#کالم

لودھراں کے ہونہار طالب علم سعید احمد شیخ کا سفر

laiq ahmed

لئیق احمد انجم

لودھراں کے ایک طالب علم سے قومی نشریاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل تک!ایک ایسا سفر جو ہمارے بچوں، نوجوانوں اور پورے شہر کے لیے امید اور حوصلے کا پیغام ہے۔کبھی اپنے شہر کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے والا ایک بچہ بھی مستقبل میں پورے ملک کے ایک اہم قومی ادارے کی قیادت کر سکتا ہے!یہ محض ایک خوبصورت جملہ نہیں، بلکہ ہمارے اپنے شہر لودھراں سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت کے سفر کی کہانی ہے۔آج میں اپنے شہر کے ایک ایسے شخص کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جنہیں میں نے ان کے طالب علمی کے زمانے میں گورنمنٹ ہائی سکول لودھراں میں پڑھتے ہوئے دیکھا۔ ان کا نام ہے سعید احمد شیخ۔اس وقت کون جانتا تھا کہ لودھراں کے اس تعلیمی ادارے میں اپنی تعلیم کا سفر شروع کرنے والا یہ طالب علم ایک دن پاکستان کے قومی نشریاتی ادارے پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ریڈیو پاکستان) کے ڈائریکٹر جنرل کے منصب تک پہنچے گا!سعید احمد شیخ نے لودھراں سے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز کیا، بعد ازاں بہاولپور سے تعلیم حاصل کی اور پھر عملی زندگی میں قدم رکھا۔ ان کی ذہانت، قابلیت اور آگے بڑھنے کی لگن کا ذکر ان کے طالب علمی کے زمانے سے ہی سننے کو ملتا تھا۔میں 2005ئ میں لودھراں سے کراچی منتقل ہوگیا۔ اس کے بعد اخبارات اور پریس میں ان کے حوالے سے خبریں پڑھنے کو ملنے لگیں کہ لودھراں کا یہ نوجوان سرکاری شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا سفر آگے بڑھا رہا ہے۔وقت گزرتا گیا، ذمہ داریاں تبدیل ہوتی رہیں، تجربات میں اضافہ ہوتا گیا اور کامیابیوں کی منزلیں طے ہوتی چلی گئیں۔
سرکاری خدمات کا ایک طویل سفر۔۔۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق سعید احمد شیخ انفارمیشن گروپ کے افسر ہیں۔ انہوں نے وزارت اطلاعات و نشریات کے مختلف شعبوں میں اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، پیمرا، نیشنل پریس ٹرسٹ اور وزارت اطلاعات کے مختلف شعبوں میں ان کی پیشہ ورانہ خدمات کا ذکر ملتا ہے۔مارچ 2021ءمیں انہیں وزارت اطلاعات کے سائبر ونگ کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا۔پھر 7 نومبر 2023ء کو انہوں نے اسلام آباد میں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (ریڈیو پاکستان) کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا۔یہ وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر ایک شخص کی کامیابی صرف اس کی ذاتی کامیابی نہیں رہتی بلکہ اس کے شہر، اس کے تعلیمی ادارے اور اس علاقے کے نوجوانوں کے لیے بھی ایک مثال بن جاتی ہے۔
سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ علم و ادب سے محبت۔۔۔۔۔
سعید احمد شیخ صاحب کی شخصیت کا ایک اور قابلِ ذکر پہلو ان کی علمی اور ادبی وابستگی ہے۔سرکاری تعارف کے مطابق وہ متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی تحریروں میں اسلامی تصوف، برصغیر کی مقامی زبانوں پر عربی و فارسی کے اثرات، پاکستان کی تاریخ اور ثقافت جیسے موضوعات شامل ہیں۔ مختصر کہانیوں پر مشتمل ان کی ایک کتاب بھی ان کی ادبی دلچسپی کا حصہ ہے۔وہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی خواجہ غلام فرید چیئر کے رکن بھی رہے ہیں۔یہ پہلو ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک اور سبق رکھتا ہے کہ تعلیم اور مطالعے کا سفر کسی سرکاری عہدے یا ملازمت کے حصول پر ختم نہیں ہوتا۔ علم انسان کی پوری زندگی کا سرمایہ ہے۔
لودھراں کے نوجوانوں کے نام ایک پیغام۔۔۔۔۔
آج میں یہ مضمون صرف سعید احمد شیخ صاحب کی تعریف کے لیے نہیں لکھ رہا، بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑا مقصد ہے۔میں چاہتا ہوں کہ لودھراں کا کوئی بچہ، جو آج کسی سرکاری سکول کے عام سے کلاس روم میں بیٹھا ہے، جب یہ تحریر پڑھے تو اس کے دل میں بھی ایک خواب جنم لے۔وہ سوچے کہ اگر میرے ہی شہر کے ایک طالب علم نے تعلیم حاصل کرکے، اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر، مسلسل محنت اور جدوجہد کے ذریعے پاکستان کے ایک بڑے قومی ادارے کی سربراہی تک رسائی حاصل کی ہے تو میں بھی اپنی زندگی میں کوئی بڑا مقام حاصل کر سکتا ہوں۔اس کے لیے ضروری نہیں کہ آپ کسی بڑے شہر کے مہنگے تعلیمی ادارے سے ہی تعلیم حاصل کریں۔ ضروری یہ ہے کہ آپ کے اندر سیکھنے کا شوق، آگے بڑھنے کا جذبہ، اپنے مقصد سے وفاداری اور محنت کا تسلسل موجود ہو۔والدین اپنے بچوں کو تعلیم کی اہمیت سمجھائیں، اساتذہ اپنے شاگردوں کی صلاحیتوں کو پہچانیں اور نوجوان اپنی منزل کا تعین کرکے اس کے حصول کے لیے محنت کریں۔یاد رکھیے! کسی بھی بڑے عہدے تک پہنچنے کے پیچھے برسوں کی تعلیم، تربیت، تجربہ اور جدوجہد ہوتی ہے۔ کامیابی ایک دن میں نہیں ملتی، اس کے لیے ہر روز اپنے آپ کو بہتر بنانا پڑتا ہے۔
میری طرف سے سعید احمد شیخ صاحب کے نام۔۔۔۔
سعید احمد شیخ صاحب!
آپ کو لودھراں کے ایک طالب علم سے پاکستان کے قومی نشریاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کے منصب تک پہنچتے دیکھنا میرے لیے ذاتی خوشی اور مسرت کا باعث ہے۔آپ کا سفر ہمارے شہر کے لیے ایک مثبت حوالہ ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیوں، عزت اور استقامت سے نوازے اور آپ کے علم و تجربے کو ملک و قوم کی بہتری کے لیے استعمال ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیں اپنے شہر کی ایسی کامیابیوں کو ضرور اجاگر کرنا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے آج ہماری یہ ایک تحریر پڑھ کر کسی سکول کا طالب علم اپنی زندگی کا بڑا خواب دیکھنے لگے۔اور یہی اس تحریر کا اصل مقصد ہے:لودھراں کے بچوں کو یہ یقین دلانا کہ بڑے خواب دیکھنے کے لیے بڑے شہر میں پیدا ہونا ضروری نہیں، بڑے خواب پورے کرنے کے لیے بڑا حوصلہ، تعلیم اور مسلسل محنت ضروری ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے