زندگی زندہ دلی کا نام ہے پیارے
سید محمد عمران سلیم
زندگی محض سانس لینے، کھانے پینے، سونے جاگنے اور دن رات گزارنے کا نام نہیں، بلکہ زندگی کا اصل حسن زندہ دلی، خوش مزاجی، امید، محبت اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں پوشیدہ ہے۔ جو شخص حالات کی سختیوں میں بھی مسکرانا جانتا ہے، جو مشکلات کے طوفانوں میں بھی امید کا چراغ روشن رکھتا ہے اور جو دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کا ہنر جانتا ہے، درحقیقت وہی زندگی جینے کا سلیقہ جانتا ہے
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
زندگی زندہ دلی کا نام ہے پیارے،
مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں۔ زندگی پھولوں کی سیج نہیں، بلکہ یہ خوشی اور غم، کامیابی اور ناکامی، عروج و زوال اور امید و ناامیدی کے رنگوں سے بنی ایک ایسی تصویر ہے جس میں ہر رنگ کی اپنی اہمیت ہے کبھی حالات ہمارے حق میں ہوتے ہیں اور کبھی وقت ہمیں آزمائشوں کی بھٹی میں ڈال دیتا ہے۔ کبھی اپنوں کی محبت دل کو سکون بخشتی ہے اور کبھی اپنے ہی لوگوں کے رویے دل کو زخمی کر دیتے ہیں۔ لیکن اصل کمال یہ نہیں کہ انسان کو زندگی میں دکھ نہ ملیں بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ دکھوں کے باوجود اس کے اندر جینے کی امنگ باقی رہے۔زندہ دلی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو کبھی غم نہ ہو، وہ کبھی نہ روئے یا اسے زندگی میں کوئی پریشانی پیش نہ آئے زندہ دلی تو دراصل اس حوصلے کا نام ہے جو انسان کو ٹوٹ کر بھی بکھرنے نہیں دیتا یہ وہ قوت ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں امید کی کرن دکھاتی ہے یہ وہ جذبہ ہے جو انسان کو بتاتا ہے کہ رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔بدقسمتی سے آج کے دور میں انسان نے زندگی کو ضرورتوں اور خواہشات کی دوڑ میں بدل دیا ہے ہر شخص دولت، شہرت، عہدے اور آسائشوں کے حصول میں اس قدر مصروف ہے کہ اسے اپنے آس پاس بکھری ہوئی چھوٹی چھوٹی خوشیاں دکھائی ہی نہیں دیتیں۔ کسی کو زیادہ کمانے کی فکر ہے، کسی کو دوسروں سے آگے نکلنے کی جلدی اور کسی کو معاشرے میں اپنی برتری ثابت کرنے کا جنون اس کشمکش میں انسان اپنی ذہنی آسودگی، خاندانی تعلقات اور قلبی سکون تک داو¿ پر لگا دیتا ہے۔ہم بھول جاتے ہیں کہ زندگی کی حقیقی خوشیاں اکثر بہت معمولی چیزوں میں چھپی ہوتی ہیں صبح کی تازہ ہوا، بچوں کی معصوم ہنسی، ماں باپ کی دعائیں، دوستوں کی بے تکلف محفل، کسی ضرورت مند کی مدد، کسی اداس چہرے پر مسکراہٹ اور رات کو اطمینان سے سو جانے کا احساس، یہ سب وہ نعمتیں ہیں جن کی کوئی قیمت مقرر نہیں کی جا سکتی۔زندگی کا حسن چیزوں کی فراوانی میں نہیں، بلکہ دل کی فراخی میں ہے۔ زندہ دل انسان وہ ہے جو اپنے لیے ہی نہیں، دوسروں کے لیے بھی جیتا ہے وہ کسی کے دکھ کو تماشا نہیں بناتا، کسی کی مجبوری کا مذاق نہیں اڑاتا اور کسی کی ناکامی پر خوش نہیں ہوتا وہ جانتا ہے کہ ہر مسکراتے چہرے کے پیچھے ایک کہانی ہو سکتی ہے اور ہر خاموش انسان کے سینے میں کوئی نہ کوئی درد پل رہا ہوتا ہے اس لیے وہ لوگوں کے ساتھ نرمی، محبت اور احترام سے پیش آتا ہے۔ ہمارے معاشرے کو آج سب سے زیادہ ضرورت ایسے ہی زندہ دل لوگوں کی ہے جو نفرت کے جواب میں محبت، تلخی کے جواب میں خوش اخلاقی اور مایوسی کے جواب میں امید بانٹ سکیں ہم معمولی باتوں پر ایک دوسرے سے ناراض ہو جاتے ہیں، اختلاف کو دشمنی بنا لیتے ہیں اور انا کی خاطر برسوں کے تعلقات قربان کر دیتے ہیں۔ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ زندگی بہت مختصر ہے اور ہمارے پاس محبت کرنے، معاف کرنے اور خوشیاں بانٹنے کے مواقع محدود ہیں تو شاید ہمارے رویوں میں بہتری آ جائے۔زندہ دلی کا ایک اہم پہلو شکر گزاری بھی ہے جو انسان ہر وقت اپنی محرومیوں کا حساب لگاتا رہتا ہے، اس کے لیے خوش رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی موجود نعمتوں کو پہچانتا ہے، وہ محدود وسائل میں بھی سکون تلاش کر لیتا ہے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان ترقی کی خواہش چھوڑ دے یا اپنے حالات بہتر بنانے کی کوشش نہ کرے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ مستقبل کی فکر میں حال کی خوشیوں کو ضائع نہ کیا جائے۔ہم اکثر سوچتے ہیں کہ جب حالات اچھے ہوں گے تو خوش رہیں گے، جب دولت زیادہ ہو گی تو زندگی کا لطف اٹھائیں گے، جب تمام مسائل حل ہو جائیں گے تو سکون سے بیٹھیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں مسائل کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے ایک مسئلہ حل ہوتا ہے تو دوسرا سامنے آ جاتا ہے اگر ہم نے خوش رہنے کے لیے تمام حالات کے سازگار ہونے کی شرط لگا لی تو شاید ہم زندگی بھر خوشی کے انتظار میں ہی گزار دیں گے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مشکلات کے ساتھ جینا سیکھیں، ناکامیوں سے سبق حاصل کریں اور ہر نئی صبح کو ایک نئے امکان کے طور پر دیکھیں۔ اپنی غلطیوں پر خود کو کوسنے کے بجائے ان سے سیکھیں، ماضی کے پچھتاووں میں الجھنے کے بجائے حال کو بہتر بنائیں اور مستقبل کے خوف میں مبتلا ہونے کے بجائے آج کے دن کو بامقصد بنائیں۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ زندہ دلی کا تعلق عمر، دولت یا ظاہری آسائشوں سے نہیں۔ بعض لوگ بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہ کر بھی بے سکون ہوتے ہیں، جبکہ بعض لوگ چھوٹے سے گھر میں محدود وسائل کے باوجود محبت اور اطمینان سے زندگی گزارتے ہیں۔ اصل فرق حالات سے زیادہ انسان کے زاوی? نظر میں ہوتا ہے۔ جس دل میں قناعت، محبت اور امید موجود ہو، وہاں خوشیوں کے لیے جگہ نکل ہی آتی ہے۔ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہی سبق دینا چاہیے کہ کامیابی صرف اچھے نمبر لینے، بڑا عہدہ حاصل کرنے یا بہت زیادہ دولت کمانے کا نام نہیں۔ اچھا انسان بننا، دوسروں کا احترام کرنا، اپنے رشتوں کو نبھانا، مشکل وقت میں ثابت قدم رہنا اور اپنے وجود سے دوسروں کے لیے خیر پیدا کرنا بھی کامیابی کی اہم صورتیں ہیں۔زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک قیمتی نعمت ہے۔ اس نعمت کا حق یہ ہے کہ ہم اسے نفرت، حسد، کینہ اور بے مقصد پریشانیوں میں ضائع نہ کریں۔ اپنے رب کا شکر ادا کریں، اپنے فرائض دیانت داری سے نبھائیں، اپنے رشتوں کی قدر کریں اور جہاں ممکن ہو، کسی کے لیے آسانی پیدا کریں۔آخر میں بات صرف اتنی سی ہے کہ زندگی کو بوجھ سمجھ کر نہیں، ایک امانت سمجھ کر جینا چاہیے۔ ہر دن کو اس طرح گزاریں کہ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آئے، کسی کا بوجھ ہلکا ہو اور کسی کو آپ کے وجود سے امید ملے۔ وقت کی رفتار کو روکا نہیں جا سکتا، گزرا ہوا لمحہ واپس نہیں آ سکتا اور زندگی کی مہلت ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔اس لیے شکووں کی جگہ شکر، نفرت کی جگہ محبت، مایوسی کی جگہ امید اور بے حسی کی جگہ زندہ دلی کو اپنائیے۔کیونکہ زندگی صرف عمر کے سال پورے کرنے کا نام نہیں، بلکہ ہر لمحے کو احساس، محبت، امید اور مقصد کے ساتھ جینے کا نام ہے۔اور سچ تو یہی ہے کہ:
زندگی زندہ دلی کا نام ہے پیارے،
مسکرا کر جیو، محبت بانٹو اور اپنے حصے کی روشنی دوسروں تک پہنچاتے رہو۔




