#کالم

اردو بطور قومی زبان

shaid bukhari

شاہد بخاری

مولانا ظفر علی فاو¿نڈیشن م±سلم ٹاو¿ن ، لاہور کی خص±وصی نشِست میں ” ا±رد±و بطور قومی زبان” کے موض±وع پر اِظہارِ خیال کے لئے ماھرِ بین الاقوامی ا±م±ور ڈاکٹر عثمان شاہد وڑائچ جو UCP میں درس وتدریس سے وابستہ ھیں ، مدعو تھے۔ زیر صدارت چیئرمین فاو¿نڈیشن جناب خالد محمود اِفتتاحی کلمات میں حکِیم راحت نسِیم سوہدروی صاحب نے کہا کہ رابطے کی زبان ھونے کی بدولت 1837ء میں انگریزوں نے ا±رد±و کو دفتری ز±بان بنایا۔فرمانِ قائدِاعظم کے باعث 73ء کے آئین کے آرٹِیکل 251 کی ر±و سے 1988ء تک ا±رد±و کو سرکاری و دیگر مقاصد کے لئے اِنتظامات کرنے تھے جو س±پرِیم کورٹ کے چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے فیصلہ بتاریخ 8 ستمبر 2015ء کے باوج±ود اب تک نہ ھو سکے :
خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیے؟
ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے؟
ھندی ا±رد±و جھگڑے ھی نے دو قومی نظریہ م±تعارف کروایا۔ قائدِ اعظم نے بھی ا±رد±و کو قومی ز±بان قرار دِیا پھر بھی یہ وہ مقام حاصِل نہ کرسکی جو دورِ انگریز میں اِسے حاصِل تھا :
انگریزی میں نصاب
ھے بچّوں پر عذاب
م±حِبّانِ وطن کا کہنا ھے کہ کوئی قوم ا±س وقت تک ترقّی نہِیں کر سکتی جب تک اپنی قومی ز±بان کو نہ اپنا لے۔ م±متاز و ھر دلعزِیز شاعر انور مسعود نے کیا خ±وب کہا ھے :
د±نیا پہ آشکار ھیں ا±رد±و کی خ±وبیاں
سب جانتے ہیں اس میں جو وسعت بیاں کی ھے
قومی زبان ھو کے بھی نافذ نہ ہوسکی
"سارے جہاں میں دھوم ھماری زباں کی ھے”
ھاں م±جھے ا±رد±و ھے پنجابی سے بھی بڑھ کر عزِیز
ش±کر ھے انور میری سوچیں علاقائی نھیں
یاد رھے کہ قیامِ پاکِستان سے قبل کی مردم ش±ماری میں م±سلمانوں کو ایک قوم شو کرنے کے لیے قائدِاعظم نے ھدایت کی تھی کہ وہ سب اپنی ز±بان ا±رد±و لِکھوائیں۔
ڈاکٹر عثمان شاہد وڑائچ نے کہا کہ UNO میں چِین کے وزیرِ اعظم چو این لائی انگریزی میں کیئے گئے سوالات کے جوابات جب چِینی زبان میں دینے لگے تو ایک صاحب نے پ±وچھا کہ جب آپ انگریزی سمجھتے ھیں تو جواب انگریزی میں کیوں نھیں دے رھے؟ تو ا±نھوں نے کہا کہ "چِین گ±ونگا نھیں ھے”. اپنی ز±بان کے بل پر چِین کی ترقّی آپ سب کے سامنے ھے۔ شِمالی ہندوستان میں فارسی و ھندی بولنے والوں کا میل ملاپ شروع ھ±وا توابلاغ کا ذریعہ بننے والے الفاظ نے ا±رد±و ز±بان کا بِیج ڈالا اور اسے ھندی کہا جاتا رھا۔ ت±رکی میں لشکر کو ا±رد±و کہتے ھیں۔ ا±رد±و لشکری ز±بان تھی جو م±ختلِف علاقوں کے فوجیوں وغیرہ کے درمیان بولی جاتی تھی۔ت±زکِ بابری ت±رکی ز±بان میں اور ت±زکِ جہانگیری فارسی میں ھے۔ 1928ء میں کانگرس نے ز±بان کا مسئلہ ا±ٹھایا۔ مذھب اور ز±بان ا±رد±و نے تحریکِ پاکستان کو چلایا۔ م±لک کے دونوں حِصّوں کو م±تحِد رکھنے کے لیے جناح صاحب نے ا±رد±و کی بات کی پھر 55 فِیصد آبادی کے مشرقی پاکِستان والوں کے مطالبے پر بنگالی ز±بان کو بھی قومی ز±بان کا درجہ دے دیا گیا لیکِن م±قابلے کے اِمتحانات صِرف انگریزی میں ھی ھوتے ھیں جبکہ انڈیا میں 22 ز±بانوں میں امتحان دے سکتے ھیں۔ وھاں دِیگر ز±بانوں کو بیو رو کریسی شک کی نظر سے نھیں دیکھتی۔ کیبنیٹ کی پہلی میٹنگ میں صِرف ایک بنگالی فضل الرحمان شامِل تھے۔ سق±وطِ ڈھاکہ اِسی لئے ھ±وا کہ قومی اسمبلی کی 162 سِیٹوں والوں کو 84 نشِستوں والوں نے قومی اسمبلی کا اجلاس م±نعقد نہ کر نے دِیا۔جوگندر ناتھ منڈل کو وزیرِ قان±ون نمائشی طور پر رکھا ھوا تھا جبکہ اِنڈیا میں دلت امبیدکر نے 1950ء میں آئین بنا دیا۔ ھماری بیورو کریسی نے آئین اِسی لئے انگریزی میں بنا رکھا ھے کہ عوام ا±سے سمجھ ھی نہ سکیں۔ نیشنل ب±ک فاو¿نڈیشن ، م±قتدرہ ، اکیڈمی اوف لیٹرز وغیرہ نے کتنی عِلمی انگریزی ک±تب
کے تراجم ا±رد±و میں اب تک کِیے ھیں؟؟ نفاذِ ا±رد±و کے سِلسِلے میں 18 درخواستوں کو س±پرِیم کورٹ میں یکجا کیاگیا۔ چِیف جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب کے Decision مورخہ 06 ستمبر 2015ء پر بیو رو کریسی نے ابھی تک عمل نھیں کیا۔ سوالات کے جوابات میں فاضل مقرّر نے کہا کہ آئین میں اٹھارویں ترمِیم کے بعد 105 فیصد انگریزی میڈیم سک±ول پنجاب میں اور بڑھ گئے ھیں۔ پاکِستان مزِید کولونیئل بن گیا ہے۔ رِسم± الخط رومن میں کرنے کی کوشِش کی گئی۔ لیکِن اب موبائل وغیرہ کے Key بورڈز انگریزی میں آ جانے سے ا±رد±و کا خاتمہ ھی سمجھیں۔ پاکستان کی اشرافیہ علاقائی ز±بانوں کو کمتر سمجھتی ھے۔ 1971ء کے بعد مرکز گ±ریز طاقتوں سے لسانی تعصب بڑھا۔سِندھی کارڈ کا اِستعمال ھ±وا ، اِنڈیا میں وفاق زیادہ مضب±وط اس لیے ھے کہ ا±نھوں نے تمام اکائیوں کو اپنے ساتھ میں شامِل رکھا ھ±وا ھے۔ اِنڈیا میں اِسی لئے sense of ownership ھے۔ اِقتدار و مراعات کا ذریعہ انگریزی ھے۔ ھمارا سارا ماڈل سامراجی ھے۔وسائل کی تقسِیم منصفانہ ہو نی چاہیے۔ کلماتِ صدارت میں خالد محمود صاحب نے ڈاکٹر عثمان شاہد کے خطاب و سوالات کے جوابات کو سراھتے ھوئے کہا کہ :
ا±رد±و کی جگہ انگریزی لانی
ھے ح±کمِ قائد کی نا فرمانی
یاد رہے کہ مشہ±ور فرانسیسی مستشرق اور ا±رد±و دان گارساں دتاسی نے لِکھا تھا کہ قوموں میں کوئی چیز اس قدر اِختلاف پیدا نھیں کرتی جِتنا یہ کہ ا±ن کی ز±بانیں م±ختلف ھوں اور کوئی چیز اتنی اتحاد و یگانگت پیدا نھیں کرتی ، جِتنی کہ ایک م±شترِک ز±بان” اگر گار ساں کی اس بات کو ھم پاکِستان کے تعلق سے دیکھیں تو اس کی معنویت ھمارے سامنے واضح ھو جائے گی۔ھماری قومی ز±بان ا±رد±و ھمارے وفاق کی علامت ھے ، ھماری قومی شناخت ھے ، قومی زِندگی کی ھر سطح پر ھماری ضر±ورت ہے۔ اِس کے بغیر ھم ،انگریزی کے ذریعے عوام تک نھیں پہنچ سکتے۔انگریزی زبان پڑھنا ، سِیکھنا اور اس پر ع±ب±ور حاصِل کرنا اچھی بات ھے لیکن ساری زِندگی کے لیے اِسے اوڑھنا بِچھونا بنانا ایک بِالک±ل م±ختلِف اور منفی بات ھے۔اپنے زمانے کے مشہور”پیسہ اخبارلاھور” (26فروری تا25مارچ 1909ء کے دوران) میں شائع ہونے والے اِداریوں اور مضامِین کا اِستدلال یہ تھا کہ پنجابی ، ا±رد±و کا پ±رانا ر±وپ ھے اور ا±رد±و پنجابی کی ترقّی یافتہ ص±ورت ھے۔ گورنمنٹ نے پنجاب میں ا±رد±و رائج نھیں کی بلکہ ا±رد±و کو فارسی کی بجائے سہ±ولتِ عامہ کے خیال سے دفاتر و عدالتوں میں داخل کیا۔ یہ کہنا بے جا نہ ھو گا کہ اگر پنجابی کو م±لک کی ابتدائی بولی سمجھا جائے تو ا±رد±و اِس کی عِلمی و ترقّی یافتہ ص±ورت ھو گی۔ پنجابی و ا±رد±و دونوں ایک ھی ھیں”۔علامہ اِقبال سیالکوٹی، جِنھیں اِیران میں اِقبال لاھوری ، کہا جاتا ھے ، مولانا ظفر علی خان وزیر آباد کی تمام شاعری ا±رد±و ز±بان ھی میں ھے ، جِس کی تروِیج و ترقّی میں ھِندو م±سلم و پ±ورے برِصغِیر کا حِصّہ ھے۔ آنند نرائن ملا نے کیا خوب کہا ھے :
ملا بنا دیا ھے ، اسے بھی محاذ جنگ
اک صلح کا پیام تھی ، ا±رد±و زباں کبھی
ا±رد±و کی بستیاں بیر±ون پاکِستان میں بس رھی ھیں۔۔ع۔۔ ا±رد±و اپنے زور پر ھی بین الاقوامی ہوئی ۔۔۔۔یونیسکو کے ماہنامے "UN KAJ NI” (اقوام ِ م±تحدہ اور ہم) کے م±طابِق ا±رد±و د±نیا کی 3500 ز±بانوں اور 9500 بولیوں میں دوسرے درجے پر بولے جانے کے اعتبار سے سب سے بڑی ز±بان ہے۔ برِعظیم پاک و ہِند مع بنگلہ دیش ، مقب±وضہ ہائے کشمِیر ، افغانِستان و مشرِق و±سطیٰ اور یورپ میں عربی رِسم± الخط کی حامِل ا±ردو کو بحیثیت رابطے کی ز±بان بولنے والوں کی تعداد 50 کروڑ سے کہیں زیادہ ہے جبکہ دیو ناگری یعنی ہِندی رِسم± الخط والی ا±رد±و جِسے پ±وری د±نیا ہِندوستانی کے نام سے جانتی ہے کو شامِل کریں تو تعداد سوا ارب سے زائد تک جا پہنچتی ہے۔وِکِی پِیڈیا کے اعداد و ش±مار کے م±طابق پاکِستانی میٹرک(ا±رد±و مِیڈیم) کے معیار کی انگریزی سمجھنےاور بولنے والوں کی د±نیا میں تعداد قریباً 85 کروڑ ہے جو د±نیا کا دس فِیصد بنتا ہے۔ پاکِستان میں م±ختلِف عِلاقوں اور ص±وبوں میں رابطے کی واحد ز±بان ا±رد±و ہے۔اس لیے انگریزی کی جگہ پرقومی زبان اردو ھی کو جلد نافذ کیا جائے کیوں کہ :
سب صوبوں کی ھے آن بان
اردو زبان،اردو زبان

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے