلے ہمارے ساتھی نجی ٹی وی اسلام آ باد سے وابستہ سینیئر صحافی مظہر اقبال ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئے، افسوس ہوا کہ ناگہانی غیر طبعی حادثاتی موت کا شکار ہو گئے، ابھی ان کی مغفرت کی دعائیں ہی مانگ رہے تھے کہ شہر لاہور کے جانے پہچانے ہر دل عزیز صحافی نعیم اقبال کی اس جہان فانی سے رخصتی کی خبر بجلی بن کر گری، سوائے دکھ اور افسوس کہ کوئی کچھ نہیں کر سکا، دونوں قریبی دوست ساتھی اور صحافی برادری کے اہم فرد تھے اللہ اگلی منزلیں آ سان کرے ،غلطی، کوتاہی اور گناہوں سے درگزر کرے مرحومین کا اقبال بلند کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل کے ساتھ آ سانیاں پیدا کرے، یہ دنیا جسے ہم جہان فانی کہتے ہیں ہوئے بھی اپنے مستقبل اور طویل رہائش گاہ سمجھتے ہیں اپنی زندگی کو آ رائشوں سے آ راستہ کرنے کی خواہشوں میں ہر جائز و ناجائز اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں جبکہ حقیقت یہی ہے٫٫ کیہ دم دابھروسہ یار دم آ وے نہ آ وے ،،خدائے بزرگ و برتر نے اپنے نسخہ کیمیا قر آ ن مجید میں زندگی اور موت کا فلسفہ ایک سے زیادہ مرتبہ بیان فرمایا ہے لیکن زور موت و حیات کی تکرار میں پہلے موت کی کرائی ہے یعنی دنیا میں آ نے والوں، زندگی پانے والوں کو پہلے موت کی خبر دی گئی پھر حیات کی بات ہوئی، لازوال رب العزت نے حیات کا اختتام موت کو قرار دیتے ہوئے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ دنیا میں کسی کا آ نا ضروری نہیں لیکن واپسی ضروری ہے پھر بھی نسل آ دم موت کو ہی نہیں بلکہ اگلی زندگی اور یوم جزا و سزا کو بھولی ہوئی ھے فرمان خداوندی ہے کہ حقوق اللہ کی معافی اور درگزر ممکن ہے لیکن ٫٫حقوق العباد،، کی معافی متاثرہ فرد ہی دے گا اس کا متبادل نہیں ,میرا اصول ہے کہ دنیا سے رخصت ہونے والا دوست ہو کہ دشمن, رحلت کی خبر ملتے ھی فورا اسے دنیاوی غلطیوں پر معاف کر دیا جائے، جذبہ صرف یہ ہے کہ ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہونے والا ہماری وجہ سے کسی مشکل میں گرفتار نہ ہو، آ پ سب سے بھی یہی التجا ہے کہ اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی کا انداز اپنائیں، انسان غلطی کا پتلا ہے لہذا رخصت ہونے والوں کا بوجھ جو ہم کم کر سکتے ہیں وہ کر گزریں تاکہ کل جب ہماری باری آ ئے تو لوگ ہمیں بھی غیر مشروط معافی دے دیں،
حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم اور آ پ صرف جانے والی کی بیماری اور عمر سے اندازے لگاتے ہیں لیکن مسلہ یہ نہیں، ابھی کالم مکمل نہیں ہوا تھا کہ ایک اور دوست ٫٫پاکستان ٹائمز،، کے ساتھی رانا لطیف اطہر بھی مختصر عدالت کے بعد دنیا چھوڑ گئے یقینا ان کی عمر بھی ہمصروں والی ہے 19، 20 کا فرق بھی ہوگا لیکن میں تو عجیب صورتحال سے آ گاہ ہوں، محلے دار رانا انیس کی صاحبزادی یونیورسٹی سے واپس آ ئیں، ایک بھائی نے انہیں بس سٹاپ سے لے کر گھر پہنچایا ،ایک سموسہ کھلایا، خود دو سموسے کھائے اور بہن کو اکیلا گھر چھوڑ کر اکیڈمی چلا گیا ،چند منٹوں بعد لڑکی نے ماں کو فون کیا کہ جلدی آ جاؤ، میری طبیعت کچھ خراب ہے ماں مذہبی محفل سے نکل کر ھاپتی کانپتی گھر پہنچی، دروازہ کھٹکھٹایا نہیں کھلا، بڑبڑائی کہ مجھے بلا کر خود سو گئی ہے، محلے داروں کی مدد سے دروازہ کھلوا کر اندر گئی تو گہری نیند سو رہی تھی، جیسے بہت ہی سکون میں ہو، ماں نے آ واز دی تو پتہ چلا کہ وہ تو ابدی نیند سو چکی ہے کانوں میں ہینڈ فری اور سینے پر قیمتی موبائل پڑا تھا ،ماں حواس باختہ ہو گئی، چیخی چلائی لیکن وقت آ خر آ چکا تھا کوئی کچھ نہ کر سکا، نہ ہی کر سکتا تھا البتہ کسی خیر خواہ میں نے15 پر فون کر کے اہل خانہ کو ایک نئی مصیبت میں ڈال دیا ،جوان بیٹی کا صدمہ،





