مہنگائی میں کمی اور قیمتوں پر کنٹرول
الیاس چدھڑ
مہنگائی میں کمی کے دعووں کے ساتھ بازاروں میں یکساں نرخوں کا نفاذ بھی ضروری ہے۔۔۔ناجائز منافع خوری اور من مانی قیمتوں کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔۔۔مہنگائی کسی بھی معاشرے کا ایسا سنگین مسئلہ ہے جس کا براہِ راست اثر عام آدمی کی زندگی، گھریلو بجٹ اور معاشی حالات پر پڑتا ہے۔ حکومت کی جانب سے مہنگائی میں کمی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مختلف اقدامات اور پالیسیوں کا اعلان کیا جاتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان اقدامات کے ثمرات عام شہری تک کس حد تک پہنچ رہے ہیں؟ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے بازاروں، مارکیٹوں اور دکانوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک ہی شہر، ایک ہی بازار اور بعض اوقات ایک ہی گلی میں واقع دکانوں پر ایک ہی چیز کے الگ الگ نرخ وصول کیے جا رہے ہیں۔ کہیں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں مختلف ہیں تو کہیں دالوں، گوشت، دودھ، دہی اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا کے اپنے اپنے ریٹ مقرر ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہر دکاندار نے اپنی الگ حکومت قائم کر رکھی ہو اور قیمت مقرر کرنے کا اختیار صرف اسی کے پاس ہو۔یہ صورتحال نہ صرف عوام کے لیے پریشانی کا باعث ہے بلکہ حکومتی پرائس کنٹرول نظام کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اگر حکومت کسی چیز کا سرکاری نرخ مقرر کرتی ہے تو اس پر عمل درآمد کروانا بھی اسی نظام کی ذمہ داری ہے۔ صرف نرخ نامہ جاری کر دینا کافی نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ہر دکان پر وہی قیمت وصول کی جائے جو سرکاری طور پر مقرر کی گئی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کو سمجھنا ہوگا کہ عوام کو ریلیف اخباری بیانات، پریس ریلیز اور اجلاسوں سے نہیں بلکہ بازار میں مناسب قیمت پر اشیائے ضروریہ کی دستیابی سے ملتا ہے۔آج ایک عام شہری جب گھر سے سودا خریدنے نکلتا ہے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ کس دکان پر کون سا نرخ وصول کیا جائے گا۔ ایک دکان پر ایک قیمت بتائی جاتی ہے اور چند قدم کے فاصلے پر دوسری دکان پر اسی چیز کی قیمت مختلف ہوتی ہے۔ عام صارف کے پاس نہ اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ ہر دکان کا چکر لگائے اور نہ ہی اتنی معاشی استطاعت کہ ہر مرتبہ اضافی قیمت ادا کرتا رہے۔ خصوصاً سفید پوش طبقہ، مزدور، دیہاڑی دار، کم آمدنی والے ملازمین اور بزرگ شہری اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک محدود آمدنی میں بجلی، گیس، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، گھر کا کرایہ اور دیگر اخراجات پورے کرنا پہلے ہی مشکل ہے، ایسے میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی من مانی قیمتیں عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔یہاں ایک اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر سرکاری نرخ نامے موجود ہیں تو ان پر عمل درآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ کیا متعلقہ محکموں کے پاس بازاروں کی نگرانی کے لیے مناسب نظام موجود نہیں؟ کیا پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی ذمہ داریاں صرف کارروائیوں کی رپورٹیں مرتب کرنے تک محدود ہیں؟ حکومت کو ان سوالات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ ضلعی انتظامیہ، اسسٹنٹ کمشنرز، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور مارکیٹ کمیٹیوں کو اپنی ذمہ داریاں فعال انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔ ہر بازار میں باقاعدہ چیکنگ، دکانوں پر نرخ ناموں کی نمایاں نمائش اور مقررہ قیمت سے زائد وصول کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ضروری ہے۔اس مسئلے کا ایک اہم پہلو منڈیوں سے لے کر پرچون دکانوں تک قیمتوں کے فرق کا بھی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صرف چھوٹے دکانداروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے سپلائی چین کے پورے نظام کی نگرانی کرے۔ بعض اوقات ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور غیرضروری منافع خوری کے باعث اشیا کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ بڑے کاروباری عناصر، تھوک فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کو بھی قانون کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔ اگر منڈی میں قیمتوں کا نظام شفاف ہوگا تو پرچون سطح پر بھی یکسانیت پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ چھوٹے دکانداروں کو بھی جائز کاروباری منافع کا حق حاصل ہے، لیکن اس حق کی آڑ میں صارفین کا استحصال کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔حکومت کو پرائس کنٹرول کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ روزانہ کی بنیاد پر اشیائے ضروریہ کے نرخوں کی معلومات عوام تک پہنچائی جائیں، سرکاری نرخ نامے آن لائن دستیاب ہوں اور شہریوں کے لیے شکایات درج کروانے کا آسان طریقہ بنایا جائے۔ ہر شکایت پر فوری کارروائی اور اس کا نتیجہ سامنے آنا چاہیے۔ اسی طرح بازاروں میں اچانک معائنے کیے جائیں تاکہ دکانداروں کو یہ احساس رہے کہ قانون پر عمل درآمد محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک مستقل حکومتی ذمہ داری ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ کارروائی کے دوران کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ دکانداروں کو درست نرخ نامے فراہم کیے جائیں، اشیا کے معیار اور قیمت کے تعین میں شفافیت رکھی جائے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف یکساں معیار کے مطابق کارروائی کی جائے۔ حکومت کا مقصد کاروبار کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو منظم کرنا اور صارفین کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ ایک متوازن نظام ہی عوام اور تاجروں دونوں کے مفاد میں ہے۔میری نظر میں مہنگائی کے خاتمے کے لیے صرف قیمتیں مقرر کرنا کافی نہیں بلکہ عوام کی قوتِ خرید میں اضافے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، منڈیوں میں مسابقت بہتر بنانے اور اشیائے ضروریہ کی مسلسل فراہمی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ جب تک عام شہری کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان توازن پیدا نہیں ہوگا، اسے حقیقی معاشی سکون میسر نہیں آ سکے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور ایسے اقدامات کرے جن کا اثر براہِ راست گھر کے باورچی خانے تک پہنچے۔*آخر میں حکومت اور متعلقہ انتظامیہ سے یہی گزارش ہے کہ مہنگائی میں کمی کے دعووں کو عملی حقیقت میں تبدیل کیا جائے۔ ہر دکان، ہر بازار اور ہر مارکیٹ میں ایک ہی چیز کے یکساں سرکاری نرخ نافذ کیے جائیں۔ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور من مانی قیمتوں کے خلاف سخت اور مسلسل کارروائی کی جائے۔ عوام پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، انہیں مزید آزمائش میں نہ ڈالا جائے۔ یاد رکھیے! عوام کو اعلانات نہیں، عملی ریلیف چاہیے۔ جس دن شہری بازار سے ضروریاتِ زندگی خریدتے ہوئے مطمئن ہوگا کہ اس سے مقررہ قیمت ہی وصول کی جا رہی ہے، اسی دن حکومت کی پرائس کنٹرول پالیسی حقیقی معنوں میں کامیاب تصور ہوگی۔ یہی اچھی حکمرانی، عوامی خدمت اور ریاستی ذمہ داری کا اصل تقاضا ہے۔






