#پاکستان

لاپتہ شخص کے خاندان کو 50 لاکھ روپے منتقل مگرآئی ایس آئی کے افسران عدالت طلب: ’پیسہ جان کا نعم البدل نہیں‘

عدالت طلب

پاکستان کی وفاقی حکومت نے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے رقم کی فراہمی کا عمل شروع کر دیا ہے۔

جمعے کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاپتہ شخص محمد عبداللہ عمر کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور وزارت دفاع کے نمائندے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے متاثرہ فیملی کو 50 لاکھ روپے کی رقم منتقل کر دی ہے۔

محمد عبداللہ عمر فوج سے ریٹائرڈ ہونے والے کرنل خالد عباسی کے بیٹے ہیں۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ انھیں 2015 میں اسلام آباد سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اس مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ متاثرہ فیملی کے ’دُکھوں کا مداوا پیسوں سے نہیں کیا جاسکتا۔‘

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے