#کالم

ڈیجیٹل عطائیت: جب سوشل میڈیا موت کا بازار بن جائے

Untitledwwwee1 copy

ایم فاروق انجم بھٹہ

بیماری صرف جسم کو نہیں توڑتی، یہ انسان کے حوصلے، اعصاب اور امید کو بھی کمزور کر دیتی ہے۔ ایک طویل عرصے سے بیمار شخص جب اسپتالوں کے چکر، مہنگے ٹیسٹ، بھاری بھرکم ادویات اور علاج کے مسلسل اخراجات سے تھک جاتا ہے تو اس کے اندر ایک ایسی خواہش جنم لیتی ہے کہ کوئی اسے بس اتنا کہہ دے: ”فکر نہ کریں، آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔“یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک بیمار انسان سب سے زیادہ کمزور اور سب سے زیادہ قابلِ شکار ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے عہد میں کچھ جعل سازوں نے اسی انسانی کمزوری کو کاروبار بنا لیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ماضی کا عطائی گلی، محلے یا بازار میں بیٹھتا تھا، جبکہ آج کا عطائی موبائل کی اسکرین کے اندر بیٹھا ہے۔ اس کے پاس خوبصورت کلینک، سفید کوٹ، چند مصنوعی مسکراہٹیں، پرکشش ویڈیوز اور ہزاروں خریدے ہوئے لائکس و فالوورز ہوتے ہیں۔ وہ چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر صحت کے نام پر ایسے دعووں کی بھرمار ہے جنہیں سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ”شوگر چند دن میں ختم“، ”کینسر کا بغیر آپریشن علاج“، ”گردوں کی سو فیصد صفائی“، ”جگر کی مکمل صفائی“ اور ”ہر لاعلاج بیماری کا حتمی علاج“ جیسے دعوے عام آدمی کی توجہ فوراً اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ بیمار شخص کے لیے یہ محض اشتہار نہیں ہوتا، یہ امید کی ایک کرن ہوتی ہے۔ اور یہی امید جعل سازوں کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔اس کاروبار کا سب سے خطرناک ہتھیار جعلی ۔۔۔۔”مریضوں کی گواہیاں“ ہیں۔ ایک ویڈیو میں کوئی شخص انتہائی جذباتی انداز میں بتا رہا ہوتا ہے کہ وہ برسوں سے بیمار تھا، بڑے بڑے ڈاکٹرز نے جواب دے دیا تھا، لیکن فلاں حکیم کی دوا نے اسے چند دنوں میں صحت یاب کر دیا۔ کوئی خاتون اپنے شوہر کے علاج کا قصہ سناتی ہے، کوئی بزرگ اپنے معجزاتی تجربے کی داستان بیان کرتا ہے اور کوئی نوجوان دعویٰ کرتا ہے کہ ایک مخصوص نسخے نے اس کی برسوں پرانی بیماری ختم کر دی۔مگر سوال یہ ہے کہ ان دعوو¿ں کی تصدیق کون کرتا ہے؟ کیا علاج سے پہلے کی میڈیکل رپورٹس موجود ہیں؟ کیا علاج کے بعد کے سائنسی ٹیسٹ دکھائے جاتے ہیں؟ کیا کسی مستند ڈاکٹر یا طبی ادارے نے اس دعوے کی توثیق کی ہوتی ہے؟ اکثر اوقات جواب نفی میں ہوتا ہے۔ ایسی ویڈیوز میں جذبات بہت ہوتے ہیں، ثبوت بہت کم۔یہاں ہمیں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے: کسی شخص کا یہ کہنا کہ ”مجھے اس دوا سے فائدہ ہوا“ سائنسی ثبوت نہیں ہوتا۔ ہر بیماری کا قدرتی اتار چڑھاو¿، مختلف علاجوں کا بیک وقت استعمال اور محض وقتی بہتری کسی دوا کو معجزاتی ثابت نہیں کرتی۔ لیکن سوشل میڈیا پر جذبات، موسیقی، ڈرامائی انداز اور اعتماد بھری گفتگو مل کر ایسی فضا بنا دیتے ہیں کہ عام آدمی تحقیق کرنے کے بجائے فوراً یقین کر لیتا ہے۔یہ جعل سازی صرف ذہنی یا اخلاقی دھوکا نہیں، بعض اوقات جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔سب سے تشویش ناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی مریض کسی سوشل میڈیا ویڈیو سے متاثر ہو کر اپنے مستند ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا بند کر دیتا ہے۔ شوگر کا مریض انسولین چھوڑ دیتا ہے، بلڈ پریشر کا مریض اپنی دوا ترک کر دیتا ہے، دل کا مریض علاج میں وقفہ ڈال دیتا ہے اور کینسر کا مریض باقاعدہ طبی علاج کے بجائے کسی نام نہاد ”قدرتی نسخے“ کو آخری امید سمجھ لیتا ہے۔یہ فیصلہ بعض اوقات ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔قدرتی، دیسی یا ہربل ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کوئی چیز لازماً محفوظ بھی ہے۔ جڑی بوٹیاں بھی جسم پر اثر انداز ہوتی ہیں اور غلط مقدار، آلودگی، غیر معیاری اجزا یا دوسری ادویات کے ساتھ تعامل کی صورت میں نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مریض کو اکثر معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اسے دی جانے والی ”خفیہ دوا“ میں آخر شامل کیا کیا گیا ہے۔اس پورے کاروبار میں مالی استحصال بھی اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ چند سو یا چند ہزار روپے کی اشیا کو ”خاص کورس“، ”شاہی نسخہ“، ”قدرتی فارمولا“ یا ”طلسماتی علاج“ کے نام پر کئی گنا قیمت میں فروخت کیا جاتا ہے۔ مریض سوچتا ہے کہ اگر دوا اتنی مہنگی ہے تو یقیناً اس میں کوئی خاص بات ہوگی۔ جعل ساز اسی نفسیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔تاہم یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ہر حکیم یا ہر متبادل علاج فراہم کرنے والا شخص جعل ساز نہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے طبیب بھی موجود ہیں جو باقاعدہ تعلیم، قانونی تقاضوں اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے ساتھ اپنا کام کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ ان عطائیوں اور جعل سازوں کا ہے جو نہ مناسب اہلیت رکھتے ہیں، نہ قانونی اجازت، نہ اپنے دعووں کے سائنسی ثبوت فراہم کرتے ہیں، لیکن انسانی مجبوریوں کو کاروباری موقع بنا لیتے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ ریاست کہاں ہے؟قوانین موجود ہیں، متعلقہ ادارے موجود ہیں، لیکن ڈیجیٹل دنیا میں جعل سازی کی رفتار قانون کے نفاذ کی رفتار سے کہیں زیادہ تیز دکھائی دیتی ہے۔ ایک جعلی پیج بند ہوتا ہے تو نیا پیج سامنے آ جاتا ہے۔ ایک ویڈیو رپورٹ ہوتی ہے تو وہ دوسرے اکاو¿نٹ سے دوبارہ اپ لوڈ ہو جاتی ہے۔ ایک نمبر بند ہوتا ہے تو دوسرا واٹس ایپ نمبر فعال ہو جاتا ہے۔ یوں یہ محض ایک فرد کا کاروبار نہیں رہتا بلکہ ایک مکمل ڈیجیٹل نیٹ ورک کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اس لیے ضرورت صرف عطائی کے کلینک پر چھاپہ مارنے کی نہیں بلکہ اس پورے نیٹ ورک تک پہنچنے کی ہے۔ جعلی اشتہار کون بنا رہا ہے؟ ویڈیوز میں دکھائے جانے والے ”مریض“ کون ہیں؟ دوا تیار کہاں ہوتی ہے؟ خام مال کہاں سے آتا ہے؟ آرڈر کون وصول کرتا ہے؟ پیسے کس اکاو¿نٹ میں جاتے ہیں؟ کورئیر کے ذریعے دوا کس طرح پہنچتی ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب تلاش کرنا ہوگا۔حکومت کو متعلقہ صحت کے اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر ایک مو¿ثر نظام بنانا چاہیے۔ طبی مصنوعات کے اشتہارات اور علاج کے دعووں کی نگرانی کے لیے خصوصی ڈیجیٹل مانیٹرنگ سیل قائم کیا جا سکتا ہے۔ ایسے اکاو¿نٹس جو بیماریوں کے علاج کے بارے میں غیر معمولی اور گمراہ کن دعوے کرتے ہیں، ان کی فوری جانچ ہونی چاہیے۔ جہاں قانون شکنی ثابت ہو وہاں کارروائی صرف ویڈیو ہٹانے تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ذمہ دار افراد اور پورے سپلائی نیٹ ورک تک پہنچنا چاہیے۔سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنی ذمہ داری محسوس کرنا ہوگی۔ صحت سے متعلق اشتہارات عام مصنوعات کے اشتہارات جیسے نہیں ہوتے۔ ایک جعلی کپڑا یا موبائل فون خریدنے سے نقصان ہوسکتا ہے، لیکن جعلی دوا کسی انسان کی جان لے سکتی ہے۔ اس لیے طبی دعووں اور ادویات کی تشہیر کے معاملے میں زیادہ سخت نگرانی ناگزیر ہے۔ساتھ ہی عوام میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ ہمیں اپنے لوگوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونا کسی علاج کے مو¿ثر ہونے کی دلیل نہیں۔ ہزاروں لائکس کسی دوا کو محفوظ نہیں بناتے، لاکھوں ویوز کسی شخص کو ڈاکٹر نہیں بنا دیتے اور سفید کوٹ پہن لینے سے کوئی شخص طبی ماہر نہیں بن جاتا۔والدین، بزرگوں اور مریضوں کو خاص طور پر یہ شعور دینا ہوگا کہ اپنی مستقل بیماری کی دوا خود سے بند نہ کریں اور کسی بھی نئی دوا، ہربل پراڈکٹ یا علاج کے بارے میں مستند طبی مشورہ ضرور حاصل کریں۔آخر میں معاملہ صرف چند ہزار روپے کے فراڈ کا نہیں۔ معاملہ اس ماں کی امید کا ہے جو اپنے بیمار بچے کے لیے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی خرچ کر دیتی ہے۔ معاملہ اس بوڑھے باپ کا ہے جو شفا کی امید میں کسی نامعلوم دوا کے پیچھے اپنی آخری رقم لگا دیتا ہے۔ معاملہ اس مریض کا ہے جو مستند علاج چھوڑ کر ایک خوبصورت ویڈیو کے جھانسے میں آ جاتا ہے۔صحت کوئی تجربہ گاہ نہیں اور انسانی زندگی کسی نوسرباز کی شکار گاہ نہیں ہونی چاہیے۔ڈیجیٹل دنیا نے معلومات تک رسائی آسان کر دی ہے، مگر اسی دنیا نے جھوٹ کو بھی پہلے سے زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم ہر چمکتی ویڈیو کو حقیقت سمجھیں گے یا سوال کرنا سیکھیں گے۔اور ریاست کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کے ان ڈیجیٹل عطائیوں کو انسانی مجبوریوں سے دولت کمانے کی کھلی چھٹی دینی ہے یا قانون، سائنس اور انسانی جان کی حرمت کے تحفظ کے لیے عملی قدم اٹھانا ہے۔کیونکہ جب علاج کے نام پر امید بیچی جانے لگے، بیماری کو کاروبار بنا لیا جائے اور انسانی جان منافع کا ذریعہ بن جائے تو اسے صرف فراڈ کہنا کافی نہیں۔یہ ڈیجیٹل ڈکیتی ہے—اور اس ڈکیتی کا نقصان صرف جیب تک نہیں، زندگی تک پہنچ سکتا ہے۔

ڈیجیٹل عطائیت: جب سوشل میڈیا موت کا بازار بن جائے

18/09/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے