#کالم

پاکستانی ادب کے معمار،پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن (قسط ،48)

shaid bukhari

شاہد بخاری

ماہنامہ”خیال وفن“ کا ادبی گوشہ
خیال و فن کے ایڈیٹر ممتاز راشد نے اپنے اس پرچے میں ڈاکٹر اقبال کے لئے ایک ادبی گوشہ منتخب کیا۔ جولائی تا دسمبر2013 شمارہ:46-47
فہرست
نابینا بچوں کی تعلیمی مشکلات شیخ اللہ دیا
تعارف نامہ شاہد بخاری
انتخاب کلام پروفیسر شیخ اقبال
ایک مختلف قسم کا آدمی رفیع الدین ہاشمی
مجھے ہے حکمِ اذاں عطائ الحق قاسمی
نابینا مگر دانا شاعر ممتاز راشد (دوحہ)
خود نوشت ”پردہءسیمیں سے“ ڈاکٹر طاہر تونسوی
منتخب مضامین:
کب رات بسر ہو گی پروفیسر شیخ اقبال
ڈپریشن ڈاکٹر شیخ اقبال پروفیسرحسن عسکری کاظمی
منتخب کلام(پروفیسر اقبال) ادارہ
آشوبِ آگہی شاہد بخاری
یہ کافر دل نہیں مانا محمدممتاز راشد
سہ ماہی بیلاگ(خصوصی گوشہ)
شمارہ نمبر: 4، اکتوبر تا دسمبر2013جلد نمبر 8
ایڈیٹر: عزیز جبران انصاری
محترم عزیز جبران انصاری نے اپنے جریدہ میں پروفیسر شیخ اقبال کے لئے ایک خصوصی گوشہ مختص کیا ہے۔ جس میں درج ذیل مضامین شامل ہیں۔
شاکر نظامی(منظوم) طاہرہ ردا(منظوم)
سوانح ایک نظر میں
مشاہیر کی نظر میں
رئیس امروہوی پریشان خٹک رہبر صمدانی ڈاکٹر وزیر آغا خواجہ زکریا امجد اسلام امجد جمیل یوسف روحی کنجاہی
عذرا اصغر شہناز مزمل شاہد بخاری
عزم و عمل کا استعارہ: ڈاکٹر نذیر تبسم
انٹرویو: جبران انصاری
منتخب کلام
”سرگزشت“کراچی (بینا نابینا نمبر)
اگست 2013۔ص۔24-54
محترم معراج رسول نے اپنے جریدے کے خاص نمبر”بینا نابینا نمبر“ میں ڈاکٹر ساجد امجد کا مضمون ”دیدہ ور“کے عنوان سے انتہائی خوبصورت اور تفصیلی مضمون شامل کیا۔ جس میں ڈاکٹر اقبال کی تمام مشکلات، جدو جہد اور کامیابیوں کو بھر پور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
”نئے افق“
جون 2016 ص۔ 30
”نئے افق“ کے مشتاق احمد قریشی نے ڈاکٹر اقبال کا تفصیلی انٹر ویو شامل کیا ہے۔ انٹرویو معروف کہانی کار ممتاز احمد نے کیا۔
”صدائے دل“
جلد نمبر2:شمارہ نمبر 3جنوری تا مارچ2016 ص۔ 45
صدائے دل میں ڈاکٹر شیخ اقبال کے حوالے سے ممتازاحمدکا انٹرویو شامل ہے۔
پروفیسر شیخ اقبال پر تحریر شدہ تحقیق مقالہ جات
۱۔ پروفیسر شیخ اقبال کی غزل گوئی
مقالہ نگار: عاصمہ قمر اعوان نگران: پروفیسر ڈاکٹر گوہر نوشاہی
سیشن:2007-08 ایم اے اردو
شعبہ اردو نیشنل یونیورسٹی ماڈرن لینگوئجز اسلام آباد
۲۔ سرگودہا میں آپ بیتی کی روایت
مقالہ نگار: سید مرتضیٰ حسن زیرِ نگرانی:ڈاکٹر محمد یار گوندل
ایم فل(اردو)سیشن: 2012-14
۳۔: پروفیسر شیخ اقبال کی ادبی خدمات
مقالہ نگار: جاوید اقبال ایم فل اردو
سیشن: 2013-2015
نگران: ڈاکٹر شعیبہ معید(لیکچرار شعبہ اردو، یونیورسٹی آف سرگودہا)
۴۔ پاکستان میں بصارت سے محروم اردو شعرائ
(طٰہٰ خان۔ ڈاکٹر شیخ اقبال اور تیمور حسن کے خصوصی حوالے سے)
مقالہ نگار: محمد عاصم سیشن(2013-15)
ایم اے اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد
۵۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کی ادبی خدمات
مقالہ نگار:محمد عاصم نگران:ڈاکٹر ارشد اویسی
ایم فل (اردو) سیشن: نومبر 2015-17
شعبہ اردو: گورنمنٹ کالج یونیوسٹی فیصل آباد
۶۔ شیخ محمد اقبال کی شاعری کا فکری اور فنی جائزہ
مقالہ نگار: محمدیونس نگران مقالہ: ڈاکٹر غلام عباس
مقالہ برائے: ایم فل(اردو)
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
(تاحال منظوری کے مراحل میں ہے)
ناقدین کی آرا
ڈاکٹر شیخ اقبال کی ادبی خدمات کے حوالے سے جو کچھ تحریر کیا گیا ہے یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ انہوں نے ادب کی بے پناہ خدمات سر انجام دی ہیں۔اپنی مشکلات اور دقتوں کے باوجود ان کا اشہبِ فکر اپنی جولانیاں دکھاتا رہا ہے، انہوں نے کسی نشیب وفراز کی پروا ہ تک نہیں کی ان کا ایک شعر ہے۔
ٹھوکریں تو لگیں ہم سنبھلتے رہے
حادثے سانحے ہاتھ ملتے رہے
اس میں ذرا بھی کلام نہیں کہ ڈاکٹر اقبال نے میدانِ شعرو ادب میں وہ خدمات سر انجام دی ہیں جنہیں شومیءحالات سے پوری طرح پذیرائی نہیں ملی۔ ارباب و بست و کشاد تک شاید ان کی ادبی خدمات پہنچ نہیں سکیں اور عوام الناس اور ادبی حلقوں نے بھی ایسا لگتا ہے کہ بے اعتنائی کا ثبوت دیا ہے جیسا کہ شروع میں تحریر کیا گیا ہے کہ ان کی متنوع علمی ادبی بلکہ سماجی خدمات پر بڑے سے بڑا ایوارڈ بھی کم نظر آئے گا بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں رول ماڈل نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ جو افسردگی اور پڑمردگی بعض دلوں میں گھر کرتی رہتی ہے وہ کافور ہو سکے انہوں نے غزل ہو یا نظم دونوں میں اپنی انفرادیت کا ثبوت دیا ہے اور ایک طرزِ نو تراشا ہے ان کی نثر ان کی ذہنی ا±پج اور تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے میدانِ نقد و نظر میں ان کی کاوشیں قابلِ صد تحسین ہیں۔ سوانح عمری کے حوالے سے بھی انہوں نے بڑا نام کمایا ہے انہوں نے افسانے بھی لکھے اور انشائیے بھی انہوں نے یورپی ادب سے انتہائی کامیاب ترجمے کئے اور سب سے بڑھ کر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں بے بصر حضرات کی زندگیوں میں روشنی بکھیری اور وہ اس روشنی کو اپنی غزلیں اور گیت کہتے رہے ہیں ہم ان کی ہر صنف سخن کے حوالے سے بہت سے ناقدین کی رائے پیش کر چکے ہیں ویسے یہ بات تسلیم کی جانی چاہیے کہ پرستانِ ادب نے دل کھول کر ان کی تحسین کی ہے ان پر بیسیوو¿ں انتہائی فکر انگیز مضامین تحریر کئے گئے ہیں اور تحقیقی مقالے رقم ہوئے ہیں اس لئے ذیل میں ہم کچھ اور ناقدین کی آرائ پیش کرتے ہیں تاکہ ہمارے موقف کی اور زیادہ تائید ہو سکے اور ہم ثابت کر سکیں کہ وہ سچ مچ ادب کے معمار ہیں۔
ڈاکٹر اقبال کی شخصیت پرروشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر پروفیسر رفیع الدین ہاشمی کچھ یوں لکھتے ہیں:
’جب کسی کتاب یا رسالے میں کسی دوست کی کوئی تحریر دیکھتا ہوں تو عجیب مسرت ہوتی ہے اور اسے پڑھتے ہوئے نصف یا یک طرفہ ملاقات کا لطف اٹھاتا ہوں۔اسی ہفتے شاعر بمبئی کا تازہ شمارہ ملا اس حوالے سے شیخ محمد اقبال صاحب سے ملاقات ہو گئی رسالے میں ان کی تازہ غزل چھپی تھی۔
میں اگر چاہوں تو کیا شب کو سحر کر جاو¿ں گا
چار دن زندہ رہوں گا اور پھر مرجاو¿ں گا
یوں ہی گر بڑھتے رہے خوف وخطر کے سلسلے
اپنی ہی آواز سے میں ایک دن ڈر جاو¿ں گا
زندگی اک دائر ے میں گھوم کر رہ جائے گی
میں سدا دفتر سے گھر اور گھر سے دفتر جاو¿ں گا
اس سے سوا ان کی زیارت بھی ہوئی، انکی غزل کے ساتھ ان کی تصویر بھی چھپی تھی۔ میں نے اس سے پہلے بھی ان کی شاعری کا مطالعہ کیا ہے انکے مجموعے بھی دیکھے ہیں مگر یہ اشعار مجھے ذرا مختلف قسم کے معلوم ہوئے، میں نے سوچا کیوں، غور کیا تو اندازہ ہوا اس کا تعلق ریٹائرمنٹ سے ہے میں نے سوچا جب اس واقعے کی خبر پڑھی تھی تو مجھے کچھ اچنبھا ہوا تھا لوگ تو مقرر مدت ملازمت پوری کر لینے کے بعد بھی چاہتے ہیں کہ ملازمت سے چمٹے رہیں اور توسیع کے لئے کوشاں رہتے ہیں ایسے میں ایک شخص جو ضرو ر توں اور ذمہ داریوں سے بہر حال بے نیاز نہیں ہے نہایت معقول تنخواہ والی نوکری کو تج دیتا ہے،تو کیا یہ مختلف قسم کا آدمی نہیں ہے؟………مگر مردان کا ر سودو زیاں کی پرواہ نہیں کرتے، شیخ صاحب بھی اندیشوں اور وسوسوں کو ذہن سے جھٹک کر اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لئے آمادہ کار ہوگئے اور ملازمت کی پابندیوں کو خیر باد کہہ دیا۔(یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOLبتاریخ 27 مئی 2025 قسط وار شائع کر رہے ہیں)

پاکستانی ادب کے معمار،پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن (قسط ،48)

لفظوں کے بیج

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے