#کالم

صوبہ بہاولپور کا خواب اور نوجوان کا مستقبل

Untitled 5

جاویدایازخان

جہاں ملک بھر میں نئے صوبوں کی بحث جاری ہے اورصوبوں اور "ری سیٹ ” کے بارے میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایک بیان نے ملکی سیاست ہلا کر رکھ دی ہے۔وہیں صوبہ بہاولپور کی بحالی کی پرانی تحریک میں جان پڑنے کی وجہ پرنس بہاول خان عباسی کی قیادت اور ان کی جانب سے لگارتارمطالبہ ، تقاریر اور بیانات ہیں۔ٹیلی ویڑن پر ان کے تازہ ترین انٹرویو ز نے لوگوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کردیا۔ بہاولپور ریاست کے وارثان سے یہاں کے لوگوں کی عقیدت اور محبت چھپی نہیں ہےوہ اس خاندان سے والہانہ وابستگی رکھتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آج بہاولپور کے تمام سیاسی و سماجی حلقے اور شخصیات بہاولپور صوبے کی بحالی کی تحریک کی حمایت میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔بہاولپور کا نوجوان اس سلسلے میں بڑی امیدیں وابستہ کر چکا ہے۔پرنس بہاول خان عباسی کی سوچ ہے کہ صوبہ بہاولپور کی بحالی صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ہمارے نوجوان کے مستقبل کا سوال ہے۔نوجوان پرنس بہاول خان عباسی کی خواہش ایک ایسا بہاولپور صوبہ ہے جہاں ماضی کی طرح نوجوان نوکری کی تلاش کرنے والا نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والا بن سکے۔ایسا صوبہ جس کی پہلی ترجیح نوجوان اور ان کا روشن مستقبل ہوجہاں ڈگریاں ہی نہ ہوں مواقع بھی ہوں۔وہ ریاست بہاولپور کی طرز پر خوشحالی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ایک طویل جدوجہد کرنے والی بحالی صوبہ بہاولپور تحریک کی خاتون لیڈراور بہاولپور کی ایک بیٹی محترمہ آسیہ کامل اور دوسرے پرعزم رہنماوں کی جوشیلی تقاریر ،نعرے اور پیغامات سوشل میڈیا پر اس مطالبے کے حق میں اٰواز بلند کرتے ہوے پرنس بہاول خان عباسی کی قیادت میں صوبے کی بحالی پر یقین رکھتے ہیں۔یہ کریڈٹ یقینا” پرنس بہاول خان عباسی کو جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے والد محترم نواب صلاح الدین عباسی امیر آف بہاولپور کے خواب کو پورا کرنے کے لیے تحریک کے پرانے کارکنوں اور نوجوان طبقے کو ایک مقصد کے حصول کے لیے ایک چھتری تلے جمع کر لیا ہے۔آج صادق گڑھ پیلس پھر سے مرکزی حیثیت حاصل کرتا جارہا ہے۔اس تحریک کی ایک خصوصیت یہ بھی رہی ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بہاولپور کی خواتین نے بھی ہمیشہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اور آج بھی ہر طرح کے تعصبات اور وابستگیوں سے بالا تر ہوکر پرنس بہاول کان عباسی کی قیادت میں متحد اور سرگرم ہیں۔ صوبے صرف کسی جغرافیے کی تبدیلی یا نقشے پر کھینچی ہوئی لکیروں کا نام نہیں ہوتے، صوبے دراصل علاقے کے لوگوں کے خوابوں، امیدوں اور مستقبل کا پتہ ہوتے ہیں۔ کسی خطے کے لیے نئے صوبے کا مطالبہ اگر صرف سیاسی نعرہ بن جائے تو شاید اس کی روح کہیں پیچھے رہ جاتی ہے، لیکن اگر اس مطالبے کے مرکز میں آنے والی نسل کا مستقبل ہو تو پھر بات محض انتظامی تقسیم کی نہیں رہتی، یہ ایک پوری نسل کے حقِ زندگی اور حقِ ترقی کا سوال بن جاتی ہے۔یہی شاید تحریک بہاولپور صوبہ بحالی کی وہ روح اور خواہش ہے جو پچھلے چھپن سال سے کسی نہ کسی شکل میں جدوجہد کی صورت جاری رہی ہے۔وہ کوئی نیا صوبہ نہیں مانگتے وہ اپنے سابقہ صوبے کی بحالی چاہتے ہیں۔بہاولپور ہمیشہ تعلیمی ترجیحات کا حامل رہا ہے۔ریاست بہاول پور کے دور میں یہاں بڑے بڑے مایہ ناز تعلیمی ادارے قائم کئے گئے جہاں پورے ملک سے تعلیم کے لیے لوگ آتے تھے۔جس کا تسلسل آج پھر سے درکار ہے لیکن محض تعلیمی ادارے ہی کافی نہیں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں یونیورسٹی یعنی تعلیم۔۔صحت۔۔صنعت۔۔ہنر۔۔۔اور روزگار کا ایک مربوط نظام بنایا جاے ۔تاکہ قدرتی دولت سے مالا مال یہ خطہ ملکی معاشی ترقی کا حصہ بن سکے۔ صوبہ بہاولپور کی بات بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کا نوجوان آج تعلیم حاصل کرتا ہے، ڈگری لیتا ہے، خواب دیکھتا ہے، پھر روزگار کی تلاش میں اپنے شہر، اپنے علاقے اور کبھی اپنے وطن تک کو چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ماں باپ کی آنکھوں میں سجائے گئے خواب اکثر بڑے شہروں کی بھیڑ میں گم ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسا نظام نہیں بنایا جا سکتا جہاں بہاولپور کا نوجوان اپنے مستقبل کی تعمیر اپنے ہی خطے میں کر سکے؟ صوبہ بہاولپور بننے کی بحث کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہونا چاہیے کہ یہ صوبہ نوجوانوں کے لیے بنایا جائے۔ ایسا صوبہ جہاں یونیورسٹیاں صرف ڈگریاں نہ بانٹیں بلکہ روزگار سے جڑی تعلیم دیں۔ جہاں فنی تربیت نوجوان کے ہاتھ میں ہنر دے۔ جہاں زراعت صرف روایتی کاشت کاری تک محدود نہ رہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی، زرعی صنعت، فوڈ پروسیسنگ اور برآمدات کے نئے دروازے کھولے جائیں۔ جہاں صنعتیں قائم ہوں، کاروبار کے مواقع پیدا ہوں اور نوجوان سرکاری ملازمت کے چند محدود دروازوں کے سامنے قطار میں کھڑے رہنے کے بجائے اپنے لیے نئے راستے پیدا کر سکیں۔یاد رکھنا ہو گا کہ بہاولپور کی زرعی بنیاد بہت مضبوط ہے۔سرکاری اعداد وشمار کے مطابق بہاولپور ڈویڑن میں تقریبا” تریپن لاکھ ایکڑ رقبہ ہے جس میں سے تقریبا” بیالیس ایکڑ رقبہ زیر کاشت ہے۔یہ صرف کسان کی معیشت نہیں بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک پوری زرعی انڈسٹری بن سکتی ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نوجوان صرف ملازمت کا نام نہیں۔ نوجوان ایک صلاحیت، ایک توانائی اور ایک خواب کا نام ہے۔ اگر اسے تعلیم ملے، ہنر ملے، سرمایہ اور مناسب ماحول ملے تو یہی نوجوان اپنے خاندان کی تقدیر بدل سکتا ہے، اپنے شہر کی معیشت بدل سکتا ہے اور پورے صوبے کو ترقی کی نئی منزلوں تک لے جا سکتا ہے۔ بہاولپور کے نوجوان میں صلاحیت کی کمی نہیں، کمی صرف مواقع کی ہے۔ جس خطے کے نوجوان ملک کے دوسرے شہروں اور بیرونِ ملک جا کر اپنی قابلیت منوا سکتے ہیں، وہ اپنے ہی خطے میں کیوں نہیں؟ صوبہ بہاولپور کا قیام اگر کبھی حقیقت بنتا ہے تو اس کا سب سے بڑا امتحان یہ نہیں ہوگا کہ کتنے نئے دفاتر بنے، کتنی نئی کرسیاں آئیں یا کتنے نئے عہدے پیدا ہوئے۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ کتنے نوجوانوں کے خواب حقیقت میں بدلے؟ کتنے بچوں کو معیاری تعلیم ملی؟ کتنے نوجوانوں کو ہنر ملا؟ کتنے گھروں میں روزگار آیا؟ کتنے نوجوانوں نے اپنا کاروبار شروع کیا؟ کتنے لوگوں کو اپنے علاقے میں باعزت زندگی گزارنے کا موقع ملا؟ یہی وہ سوالات ہیں جو کسی نئے صوبے کی اصل کامیابی کا تعین کریں گے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ بہاولپور کے مستقبل کی بحث میں آج کے نوجوان کو مرکز میں رکھنا ہوگا۔ ہمیں ایسا صوبہ نہیں چاہیے جو صرف کاغذوں پر نیا ہو؛ ہمیں ایسا بہاولپور چاہیے جو مواقع میں نیا، سوچ میں نیا اور مستقبل کے اعتبار سے نیا ہو۔ ہماری آنے والی نسلیں ہم سے یہ نہیں پوچھیں گی کہ صوبے کی سرحد کہاں سے گزرتی تھی، وہ یہ پوچھیں گی کہ جب ہمارے پاس اپنے مستقبل کو سنوارنے کا موقع تھا تو ہم نے کیا کیا؟ آج کا نوجوان صرف روزگار نہیں مانگ رہا، وہ اپنے خوابوں کو جینے کا حق مانگ رہا ہے۔ اس لیے صوبہ بہاولپور کی خواہش کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو شاید یوں کہا جا سکتا ہے ہمیں ایسا بہاولپور چاہیے جہاں ہمارے نوجوان مستقبل تلاش کرنے کے لیے اپنا گھر نہ چھوڑیں، بلکہ دنیا مستقبل تلاش کرنے کے لیے بہاولپور آئے۔ یہی صوبہ بہاولپور کے خواب کی اصل روح ہونی چاہیے۔روزگار ،ترقی ،خوشحالی اورامن کی خواہش یہاں کے نوجوانوںکا وہ خواب ہے جس کی تعبیر وہ صوبہ بہاولپور کی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

صوبہ بہاولپور کا خواب اور نوجوان کا مستقبل

مہنگی بجلی کا توڑ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے