#کالم

حکومتی حجم نہیں، مو¿ثر پالیسی اور نتائج درکار ہیں

nadeem

محمد ندیم بھٹی

پاکستان آج ایسے معاشی اور انتظامی دور سے گزر رہا ھے جہاں حکومت کے حجم سے زیادہ اس کی کارکردگی، پالیسی سازی اور عملی نتائج اہم ھو چکے ہیں۔ ریاستی نظام کا مقصد صرف زیادہ وزارتیں، عہدے اور بڑا انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا نہیں بلکہ عوام کو بہتر سہولیات، معیشت کو مضبوط بنیادیں، روزگار میں اضافہ اور کاروباری طبقے کو مستقل ماحول فراہم کرنا ھے۔چین اور پاکستان کی آبادی اور حکومتی ڈھانچے کا تقابل ایک اہم سوال سامنے لاتا ھے۔ چین کی آبادی ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد جبکہ پاکستان کی آبادی تقریباً 24 کروڑ 15 لاکھ ھے۔ پاکستان کی وفاقی حکومت کی موجودہ سرکاری فہرست میں 31 وفاقی وزرا اور 11 وزرائے مملکت شامل ہیں۔ یہ تقابل صرف وزرا اور وزارتوں کی تعداد کا نہیں ھونا چاھیے بلکہ اس بات کا بھی ھونا چاہیے کہ قومی وسائل کے مقابلے میں ملک کو کیا معاشی نتائج حاصل ھو رھے ہیں۔برآمدی ممالک کے نتائج ہمارے لیے اہم سبق ہیں ،دنیا کی برآمدی معیشتوں کا مطالعہ کیا جائے تو چین، ویتنام اور دیگر ممالک کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ صنعتی پیداوار، برآمدی تنوع، نئی عالمی منڈیوں تک رسائی، مقامی صنعت کی سرپرستی اور طویل المدتی پالیسی تسلسل معاشی ترقی کے اہم عناصر ہیں۔چینی کسٹمز کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025ءمیں چین کی اشیا کی برآمدات تقریباً 3.772 ٹریلین ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات تقریباً 2.583 ٹریلین ڈالر تھیں۔ ویتنام کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024ء میں اس کی اشیا کی برآمدات 405.53 ارب ڈالر رہیں، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 14.3 فیصد زیادہ تھیں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کی سرکاری دستاویز کے مطابق مالی سال 2023ء میں ملکی برآمدات 27.724 ارب ڈالر تھیں۔ یہ اعداد پاکستان کے لیے برآمدات میں اضافے، مصنوعات میں تنوع اور عالمی منڈی میں اپنی موجودگی بڑھانے کی وسیع گنجائش کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ھے کہ چین یا ویتنام کے نظام کو جوں کا توں پاکستان میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ ہر ملک کے اپنے سیاسی، معاشی، آئینی اور سماجی حالات ہوتے ہیں۔ تاہم ان ممالک کے قابلِ پیمائش معاشی تجربات کا مطالعہ کرکے پاکستان اپنے لیے موزوں حکمتِ عملی ضرور تشکیل دے سکتا ھے۔کاروباری بندش حکومتی بچت کا مو¿ثر راستہ نہیں۔حکومتی اخراجات کم کرنے کا راستہ معاشی سرگرمیوں کو غیر ضروری طور پر روکنا نہیں ہونا چاہیے۔ صحت عامہ یا عوامی تحفظ کی غیر معمولی صورت حال میں محدود اور عارضی پابندیاں بعض اوقات ضروری ھو سکتی ہیں، لیکن کاروباری بندش کو حکومتی اخراجات میں کمی کا مستقل ذریعہ بنانا مو¿ثر معاشی حکمتِ عملی نہیں۔کاروبار بند ھونے سے صنعت، تجارت، مزدوروں کی آمدنی، روزگار اور ٹیکس وصولی متاثر ھو سکتی ھے۔ اس لیے اگر کسی حکومتی فیصلے سے کاروباری طبقے یا صنعت کو نمایاں معاشی نقصان پہنچے تو اس نقصان کا باقاعدہ جائزہ لیا جانا چاہیے اور جہاں ضروری ھو متاثرہ شعبوں کے لیے بحالی، سہولت یا مناسب ازالے کا طریقہ وضع کیا جانا چاہیے۔حکومت کو بچت کرنی ھے تو سب سے پہلے اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں۔ غیر ضروری عہدے، سرکاری مراعات، اداروں کی تکرار، اضافی دفتری اخراجات اور غیر مو¿ثر منصوبوں کا جائزہ لیا جائے۔ عوامی معیشت کو روکنے کے بجائے حکومتی نظام کو کم خرچ اور زیادہ مو¿ثر بنایا جائے۔برآمدات کے لیے عملی نقشہ? عملپاکستان کو برآمدات بڑھانے کے لیے محض اعلانات کے بجائے واضح مرحلہ وار منصوبہ بنانا ھوگا۔ پہلے مرحلے میں آئندہ تین سال کے لیے ہر اہم برآمدی شعبے کا الگ ہدف مقرر کیا جائے۔ نساجی و ملبوسات، چاول، پھل، سبزیاں، کھیلوں کا سامان، جراحی کے آلات، چمڑا، ادویات، انجینئرنگ مصنوعات، معدنیات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی خدمات کے لیے الگ اہداف مقرر ھوں۔دوسرے مرحلے میں خام مال کے بجائے تیار اور زیادہ قدر رکھنے والی مصنوعات کی برآمد بڑھائی جائے۔ کپاس کو صرف خام مال یا دھاگے کی صورت میں فروخت کرنے کے بجائے تیار ملبوسات اور عالمی معیار کی مصنوعات میں تبدیل کیا جائے۔ اسی طرح زرعی اجناس کو خام حالت میں برآمد کرنے کے بجائے محفوظ، معیاری اور پیک شدہ مصنوعات میں تبدیل کیا جائے۔تیسرے مرحلے میں نئی عالمی منڈیوں کی تلاش کی جائے۔ بیرون ملک پاکستانی تجارتی مشنز کو واضح اہداف دیے جائیں کہ وہ نئے خریدار، نئی منڈیاں اور پاکستانی مصنوعات کے لیے کاروباری مواقع تلاش کریں۔چوتھے مرحلے میں صنعت کو مسابقتی توانائی، آسان مالی سہولت، جدید فنی ٹیکنالوجی، تیز کسٹمز کارروائی، بہتر نقل و حمل اور مستحکم ٹیکس پالیسی فراہم کی جائے۔ برآمد کنندگان کو بار بار تبدیل ھونے والی پالیسیوں کے بجائے کم از کم پانچ سال کا واضح اور قابلِ اعتماد معاشی ماحول دیا جائے۔پانچویں مرحلے میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو برآمدی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ انہیں عالمی معیار، مصنوعات کی تیاری و پیکج بندی، برقی تجارت، بیرون ملک خریداروں تک رسائی اور برآمدی دستاویزات کے حوالے سے عملی تربیت فراہم کی جائے۔خود کفالت کی طرف عملی پیش قدمی۔۔۔پاکستان کو خود کفالت کی طرف بھی مرحلہ وار بڑھنا ھوگا۔ جن اشیا کو ملک کے اندر معیاری اور مسابقتی انداز میں تیار کیا جا سکتا ھے، ان کی مقامی پیداوار کو فروغ دیا جائے۔ زراعت، خوراک، توانائی، مشینری، صنعتی خام مال اور ضروری اشیا میں غیر ضروری درآمدی انحصار کم کیا جائے۔خود کفالت کا مطلب دنیا سے الگ ھونا نہیں بلکہ ملکی پیداوار کو اس قابل بنانا ھے کہ پاکستان اپنی ضروریات کا بڑا حصہ خود پورا کرنے کے ساتھ اضافی پیداوار عالمی منڈی میں فروخت بھی کر سکے۔اجتماعی مطالعہ اور مو¿ثر پالیسی سازی۔۔۔۔بڑی معاشی حکمتِ عملی بنانے سے پہلے حکومت کو جامعات، ماہرینِ معیشت، صنعت کاروں، تاجروں، برآمد کنندگان، زرعی ماہرین، مزدور نمائندوں اور تحقیقی اداروں کو ایک میز پر بٹھانا چاہیے۔ ہر بڑے فیصلے سے پہلے اس کے ممکنہ معاشی فوائد، نقصانات، متاثر ہونے والے شعبوں اور متبادل راستوں کا اجتماعی مطالعہ ھونا چاہیے۔ یہ مطالعات محض رسمی کارروائی نہ ھوں بلکہ ان کی سفارشات کو قابلِ پیمائش اہداف میں تبدیل کیا جائے۔ ہر سال دیکھا جائے کہ کون سی سفارش پر عمل ھوا، کیا نتیجہ نکلا اور اگر مطلوبہ نتیجہ حاصل نہیں ھوا تو حکمتِ عملی میں کیا تبدیلی ضروری ھے۔پاکستان میں وزارتوں، جامعات، صنعتی اداروں اور تحقیقی مراکز کے درمیان مستقل رابطہ قائم کیا جائے۔ قومی معیشت کے اہم شعبوں پر مشترکہ تحقیقی رپورٹیں تیار ہوں اور ان کی بنیاد پر اگلے سال کے لیے واضح اہداف مقرر کیے جائیں۔ اس طرح فیصلے وقتی دباو¿ کے بجائے تحقیق، اعداد و شمار اور زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جا سکیں گے۔حکومتی حجم کم، کارکردگی زیادہ۔۔۔۔۔پاکستان میں حکومتی اخراجات کم کرنے کے لیے وزارتوں، ڈویڑنوں، ماتحت اداروں اور سرکاری محکموں کا جامع جائزہ ضروری ھے۔ جہاں دو یا اس سے زیادہ ادارے ایک جیسے کام کر رھے ہوں وہاں اختیارات واضح کیے جائیں یا مناسب صورت میں اداروں کو یکجا کیا جائے۔ ہر وزارت کے لیے سالانہ واضح اہداف مقرر ھوں اور سال کے اختتام پر کارکردگی رپورٹ پیش کی جائے۔ اس طرح حکومت کی کارکردگی بیانات کے بجائے نتائج سے جانچی جا سکے گی۔قومی پالیسیوں میں تسلسل بھی ناگزیر ھے۔ توانائی، صنعت، برآمدات، ٹیکس، زراعت، تعلیم، صحت اور سرمایہ کاری کے لیے کم از کم دس سالہ قومی سمت متعین کی جانی چاہیے تاکہ حکومت کی تبدیلی سے بنیادی معاشی پالیسی متاثر نہ ہو۔پاکستان کو بڑی حکومت نہیں بلکہ مو¿ثر حکومت درکار ھے؛ ایسی حکومت جو کم وسائل میں زیادہ نتائج دے، غیر ضروری انتظامی بوجھ کم کرے، صنعت اور تجارت کو سہولت دے، برآمدات میں مسلسل اضافہ کرے اور ملک کو بتدریج خود کفالت کی طرف لے جائے۔اگر حکومت واقعی قومی خزانے پر بوجھ کم کرنا چاہتی ھے تو اس کا راستہ معاشی سرگرمیوں کو روکنا نہیں بلکہ اپنے اخراجات کم کرنا، غیر ضروری اداروں کو ختم یا یکجا کرنا، سرکاری وسائل کے استعمال میں نظم پیدا کرنا، برآمدات کو کئی گنا بڑھانا، مقامی پیداوار کو عالمی معیار تک پہنچانا اور ناقص فیصلوں سے ہونے والے معاشی نقصانات کا بروقت ازالہ کرنا ھے۔قومی ترقی کا راستہ وزارتوں اور عہدوں کی تعداد بڑھانے سے نہیں بلکہ کم خرچ حکومت، مضبوط صنعت، بلند برآمدات، مقامی پیداوار، اجتماعی مطالعے، پالیسی کے تسلسل اور قابلِ پیمائش نتائج سے نکلتا ھے۔ پاکستان کو اب یہ طے کرنا ھوگا کہ قومی وسائل کا زیادہ حصہ انتظامی بوجھ پر خرچ کرنا ھے یا ایسی معیشت بنانے پر جس سے روزگار، برآمدات، پیداوار اور قومی آمدنی میں مستقل اضافہ ھو۔

حکومتی حجم نہیں، مو¿ثر پالیسی اور نتائج درکار ہیں

17/09/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے