روداد پی ایچ اے لائبریری فیصل ٹاﺅن
شاہد بخاری
گزشتہ روز اکادمی ادبیات اور ادارہ خیال و فن کے اشتراک سے پی۔ ایچ۔اے لائبریری، پارک ڈی بلاک فیصل ٹاو¿ن لاہور کے بارے میں ایک خصوصی نشست میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے شاہد بخاری ایڈووکیٹ نے 25 لیٹرز کی کاپیاں دکھلا تے ہوئے کہا کہ ریمائنڈرز ان کے علاوہ ہیں، سوائے دو کے کسی نے بھی جواب تک نہیں دیا۔پہلے لیٹر کے جواب میں تب کے عبوری وزیر اعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری صاحب نے D428 بلاک سے خالی چیمبر مختص برائے لائیبریری بحکم D.G.صاحب PHAمیں دفتر UC نمبر 210 شفٹ نھیں ھونے دیا تھا۔ دوسرے لیٹر کا جواب دو سال بعد صوبائی، محتسب نے یہ دیا تھا کہ لائبریری سے متعلق انہیں اختیار سماعت حاصل نہیں ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے فائیل ملاحظہ کرنے کے بعد جلد افتتاح لائبریری کروانے کا وعدہ کیا لیکن اپنے وعدے کے برعکس وہاں پر وہ دفتر یو۔سی 210 شفقت کروا دیا جو ڈاکٹر حسن عسکری صاحب نے شفٹ نہ ہونے دیا تھا۔جب حمزہ شہباز عبوری چیف منسٹر بنے تو انہوں نے وھاں مالیوں کا سٹور منتقل کروا دیا۔ان کی رخصتی کے بعد دوبارہ دفتر یو سی210 پھر وھیں شفٹ ھو چکا ہے.اکادمی کے افسر تقریبات محمد جمیل،یہ سب سن کر تعجب سے بولے۔۔ع۔کیا یوں
بھی ھوتا ھے زما نے میں؟ سٹیزنز کونسل اوف پاکستان کے صدر رانا امیر خاں نے کہا کہ یقین نہیں آ رھا کہ اپنے وعدے کے بر عکس وزیر تعلیم بجائے افتتاح لائبریری کے دفتر یو سی 210 وھاں شفٹ کروا سکتے ہیں۔ اور حمزہ شہباز اپنے دور میں چیمبر مختص برائے لائبریری میں مالیوں کاسٹور شفٹ کروا سکتے ہیں۔ادارہ خیال و فن کے چیئرمین ممتاز راشد لاھو ری نے کہا کہ ہم ان سب ساتھیوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے لائبریری کے حق میں کالم لکھے اور ان مدیران کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے وہ کالمز شائع کئیے اور ادارئیے بھی لکھے۔ پاکستان اسپرانتو ایسو سی ایشن کے نائب صدر رحیم شاہ نے پوچھا،سنا ہے ایل ڈی اے کے پارک میں لائبریری نہیں بن سکتی؟ اس پر راقم نے کہا کہ اس اعتراض کا مدلل جواب سینیئر جرنلسٹ مسعود اشعر نے روزنامہ دنیا کے کالم میں یہ دیا تھا کہ لارنس گارڈن میں ایک نہیں دو لائبریریز ہیں۔ ناصر باغ میں جی سی والے کارنر میں حکومت نے سرکاری خزانے سے” چوپال” بنوا کر جو رائٹرز کو دے دی ہے، وہاں بھی ریڈنگ روم ہے. یہاں تو کتب و رسائل شاہد بخاری دے رہے ہیں اور دیگر اخراجات کی کفیل لائبریری کمیٹی ہوگی. کلمات صدارت میں چیف ایڈیٹر شاداب ڈاکٹر کنول فیروز نے کہا کہ لائیبریری مختلف موضوعات اور اصناف ادب پر کتب جمع کرنے ،انھیں خاص سلیقہ وترتیب سے محفوظ رکھنے اور پڑھنے کے لئیے موزوں ماحول اور جگہ فراہم کرنے کا نام ھے۔ تاریخ انھیں قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے علمی سرمائے کی قدر اور حفاظت کرنا جانتی ھو۔ھمیں امید ہے کہ موجودہ چیف منسٹر دفتر U.C پھر سابق بلڈنگ میں شفٹ کروا کے،افتتاح لائیبریری جلد از جلد کروا کر،علم وادب پروری کا ثبوت دیں گی۔ بعد ازاں جو مشاعرہ ہوا اس کا منتخب کلام نذر قارہین ہے:
تعلیم کے وزیر سے ھے شاہد کی التماس
پھیلائیں ڈی بلاک میں علم و ادب کا نور
یو۔سی۔ اوفس کا انتظام کہیں اور کیجئے گا
ترجیح دیجیے گا لائبریری کو اے حضور !
پروفیسر اکرم :کتب خانے خزانے علم و فن ہیں
سدا رہتا ہے ان کا فیض جاری
مدد کیجے جہاں تک ہو سکے ان کی
لگے ہیں آج کل اس کام میں شاہد بخاری
آصف مرزا :پوچھتی ہے لائبریری آج فیصل ٹاو¿ن کی چارہ سازوں کی اٹھے گی اس کی جانب کب نگاہ؟
بار پائیں گے یہاں کب تک؟ ثنا خوان کتاب
آخرش کب ہوگا اس دانش کدے کا افتتاح ؟؟
ڈاکٹر اقبال: پی ایچ اے کا کتب خانہ زندگی کی بات ہے سچ تو یہ ہے لائبریری روشنی کی بات ہے
لائبریری میرے دل اور تیرے دل کی ہے صدا
یہ حقیقت ہے کہ یہ تو ہر کسی کی بات ہے
اقبال راہی: اس میں معلومات کا ہے اک خزانہ دوستو
ہے یہ بہ الفاظ دگر آواز حی علی الفلاح
اس کو کہتے ہیں یہاں کے لوگ تاریخی قدم
پی۔ ایچ۔اے۔لائبریری کا کب ہوگا افتتاح؟
انجینیئر ضیاء سید:
شہر کے اس محلے میں جو کھل جاہے کتب خانہ
بہت ہی خوب ہو جائے یہ خواہش ہماری ہے
مجاہد ایک ہے ایسا، مگن ہے جو اسی دھن میں
نہ ھارا ہے نہ ھارے گا کہ وہ شاہد بخاری ھے
محمد الیاس:وفا ہونے کو ہیں وعدے کسی کے
سو چھٹ جائیں گے بادل تیرگی کے
کتب خانے کا جاری فیض ہوگا
دئیے جلنے لگیں گے آگہی کے شہباز انور: یہ جو فیصل ٹاو¿ن ہے لاہور میں
اس میں اک نادر کتب خانہ بھی ہے
جب تلک ہوگا نہ اس کا افتتاح
یہ حقیقت بھی ہے افسانہ بھی ہے
زینب جعفری:گر چاھتے ہو قوم کا پختہ شعور ہو
ذوق مطالعہ کو پھر عام کیجیے
دارالمطالعہ ہر بستی میں کھولیے
توفیق گر ملے تو یہ کام کیجئے
عمر وقار: آجا ئیں کتب خانے میں اقبال سے مل لیں غالب بھی یہاں بیٹھے ہیں دروازہ کھلا ہے
حافظ و رومی و خسرو بھی ہیں موجود
شاھان اقلیم سخن کا دربار سجا ہے
حمزہ شاکر:ھیں ماضی و حال کی تصویر کتابیں
معرکہ ہستی میں ہیں شمشیر کتابیں
افراز ملت کے رموز ان میں ھیں پنہاں
قوموں کی بدل دیتی ہیں تقدیر کتابیں
سعد اللہ شاہ:
بڑھا دیتی ہیں عمروں کو یہ کتابیں اس طرح
میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا
ڈاکٹر شہناز مزمل:
کتابیں پڑھ کے انساں نے زمانے بھر کو جانا ہے
کہا جس نے ہے کن، اس ذات کو اس نے پہچانا ضرورت ہر گھڑی اب بھی شعور و اگہی کی ہے
بناو¿ ہر گلی کوچے میں اک اچھا کتب خانہ
ڈاکٹر شاہین بھٹی: جس نے کتب خانے کا اہتمام کیا
اپنی بخشش کا انتظام کیا عزم شاہد بخاری کیا کہئیے اپنی ہمت سے بڑھ کر کام کیا
ماہ نور؛
کیوں محروم رھے،لائیبریری
سے آپ کے ھوتے ھوئے؟؟
جبکہ اوروں کو زمانے نے دیا کیا کیاکچھ
معزالدین:
چیف منسٹر سے پوچھتے ہیں سب
ہPHA لائیبریری کا افتتاح ھو گاکب؟






