"جگراتے”
اسد اللہ
پاو¿ں جب بھی کسی غیر مناسب فعل کی طرف بڑھتے ہیں تو جسم پر تھکن کے آثار نمودار ہوتے ہیں یہ تھکن فرضی تھکن نہیں ہے یہ سفر در سفر ہمارے وجود کے ساتھ چلتی رہتی ہے جہاں ایک وجود کا دکھ دائمی دکھ بن جاتا ہے وہیں سے جگراتے جنم لیتے ہیں رات کو صرف جاگنا جگراتے نہیں ہے رات کی وسعتوں کے ساتھ بدلتی ہوئی کیفیات، اور مختلف گھمن گھیریوں کا پلندہ جب انسانی وجود کے گرد حصار قائم کرتا ہے تو جسم جکڑ لیتا ہے یہ جگراتے کی ایک قسم ہے جو انسان نے خود پر اپلائی کی نیند اور خواب کا فقدان انسانی آنکھوں کو ہمیشہ سے رہا ہے بالکل اسی طرح جیسے جسم کو سانسوں کی ضرورت ہے اسی طرح آنکھوں کو نیند کی، لیکن نیند کا میسر آنا ایک نعمت سے کم نہیں یہاں انسان کی آنکھیں نہیں جاگتی اس کی زندگی کے وہ پہلو جاگتے ہیں جس کے خوابوں کی تعبیر کے لیے وہ سوتا ہے اور ایک نئی صبح کے انتظار کے لیے رات بھر خواب دیکھتا ہے ایک نئی اور بہترین صبح، اس کے وجود پر جگراتے کا سبب بنتی ہے کبھی یہ مت سوچیے گا کہ یہ آنکھیں سوتی ہیں یہ آنکھیں جاگتی ہیں یہ اس درمیانی کیفیت کا شکار ہیں جسے جگراتے کہا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ عمر کی اس بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ ٹین ایج لڑکے اور لڑکیوں میں نت نئے خوابوں کی امنگ جنم لیتی ہے تو جگراتے خود بخود حائل ہونا شروع ہو جاتے ہیں اسی مدار میں انسان گردش کرتا ہے تو جگراتے کی ایک دوسری قسم سامنے آتی ہے اس قسم کو ٹین ایج لوگوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے جن کے درمیان عشق و محبت کے تعلقات جنم لیتے ہیں وہ رات بھر آنکھوں کی تھکن اتارنے کے لیے جگراتے جالتے ہیں اسی جگراتے میں ان کی زندگی ایک زندہ لاش کا کردار ادا کرتی ہے جگراتے انسانیت سوز ہوتے ہیں یہ قتل عام کرتے ہیں عشق و محبت کے ٹھکرائے ہوئے لوگ جب رات بھر نیم وا آنکھوں کے ساتھ جاگتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں مستقبل کی کوئی چمک نظر نہیں آتی ان کے لبوں پر مسکراہٹ کا کوئی پہلو دکھائی نہیں دیتا ان کا چہرہ اداسی کی وہ تمام حد عبور کر جاتا ہے جو اس عمر کو خوش ہونے کے لیے ضروری تھی جاگنا صرف حالات کی گردش کے لیے نہیں ہوتا انسان خوابوں کی تکمیل کے لیے بھی جاگتا ہے اور ایسے خواب کبھی پورے بھی نہیں ہوتے جب راتوں کا تعلق ذہنی کشمکش سے ہوتا ہے غریب اور نادار اور غربت سے پسے ہوئے افراد کے جگراتے نئے دن کی صبح سے پھوٹتے ہیں اور امیر کبیر افراد کے جگراتے غیر مناسب افعال سے وجود حاصل کرتے ہیں دونوں جگراتے میں فرق ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج نوجوان طبقہ مسلسل مایوسی کا شکار ہے ان کے جگراتے انہیں کوئی سوچ اور فکر نہیں دیتے وہ عشق و محبت کے ہاتھوں چور نیند کے خمار کے قریب تک نہیں جاتے ان کی آنکھوں میں زندگی ختم ہوتی نظر اتی ہے ۔اس میں صرف آنکھیں نہیں جاگتی وجود کا ہر ایک ایک انگ پھڑکتا رہتا ہے اس ایک لمحے کو پانے کے لیے جس کی جستجو میں جب رات جالے جاتے ہیں تا ہم جذبات کی ناقدری اور تذلیل کرنے والے لوگوں کو عنقریب دنیاوی ذلت ہے ان کو دشواری کا سامنا رہے گا کچھ لوگ مستقبل کو جان جاتے ہیں وہ ہر روز خوابوں کو دفنا کر سوتے ہیں لیکن پھر بھی مستقبل کی فکر ان کو سونے نہیں دیتی یہ بھی جگراتے کی قسم ہے لیکن آج کل جگراتے کی ایک قسم جو سب سے زیادہ مقبول ہے وہ ٹین ایج لوگوں کا جاگنا ہے جو کسی کے ہجر و وصال میں پھڑک رہے ہوتے ہیں ہیں نوجوان نسل کو جگراتے کھا گئے نجی اور ازدواجی زندگی کو جگراتے کھا گئے مستقبل کی فکر کرنے کو جگاتے کھا گئے اور بڑھاپے کو پہنچے تو نیند کا خمار ہمیشہ کیلئے زائل ہو جاتا ہے ہر ایک شخص وجود کی جنگ لڑتا ہوا نظر آتا ہے وہ کسی نے کیا خوب کہا تھا
تیرے خوابوں کی عمر سترہ برس
میرے جگراتے بیس سال کے ہیں
آج آنکھیں جگراتے میں ہیں یہ جاگ جاگ کر رات کاٹتی ہیں ان آنکھوں کو کسی رات بھی سونا نصیب نہیں ہوا یہ ہر رات کسی بے قدری جنس شیطان کی راہ دیکھا کرتے ہیں کسی نے انسان کے سلگتے ہوئے جسم اور اس پر لگی زخموں کی بوچھاڑ کو پٹیوں سے نہیں باندھا یہ زخم پرانے ہو چکے ہیں وہ لوگ معذوروں کو کب کٹھوڑیاں اتار کر دیتے ہیں جنہوں نے خود اٹھا کر پھینک دیا ہو اب وہ ایک ٹوٹی پھوٹی چارپائی کی نظر عمر کی سختی کو جھیل رہے ہیں المختصر ہر ایک شخص کی اپنی اپنی زندگی انہیں جگراتوں کی نظر ہے جس کی قطعاً اسے ضرورت نہیں تھی
زندگی کھا گئی بے فیض مسافت کی تھکن
نیند پوری نہ ہوئی خواب مکمل نہ ہوئے






