ڈوپامین (dopamine) اور سوشل میڈیا کی رِیلز کی لت: ایک خاموش بیماری
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
دماغ میں موجود ڈوپامین (dopamine) وہ کیمیائی مادہ ہے جو خوشی، انعام اور سکون کے احساس سے جڑا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود تمام رِیلز، جیسے TikTok، YouTube Shorts، Facebook رِیلز اور دیگر کئی پلیٹ فارمز خاص طور پر اس لیے ڈیزائن کی گئی ہیں کہ آپ کو مسلسل نیا، دلچسپ اور فوری طور پر دلکش مواد دکھائیں، جس سے دماغ میں بار بار ڈوپامین خارج ہوتا ہے۔ یہ وقتی خوشی کا جال بناتا ہے اور صارف کو مزید دیکھنے پر مجبور کرتا ہے، کبھی کبھی یہ عادت حد سے زیادہ بڑھ کر مجبور کن عادت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مستقل ریلیز دماغ کے انعامی نظام کو دوبارہ ترتیب دے سکتی ہے، جس کے نتیجے میں آپ کو پہلے جیسا سکون حاصل کرنے کے لیے مسلسل نیا محرک چاہیے ہوتا ہے، اور اسی وجہ سے اسکرولنگ روکنا ناممکن لگنے لگتی ہے۔
یہاں میں سب سے پہلے ایک بات دل سے کہنا چاہوں گا۔ شاید کچھ لوگ سوچیں کہ میں ہمیشہ سوشل میڈیا رِیلز کے خلاف بات کرتا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میری یہ رائے کسی تعصب کی وجہ سے نہیں، بلکہ ایک تجربے اور شعوری انتخاب کا نتیجہ ہے۔ میں کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہوں اور برسوں سے اس فیلڈ میں کام کر رہا ہوں، لیکن میں نے خود کو ان مختصر ویڈیوز سے دور رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ان کے اثرات اور خطرات کو اتنی وضاحت سے سمجھ سکتا ہوں۔
یقین مانیں، آج بہت سے لوگ ان رِیلز کے عادی ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر زندگی ادھوری ہے۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ جب آپ کچھ وقت کے لیے خود کو ان سے الگ کرتے ہیں، تو دماغ میں ایک عجیب سا سکون، اطمینان اور اندرونی خوشی پیدا ہوتی ہے۔ یہ وہ سکون ہے جو مصنوعی خوشیوں میں کبھی نہیں ملتا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ مکمل طور پر سوشل میڈیا چھوڑ دیں، بلکہ اتنا ضرور کہتا ہوں کہ اپنی توجہ حقیقی زندگی پر مرکوز کریں، نہ کہ چوبیس گھنٹے موبائل سکرین پر پھنس کر وقت ضائع کرنے والی رِیلز پر۔
سوشل میڈیا پر موجود تمام رِیلز انسان کے ذہن کو وقتی خوشی دیتی ہیں۔ چند سیکنڈ کی ویڈیوز دماغ کو دلچسپی اور عارضی سکون فراہم کرتی ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ یہ خوشی عارضی ہوتی ہے۔ جیسے ہی ویڈیو ختم ہوتی ہے، انسان دوبارہ اگلی ویڈیو کی طلب محسوس کرتا ہے۔ اس طرح وہ ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں پھنس جاتا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں سے لت شروع ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جان بوجھ کر ایسا نظام بناتے ہیں کہ صارف مسلسل اگلی رِیل دیکھنے پر مجبور ہو۔
اس مسلسل استعمال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دماغ اصل زندگی کی خوشیوں سے کٹنے لگتا ہے۔ وہی چیزیں جو پہلے سکون دیتی تھیں، اب غیر دلچسپ محسوس ہونے لگتی ہیں۔
طالب علم اپنی پڑھائی پر توجہ نہیں دے پاتے، ملازمین کام میں دلچسپی کھو دیتے ہیں، اور نوجوان حقیقی زندگی کے رشتوں کو پسِ پشت ڈال کر سکرین کے سامنے قید ہو جاتے ہیں۔
لت کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ انسان وقت کے گزرنے کا احساس کھو دیتا ہے۔ رِیلز دیکھتے دیکھتے گھنٹے لمحوں کی طرح گزر جاتے ہیں، اور انسان کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ قیمتی وقت ضائع ہو گیا۔
مسلسل غیر فطری خوشی دماغ میں عدم توازن پیدا کر سکتی ہے۔ اس سے بے چینی، ڈپریشن اور نیند کی کمی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق زیادہ رِیلز دیکھنے والے افراد میں صبر اور توجہ کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ وہ زیادہ دیر تک کسی کام پر توجہ مرکوز نہیں رکھ سکتے۔ اس کے علاوہ یہ عادت حقیقی تعلقات کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ لوگ خاندان یا دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر بھی موبائل میں کھوئے رہتے ہیں۔
لت کی ایک اور بڑی خرابی یہ ہے کہ انسان حقیقی دنیا کے مسائل سے بھاگنے لگتا ہے۔ ہر مشکل لمحے میں وہ سکون ڈھونڈنے کے لیے رِیلز دیکھنے لگتا ہے یہ وقتی سکون وقتی خوشبو کی طرح ہے جو کچھ دیر کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان مزید تنہا اور غیر مطمئن ہو جاتا ہے۔
نوجوان نسل کے لیے یہ لت سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ کیونکہ ان کے دماغ ابھی نشوونما کے مرحلے میں ہوتے ہیں اور یہ عادت ان کی شخصیت اور رویوں کو متاثر کرتی ہے۔
تعلیمی کارکردگی میں کمی، تخلیقی صلاحیتوں کا زوال اور سماجی رویوں میں بگاڑ اس کے براہِ راست نتائج ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھیں کہ اصل خوشی حقیقی زندگی کے تجربات میں چھپی ہے، نہ کہ مصنوعی ویڈیوز میں۔
اگر ہم اپنی زندگی میں ورزش، مطالعہ، دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا اور تخلیقی سرگرمیاں شامل کریں تو دماغ قدرتی اور صحت مند طریقے سے خوشی حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مددگار ہوگا کہ ہم دن میں کچھ مخصوص اوقات کے لیے موبائل فون کو مکمل طور پر بند کر دیں، اور اپنی توجہ حقیقی سرگرمیوں پر مرکوز کریں۔ کوشش کریں کہ فون کے بغیر وقت گزارنا معمول بن جائے، چاہے وہ کھانا کھانے کا لمحہ ہو، سیر پر جانا ہو یا کسی تخلیقی کام میں مشغول ہونا ہو۔ دوستوں اور خاندان کے ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے سے بات چیت کو ترجیح دینا بھی بہت مفید ہے، کیونکہ حقیقی تعلقات ہی وہ سکون دیتے ہیں جو کسی ویڈیو یا رِیل سے حاصل نہیں ہوتا۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنی روزمرہ کی کامیابیوں اور چھوٹی خوشیوں کو محسوس کریں، چاہے وہ کسی کتاب کا پڑھنا ہو، ورزش ہو یا کوئی نیا ہنر سیکھنا، یہ سب آپ کو دیرپا سکون اور خوشی فراہم کرتے ہیں، جو مصنوعی خوشیوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔
سوشل میڈیا کا استعمال مکمل طور پر ترک کرنا شاید ممکن نہ ہو، لیکن اس پر قابو پانا لازمی ہے۔ وقت کی حد مقرر کریں، غیر ضروری رِیلز سے بچیں






