#کالم

احتجاج، مذاکرات اور عوامی ریلیف کا راستہ

rafeh s

رفیع صحرائی

وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف کی اپیل پر جماعت اسلامی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمان نے احتجاجی لانگ مارچ مو¿خر کر دیا ہے۔ پاکستان میں احتجاج کی سیاست کوئی نئی بات نہیں۔ جمہوری معاشروں میں عوامی مسائل کو اجاگر کرنے، حکومت کی توجہ دلانے اور پالیسیوں میں تبدیلی کے لیے احتجاج ایک تسلیم شدہ ذریعہ ہے۔ تاہم احتجاج اور تصادم میں فرق ملحوظ رکھنا بھی اتنا ہی ضروری اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہوتا ہے۔ احتجاج کا مقصد حکومت کو گرانا، ریاستی نظام کو مفلوج کرنا یا ملک میں انتشار پیدا کرنا نہیں بلکہ اپنے مطالبات حکومتی حلقوں تک پہنچانا اور ان کے حل کے لیے دباو¿ پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی جانب سے موجودہ لانگ مارچ کو وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر مو¿خر کرنے کا فیصلہ ایک ایسی سیاسی پیش رفت ہے جسے اسی جمہوری تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔جماعت اسلامی نے حالیہ دنوں میں پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی، پٹرول کی قیمت، بجلی کے مہنگے بلوں، آئی پی پیز کے معاہدوں اور عوام پر معاشی بوجھ کے خلاف ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کا مطالبہ بھی کیا، جبکہ آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی اور بجلی سستی کرنے کو بھی اپنی تحریک کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ جماعت اسلامی نے بجلی اور مہنگائی کے مسئلے پر سڑکوں کا رخ کیا ہو۔ جولائی اور اگست 2024ئ میں راولپنڈی میں جماعت اسلامی کا طویل دھرنا بجلی کے بھاری بلوں، آئی پی پیز کے معاہدوں، ٹیکسوں اور مہنگائی کے خلاف تھا۔ چودہ روزہ دھرنے کے بعد حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان ایک تحریری معاہدہ ہوا، جس میں آئی پی پیز کے معاہدوں کا جائزہ لینے، بجلی کے نرخوں میں کمی اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف سمیت مختلف امور پر اقدامات کا وعدہ کیا گیا۔ اس احتجاج کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی نکلا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ راستہ کھلا۔ اگرچہ بعد میں جماعت اسلامی نے معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے کا مو¿قف اختیار کرتے ہوئے دوبارہ احتجاج کا اعلان کیا، مگر یہ امر اپنی جگہ اہم ہے کہ احتجاج آخرکار مذاکرات اور مطالبات کو حکومتی ایجنڈے کا حصہ بنانے کا ذریعہ بنا۔ اب موجودہ احتجاج کا معاملہ بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔حافظ نعیم الرحمن کا مو¿قف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی عوام کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن چکی ہے اور حکومت اگر عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے تو جماعت اسلامی کو احتجاج کرنے کا کوئی شوق نہیں۔ ان کے مطابق حکومت سے مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں اور موجودہ ریلیف ان کے مطالبے کے مطابق کافی نہیں۔ اس لیے انہوں نے کراچی سے بذریعہ ٹرین اپنے احتجاجی لانگ مارچ کا آغاز کر دیا۔اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف نے حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور اسلام آباد میں دھرنا مو¿خر کرنے کی اپیل کی۔ وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماو¿ں نے وزیراعظم کی واپسی پر مزید مشاورت اور ملاقات پر اتفاق کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے جماعتی قیادت سے مشاورت کے بعد لانگ مارچ کو اکتوبر کے پہلے ہفتے تک مو¿خر کرنے کا اعلان کیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ احتجاجی تحریک ختم نہیں ہوئی۔ اگر حکومت نے اطمینان بخش پیش رفت نہ کی تو یہ احتجاج دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر احتجاج کا مقصد حکومت تک اپنا مو¿قف پہنچانا اور اسے مذاکرات کی میز تک پہنچنا ہے تو وزیراعظم کا خود فون کرکے بات چیت کی دعوت دینا کیا اس مقصد کی ابتدائی تکمیل نہیں؟ جب ملک کے وزیراعظم خود احتجاجی قیادت سے رابطہ کریں، ملاقات کی دعوت دیں اور عوام کو ریلیف دینے کے عزم کا اظہار کریں تو احتجاج کو کچھ وقت کے لیے مو¿خر کرکے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا سیاسی ہٹ دھرمی کے بجائے ذمہ دارانہ طرزِ عمل سمجھا جانا چاہیے۔ کیونکہ اگر آپ بھرپور اور پرتشدد احتجاج بھی کریں تو فیصلہ بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی ہونا ہوتا ہے۔ اگر حافظ نعیم الرحمان کو ابتدا ہی میں مذاکرات کی پیشکش کر دی گئی ہے تو اسے ایک بڑی کامیابی سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ احتجاج کا مقصد مطالبات منوانا ہوتا ہے، جنگ کرنا نہیں ہوتا۔حافظ نعیم الرحمن نے یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے احتجاج سے مکمل دستبرداری اختیار نہیں کی بلکہ حکومت کو مذاکرات اور عملی اقدامات کا موقع دیا ہے۔ اگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں، عوام کو حقیقی ریلیف ملتا ہے اور حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرتی ہے تو سڑکوں پر جانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو جماعت اسلامی نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ اس کی تحریک دوبارہ آگے بڑھے گی۔ افسوس یہ ہے کہ اس فیصلے پر وہ حلقے بھی تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں جن کا جماعت اسلامی کی سیاست سے براہِ راست تعلق نہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ کیا کسی بھی احتجاج کی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ وہ لازماً تصادم، گرفتاریوں، سڑکوں کی بندش اور بدامنی تک پہنچے؟ اگر کوئی احتجاج مذاکرات کی میز تک پہنچ جائے تو اسے ناکامی کہنا جمہوری سیاست کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔جماعت اسلامی کو یہ کریڈٹ ضرور دیا جا سکتا ہے کہ اس نے گزشتہ کچھ عرصے میں مہنگائی، بجلی کے بلوں، آئی پی پیز، پٹرولیم لیوی اور عام آدمی کے معاشی مسائل کو اپنی احتجاجی سیاست کا نمایاں موضوع بنایا ہے۔ 2024ئ کے دھرنے میں بھی اس نے بجلی کے بلوں اور آئی پی پیز کو مرکزی مسئلہ بنایا تھا اور اب پٹرولیم لیوی کو موضوع بنایا ہے۔ البتہ کسی بھی سیاسی جماعت کے دعووں اور ان کے عملی نتائج میں فرق کرنا بھی ضروری ہے۔ حکومت پر دباو¿ ڈالنا ایک چیز ہے اور پائیدار معاشی اصلاحات دوسری۔ بجلی سستی کرنے کے لیے آئی پی پی معاہدوں، گردشی قرضے، ٹیکس، سبسڈی، سرکاری اخراجات اور آئی ایم ایف پروگرام جیسے پیچیدہ معاملات کو بھی دیکھنا ہوگا۔ اسی طرح پٹرول کی قیمت میں کمی صرف لیوی گھٹانے سے نہیں بلکہ عالمی قیمت، شرحِ مبادلہ، ٹیکس اور مالیاتی ضروریات سمیت کئی عوامل سے جڑی ہوئی ہے۔جمہوریت میں سڑک اور مذاکرات ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ احتجاج عوامی آواز کو طاقت دیتا ہے اور مذاکرات اس آواز کو پالیسی میں تبدیل کرنے کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ وزیراعظم کی وطن واپسی پر اگر حکومت اور جماعت اسلامی سنجیدگی سے بیٹھتی ہیں، دونوں جانب سے دلائل پیش ہوتے ہیں، اعداد و شمار سامنے آتے ہیں اور عوام کے مفاد میں قابلِ عمل متفقہ فیصلے کیے جاتے ہیں تو یہی جمہوری سیاست کی کامیابی ہوگی۔ اصل سوال جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کے التوا کا نہیں، عوام کے مسائل کے حل کا ہے۔ پٹرول سستا ہوتا ہے یا نہیں، بجلی کے بل کم ہوتے ہیں یا نہیں، آئی پی پیز کے معاملات شفاف ہوتے ہیں یا نہیں اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف ملتا ہے یا نہیں، فیصلہ کن بات یہی ہوگی۔ احتجاج وقتی دباو¿ پیدا کر سکتا ہے، مگر پائیدار حل صرف سنجیدہ مذاکرات، شفاف فیصلوں اور عملی اقدامات سے ہی نکلے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے فی الحال احتجاج کے بجائے مذاکرات کو موقع دیا ہے۔ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس موقع کو نتیجہ خیز بنائے۔

احتجاج، مذاکرات اور عوامی ریلیف کا راستہ

اردو بطور قومی زبان

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے