#کالم

پنجاب کے نو صوبے: اختیار بڑھے گا یا اخراجات؟

shehzad imran khan

شہزاد عمران خان

نقشے پر لکیریں کھینچ کر صوبے بنانا شاید آسان ہو، مگر ان صوبوں کو چلانا، ان کے اخراجات پورے کرنا اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا ایک بالکل مختلف معاملہ ہے۔ پنجاب کو موجودہ نو ڈویڑنوں کی بنیاد پر نو صوبوں میں تقسیم کرنے کی بحث وقتاً فوقتاً سیاسی منظرنامے میں ابھرتی رہی ہے۔ یہ بحث محض انتظامی نہیں بلکہ گہرے سیاسی و تاریخی پس منظر سے جڑی ہے — خاص طور پر جنوبی پنجاب میں طویل عرصے سے محرومی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور سیاسی نمائندگی نہ ہونے کے شکوے اس تجویز کی بنیاد رہے ہیں۔اس تجویز کے حامیوں کا مو¿قف ہے کہ بڑے صوبے کو چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے سے حکومت عوام کے قریب آئے گی، محروم علاقوں کو زیادہ اختیار ملے گا، مقامی وسائل پر مقامی کنٹرول ہوگا، اور ترقیاتی فیصلے مقامی سطح پر کیے جا سکیں گے۔ یہ دلیل محض جذباتی نہیں: چھوٹی انتظامی اکائیوں میں شکایات کے ازالے کی رفتار عموماً تیز ہوتی ہے اور مقامی آبادی کی ترجیحات براہِ راست پالیسی میں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی کھڑا ہوتا ہے: اگر پنجاب کے نو ڈویڑن الگ الگ صوبے بن جائیں تو ان صوبوں کا انتظامی اور مالیاتی ڈھانچہ کیسے چلے گا؟پنجاب میں اس وقت لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان سمیت نو ڈویڑن ہیں۔ اگر ہر ڈویڑن کو الگ صوبہ بنا دیا جائے تو اصولاً نو وزرائے اعلیٰ، نو گورنر، نو چیف سیکرٹری، نو انسپکٹر جنرل پولیس اور نو صوبائی اسمبلیاں وجود میں آئیں گی۔ اس کے ساتھ نو اسمبلی سیکرٹریٹ، نو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ، نو گورنر ہاو¿س اور سیکرٹریٹ، نو صوبائی محکمہ ہائے خزانہ، منصوبہ بندی، داخلہ، ریونیو، قانون، سروسز اور دیگر محکموں کا انتظامی ڈھانچہ درکار ہوگا۔یقیناً یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر چیز نئے سرے سے بنانا پڑے گی۔ پنجاب کے موجودہ ڈویڑنوں میں پہلے ہی متعدد محکموں کے علاقائی اور ڈویڑنل دفاتر موجود ہیں۔ زراعت، لائیو اسٹاک، فشریز، وائلڈ لائف اور دیگر شعبے ڈویڑنل سطح پر کام کر رہے ہیں۔ اس لیے موجودہ انتظامی ڈھانچے کا ایک حصہ نئی صوبائی حکومتوں کے لیے بنیاد بن سکتا ہے۔ لیکن صوبہ صرف کمشنر یا ڈویڑنل دفتر کا نام نہیں۔ صوبے کے لیے مکمل سیاسی، مالی، عدالتی، انتظامی اور پولیس کا نظام درکار ہوگا۔یہاں ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا موجودہ ایک ہی بڑا صوبہ واقعی زیادہ کفایتی ہے، یا اس کے اخراجات صرف مرکزی سطح پر چھپے ہوئے ہیں؟ پنجاب کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ پاکستان کا سب سے بڑا بیوروکریٹک نظام ہے، اور اس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ چھوٹے صوبوں کی مخالفت میں اکثر یہ مان لیا جاتا ہے کہ بڑا صوبہ خودبخود موثر ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک ایسا مفروضہ ہے جس کی جانچ ضروری ہے۔یہیں سے اخراجات کا سوال پیدا ہوتا ہے۔نو صوبوں کے قیام کے بعد صرف اعلیٰ عہدوں کی تعداد ہی نہیں بڑھے گی بلکہ وزرا، مشیران، پارلیمانی سیکرٹریز، اسمبلی عملہ، محکمہ جاتی سیکرٹریٹ، پولیس انتظامیہ، سرکاری گاڑیاں، رہائش گاہیں، دفاتر، پنشن اور دیگر مستقل اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے محض وزیراعلیٰ، گورنر یا چیف سیکرٹری کی تنخواہ کو صوبہ بنانے کی لاگت سمجھنا درست نہیں۔ اصل حساب میں تنخواہیں، پنشن، پولیس، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، سرکاری عمارات، گاڑیاں، یوٹیلیٹیز اور ترقیاتی اخراجات سب شامل ہوں گے۔یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ پنجاب کا موجودہ مالیاتی نظام وفاقی وسائل سے بڑی حد تک جڑا ہوا ہے۔ اگر ایک صوبہ نو صوبوں میں تقسیم ہوتا ہے تو صرف نقشہ نہیں بدلے گا بلکہ قومی مالیاتی ایوارڈ، وسائل کی تقسیم، اثاثوں اور واجبات کی تقسیم، ملازمین کی منتقلی اور مالی ذمہ داریوں کے نئے اصول بھی طے کرنا ہوں گے۔دیگر خطوں کے تجربات سے سبقپاکستان اکیلا ملک نہیں جہاں انتظامی تقسیم کی بحث اٹھی ہو۔ بھارت میں 2014 میں آندھرا پردیش کو تقسیم کر کے تلنگانہ کا نیا صوبہ بنایا گیا۔ ابتدائی برسوں میں تلنگانہ کو بھی وہی چیلنجز درپیش آئے جن کا ذکر اوپر ہوا — نئے سیکرٹریٹ، اثاثوں کی تقسیم پر تنازعات، اور دارالحکومت (حیدرآباد) کی مشترکہ حیثیت کا مسئلہ۔ لیکن ساتھ ہی تلنگانہ نے آئی ٹی اور خدمات کے شعبے کو مرکز بنا کر نسبتاً تیزی سے اپنی معیشت مستحکم کی۔ اس کے برعکس، آندھرا پردیش کو اپنے نئے دارالحکومت کی تعمیر پر خاطر خواہ مالی دباو¿ کا سامنا رہا۔ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ نتیجہ یکطرفہ نہیں ہوتا — کچھ نئے صوبے فائدے میں رہتے ہیں تو کچھ کو طویل عرصے تک مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں خود بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی مثالیں بھی یہی ظاہر کرتی ہیں کہ چھوٹے صوبوں کی مالی خودکفالت وفاقی منتقلی کے بغیر آج تک مکمل نہیں ہو سکی۔سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ نو صوبے اپنے اخراجات خود پورے کر سکیں گے؟اس کا جواب ہر ڈویڑن کی معاشی ساخت میں چھپا ہوا ہے۔لاہور کی معیشت خدمات، تجارت، کاروبار، رئیل اسٹیٹ، تعلیم، صحت اور مختلف نجی شعبوں پر نسبتاً زیادہ قائم ہے۔ اس لیے اس کی اپنی آمدن پیدا کرنے کی صلاحیت دوسرے کئی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتی ہے۔گوجرانوالہ اور فیصل آباد صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم ہیں۔ فیصل آباد کی ٹیکسٹائل صنعت جبکہ گوجرانوالہ کی مختلف صنعتی اور کاروباری سرگرمیاں ان علاقوں کو معاشی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ تاہم صنعت کا حجم بڑھانے، توانائی، برآمدات، ٹیکنالوجی اور ٹیکس نیٹ کو بہتر بنائے بغیر صرف صوبائی حیثیت مالی خودکفالت کی ضمانت نہیں بن سکتی۔راولپنڈی کی معیشت خدمات، تجارت، تعمیرات اور وفاقی دارالحکومت سے جڑی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ یہاں بھی ایک مضبوط شہری معیشت موجود ہے، لیکن نئے صوبے کے تمام مستقل اخراجات کے لیے باقاعدہ مالی منصوبہ بندی ضروری ہوگی۔سرگودھا کی بڑی معاشی طاقت زراعت، بالخصوص ترش پھلوں اور زرعی پیداوار میں ہے۔ مگر یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا خام زرعی پیداوار کو فوڈ پروسیسنگ، پیکیجنگ، کولڈ چین اور برآمدی صنعت میں تبدیل کیا جائے گا؟ساہیوال میں زراعت، ڈیری، لائیو اسٹاک اور غذائی پیداوار اہم شعبے ہیں۔ اگر زرعی پیداوار کے ساتھ ڈیری پروسیسنگ، گوشت، فوڈ انڈسٹری اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دیا جائے تو معاشی بنیاد مضبوط ہوسکتی ہے۔ملتان جنوبی پنجاب کا ایک بڑا تجارتی اور زرعی مرکز ہے۔ کپاس، آم، دیگر زرعی پیداوار، لائیو اسٹاک، تجارت اور صنعتی سرگرمیاں اس کی معاشی شناخت ہیں۔ لیکن ملتان کی اصل صلاحیت اس وقت پوری طرح سامنے آسکتی ہے جب زرعی پیداوار کو مقامی سطح پر پروسیسنگ، پیکیجنگ، برانڈنگ اور برآمدات سے جوڑا جائے۔بہاولپور میں زراعت، لائیو اسٹاک، توانائی اور سیاحت کے امکانات موجود ہیں، جبکہ ڈیرہ غازی خان میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے ساتھ معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں امکانات دیکھے جا سکتے ہیں۔ تاہم دونوں علاقوں میں نئے صوبائی انتظامی ڈھانچے کے قیام کے لیے ابتدائی سرمایہ کاری کی ضرورت زیادہ ہوسکتی ہے۔یہاں ایک بنیادی معاشی حقیقت نظر انداز نہیں ہونی چاہیے: زراعت پیداوار ضرور دیتی ہے، مگر پیداوار اور سرکاری آمدن ایک چیز نہیں۔مثلاً آم پیدا ہونا اپنے آپ میں صوبائی خزانے کو بڑی آمدن نہیں دیتا۔ اگر وہی آم مقامی سطح پر پروسیس ہو، پیک ہو، برانڈ بنے اور عالمی منڈی میں برآمد ہو تو اس سے صنعت، روزگار، کاروبار، ٹیکس اور برآمدی آمدن کے کئی دروازے کھل سکتے ہیں۔ یہی اصول کپاس، گندم، دودھ، گوشت، ترش پھلوں اور دیگر زرعی اجناس پر بھی لاگو ہوتا ہے۔اس لیے نو صوبوں کی بحث کو صرف انتظامی تقسیم کے بجائے معاشی تقسیم کے زاویے سے بھی دیکھنا ہوگا۔ہر نئے صوبے کو پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ اس کی اپنی آمدن کہاں سے آئے گی۔ زرعی ٹیکس، سروسز، پراپرٹی، ایکسائز، معدنیات، صنعتی سرگرمی، کاروباری رجسٹریشن، سیاحت اور دیگر ممکنہ ذرائع کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا ہوگا۔ اس کے بعد یہ دیکھنا ہوگا کہ متوقع آمدن کے مقابلے میں تنخواہوں، پنشن، پولیس، تعلیم، صحت اور انتظامی اخراجات کتنے ہوں گے۔یہ بھی ضروری ہے کہ نئے صوبے کو صرف وفاقی منتقلی پر منحصر نہ بنایا جائے۔ اگر کوئی صوبہ اپنے مستقل اخراجات کے لیے مسلسل وفاقی وسائل کا محتاج رہے تو صوبائی خودمختاری کا مقصد جزوی رہ جائے گا۔اسی لیے صوبے بنانے سے پہلے ہر مجوزہ صوبے کے لیے ایک فنانشل ویابلٹی رپورٹ تیار ہونی چاہیے۔ اس رپورٹ میں آبادی، موجودہ آمدن، ممکنہ ٹیکس بیس، متوقع وفاقی حصہ، سرکاری ملازمین، پنشن، پولیس، تعلیم، صحت، ترقیاتی ضروریات، اثاثے، واجبات اور ابتدائی انتظامی اخراجات کا مکمل حساب موجود ہو۔آئینی طور پر بھی یہ ایک معمولی انتظامی فیصلہ نہیں۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 239(4) کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی سے متعلق آئینی ترمیم کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کم از کم دو تہائی مجموعی رکنیت کی منظوری ضروری ہے۔ اس لیے پنجاب کو نئے صوبوں میں تقسیم کرنا سیاسی خواہش سے آگے بڑھ کر ایک باقاعدہ آئینی عمل کا تقاضا کرے گا، جس کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوگا۔ایک درمیانی راستہ؟اگر فنانشل ویابلٹی رپورٹ کسی ڈویڑن کے لیے منفی نتیجہ دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس علاقے کی محرومی کا مسئلہ نظر انداز کر دیا جائے۔ مکمل صوبہ بنائے بغیر بھی انتظامی (ڈی سینٹرلائزیشن) کے ذریعے ڈویڑنل سطح پر مالی و انتظامی اختیارات میں اضافہ ایک متبادل راستہ ہو سکتا ہے — جیسا کہ بعض ماہرین تجویز کرتے رہے ہیں۔ اس سے مقامی حکومت کا فائدہ بھی مل سکتا ہے اور نئے مکمل ریاستی ڈھانچے کی بھاری لاگت سے بھی بچا جا سکتا ہے۔اصل بحث یہ نہیں ہونی چاہیے کہ نو صوبے بننے چاہئیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا نو ایسے صوبے بنائے جا سکتے ہیں جو عوام کے قریب حکومت بھی فراہم کریں اور اپنے انتظامی اخراجات کا قابلِ عمل مالی بندوبست بھی کر سکیں؟ اور اگر نہیں، تو کیا کوئی درمیانی راستہ محرومی کے احساس کو کم کر سکتا ہے؟اگر جواب ہاں میں ہے تو اس کے لیے پہلے معاشی نقشہ بنانا ہوگا، پھر انتظامی نقشہ۔نقشہ بنانے سے پہلے آمدن کا نقشہ بنانا ہوگا۔حکومتیں بنانے سے پہلے اخراجات کا حساب کرنا ہوگا۔اور صوبے بنانے سے پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ ان صوبوں کی معیشت کون چلائے گا۔کیونکہ اختیار نو حصوں میں بانٹ دینا شاید آسان ہو، مگر اصل امتحان یہ ہے:کیا آمدن بھی نو حصوں میں پیدا ہوگی؟

پنجاب کے نو صوبے: اختیار بڑھے گا یا اخراجات؟

مہنگی بجلی کا توڑ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے