وہ بھی کیا دور تھا
زاہد اقبال ملک
سیاست صرف اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ عوامی امیدوں وعدوں کی تکمیل اور جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑا ہونا بھی سیاست ہے۔ قومیں صرف انتخابات کے نتائج ہی یاد نہیں رکھتی بلکہ سیاست دانوں کے لبوں سے نکلنے والے دعوے،وعدے،نعرے اور طرزِ عمل بھی ان کے حافظے میں محفوظ رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ حکومتیں بدلتی ہیں اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں مگر عوام کے ذہنوں سے بلند بانگ تقاریر میں کیے گئے وعدے اور بلند آہنگ دعوے اپنے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا جب پاکستان کی سیاست میں حزبِ اختلاف صرف پارلیمان تک محدود نہیں تھی بلکہ گلیوں،محلوں،بازاروں،جلسوں،جلوسوں اور دھرنوں تک اپنی بھرپور موجودگی کا احساس دلاتی تھی۔ ہر روز کوئی نیا بیان،ہر ہفتے کوئی نیا احتجاج اور ہر مہینے حکومت کے خلاف ایک نئی تحریک دیکھنے کو ملتی تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے عوام کے دکھ درد ہی سیاست کا اصل محور ہوں۔ برسراقتدار پاکستان مسلم لیگ (ن) ہو،پاکستان مسلم لیگ (ق)ہو،پاکستان پیپلز پارٹی ہو یا پاکستان تحریکِ انصاف ہر دور میں حزبِ اختلاف نے حکومت کو سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا۔قوم آج بھی وہ سیاسی ماحول نہیں بھولی جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے آصف علی زرداری کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کی جاتی تھی ان پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے جاتے تھے۔شہباز شریف اپنی تقاریر میں آصف علی زرداری کو علی بابا چالیس چوروں کا ٹولہ سے پکارتے اور انہیں سڑکوں پر گھسیٹنے اور ان کا "پیٹ پھاڑ کر عوام کی لوٹی ہوئی دولت نکالنے” جیسے سخت بیانات دیا کرتے تھے۔اسی طرح جب مسلم لیگ (ن) حکومت میں آئی تو پاکستان پیپلز پارٹی شریف برادران کو ملکی مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کرتی اور انہیں”کرپشن کے بے تاج بادشاہ” جیسے القابات سے نوازتی تھی۔ بعدازاں جب پاکستان تحریکِ انصاف اقتدار میں آئی تو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی تعاون بڑھایا اور مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے عمران خان کی حکومت کے خلاف بھرپور حزبِ اختلاف کا کردار ادا کیا۔احتجاج،جلسے،لانگ مارچ پارلیمانی دباو¿ اور سیاسی مہمات کے ذریعے حکومت کو شدید مشکلات میں رکھا حالانکہ PTI حکومت کو اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل آشیرباد حاصل تھی باوجود اس کے عمران خان بھی اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکے اس میں بلاشبہ تحریک انصاف کی قیادت کی نااہلی اور قوم سے ایک کروڑ نوکریوں پچاس لاکھ گھروں جیسے بے شمار وعدوں کو پورا نا کرنا بھی شامل ہے جبکہ تحریک انصاف کی قیادت کو جب حزبِ اختلاف کا منصب ملا تو انہوں نے بھی احتجاج دھرنوں اور ملک بند کرنے کی تحریکوں سے اپنے مخالفین کو ناکوں چنے چبوائے۔ مختلف ادوار میں یہی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی حکومتوں اور ریاستی اداروں کے باہمی تعلقات پر سوالات اٹھاتی رہیں۔ ہر سیاسی بحران کو جمہوریت،آئین،ووٹ کے تقدس اور عوامی حقوق کے تناظر میں پیش کیا جاتا تھا۔ یہ سب اس وقت کی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا جس کا بنیادی مقصد عوامی حمایت حاصل کرنا حکومت پر دباو¿ بڑھانا اور اپنےسیاسی بیانیے کو مضبوط بنانا تھا۔اس زمانے میں اگر مہنگائی چند روپے بھی بڑھ جاتی تو ملک گیر احتجاج شروع ہو جاتے۔ بجلی،گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر پریس کانفرنسوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑتا اور عوام کو یقین دلایا جاتا کہ اقتدار ملتے ہی ہر مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکال لیا جائے گا۔ عوام آج بھی مہنگائی، بے روزگاری،بجلی، گیس،پٹرول اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں مگر وہ جوش وہ احتجاج اور وہ بلندآہنگ دعوے کہیں سنائی نہیں دیتے۔ سوال یہ نہیں کہ حکومت کس جماعت کی ہے اصل سوال یہ ہے کہ عوام سے کیے گئے وعدوں کا کیا بنا؟اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک بھر میں موٹرویز کا جال بچھانا نئی شاہراہوں پ±لوں فلائی اوورز کی تعمیر اور جدید انفراسٹرکچر کی تشکیل یقیناً ریاستی ترقی کی اہم علامت ہیں۔ سڑکوں کے بہتر نظام سے تجارت سرمایہ کاری اور آمدورفت کو سہولت فراہم ہوتی ہے اور قومی معیشت کو تقویت ملتی ہے۔ ایسے منصوبوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں مگر ترقی کا اصل پیمانہ صرف یہ نہیں کہ سڑکیں کتنی کشادہ ہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ عوام کی زندگی کتنی آسان ہوئی ہے۔ ملک میں موٹرویز تو بن رہی ہیں مگر پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار کی کوئی شاہراہ دکھائی نہیں دے رہی فلائی اوور تعمیر ہو رہے ہیں مگر اشیائے خوردونوش عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے اگر ترقی کے اعداد و شمار بلند ہوں مگر گھروں کے چولہے بجھ رہے ہوں تو پھر عوام کے ذہن میں یہ سوال اٹھنا فطری امر ہے کہ اس ترقی کا ثمر آخر کس تک پہنچ رہا ہے۔ جب غریب کی جیب خالی ہو اس کے لیے چمکتی سڑکوں سے زیادہ اہم اپنے بچوں کی روٹی تعلیم اور علاج ہوتا ہے۔ جس گھر میں مہینے کے اختتام سے پہلے راشن ختم ہو جائے وہاں ترقی کے اشتہارات امید کی بجائے تکلیف پیدا کرتے ہیں اور جب معاشی دباو¿ اس حد تک بڑھ جائے کہ لوگ اپنی زندگی سے مایوس ہونے لگیں تو پھر روزانہ خودکشیوں کی خبریں ہی ملتی ہیں لاقانونیت کا غلبہ ہوتا ہے اور جب معاشی نظام مضبوط ہو گا تو پھر ہر شہری کو باعزت روزگار مناسب آمدن معیاری تعلیم سستا علاج اور محفوظ مستقبل میسر ہوگا انفراسٹرکچر کی ترقی ا±س وقت حقیقی کامیابی بنتی ہے جب اس کے ثمرات عام آدمی کی دہلیز تک بھی پہنچیںتاریخ کا سبق یہی ہے کہ عوام کی یادداشت اتنی کمزور نہیں جتنی سیاست دان سمجھتے ہیں قوم کو آج بھی وہ نعرے وہ تقاریر وہ دعوے اور وہ وعدے یاد ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر اصولوں کا بدل جانا اور اقتدار کے ساتھ بیانیے کا تبدیل ہو جانا وہ حقیقت ہے جسے عوام ہر دور میں محسوس کرتے ہیں سیاستدانوں کو یہ یاد رکھنا ہو گا کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے مگر عوام کا اعتماد ایسی دولت ہے جسے کھو دینا آسان اور دوبارہ حاصل کرنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔





