#کالم

مہنگی بجلی کا توڑ

rafeh s

رفیع صحرائی

مقبول عام مقولہ ہے کہ "ضرورت ایجاد کی ماں ہے”۔ مگر ہمارے ہاں، خاص طور پر موجودہ معاشی حالات میں، اگر اس مقولے کو یوں بدلا جائے کہ "مہنگائی اور حکومتی بے حسی ایجادات کی ماں ہے” تو شاید غلط نہ ہوگا۔ پاکستان کے عوام کی یہ خاصیت رہی ہے کہ وہ ہر معاشی بحران اور حکومتی ناکامی کا توڑ اپنی مدد آپ کے تحت نکال لیتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ریاست کو اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی سے زیادہ اپنے شاہانہ اخراجات کی فکر ہے اور ان شاہانہ اخراجات کا بوجھ عام آدمی کی جیب پر ڈالا جا رہا ہے ایسے میں عوام کو اپنے معاشی تحفظ کے لیے خود ہی راستہ تراشنا ہو گا۔ اپنی بقا کی جنگ خود لڑنا ہو گی۔ آج بجلی، گیس اور پیٹرول کے نرخ جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اس نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ خاص طور پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے اشیائے صرف کی قیمتیں بھی روزانہ کی بنیاد پر محوِ پرواز ہیں۔ ذرا غور تو کیجیے، ایک غریب آدمی ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق بڑی مشکل سے بچت کر کے اپنے بچے کے لیے دودھ کا ڈبہ خریدنے جاتا ہے۔ اسے وہ ڈبہ 2200 روپے میں ملتا ہے۔ اگلے ہفتے ضروری اخراجات کو کٹ لگا کر وہ 2200 روپے ہاتھ میں پکڑے جب وہی دودھ کا ڈبہ دوبارہ خریدنے جاتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ اس ڈبے کی قیمت 2400 روپے ہو چکی ہے۔ اس غریب کے دل پر اس وقت کیا گزرتی ہو گی۔ پالیسی سازوں کو اس پر بھی غور کرنا ہو گا۔ اس مایوسی کے دور میں بھی پاکستانی عوام کی زندہ دلی اور تخلیقی صلاحیتیں داد کے قابل ہیں۔ لوئر مڈل کلاس اور دیہاڑی دار گھرانوں کی خواتین نے مہنگی بجلی کے بلوں کا ایک دلچسپ اور انوکھا توڑ ڈھونڈ نکالا ہے۔ گھر میں ہی پانی، چینی اور خوراکی رنگ ملا کر شربت تیار کیا جاتا ہے اور اسے چھوٹی تھیلیوں میں بھر کر فریزر میں جما دیا جاتا ہے۔ چند گھنٹوں میں تیار ہونے والے یہ "برف کے گولے” جب محلے کے بچے خریدتے ہیں، تو اس سے ہونے والی روزانہ کی اضافی آمدنی سے مہنگی بجلی کا بل بھرنے میں کچھ سہارا مل جاتا ہے۔ یہ محض برف کے گولے بیچنے کی کہانی نہیں، بلکہ یہ اس جدوجہد کی علامت ہے جو ایک عام پاکستانی اپنے روزی روٹی اور عزتِ نفس کو بچانے کے لیے ہر روز کرتا ہے۔اب اسی جدت اور بچت کا ایک نیا معاشی ماڈل سولر توانائی کے شعبے میں سامنے آ رہا ہے۔ انفرادی سطح پر سولر سسٹم لگانا ایک عام گھرانے کے لیے کافی مہنگا سودا بن چکا ہے، لیکن اگر محلے کے چار سے چھ گھر مل کر ایک چھوٹا "سولر گرڈ اسٹیشن” قائم کر لیں، تو ابتدائی لاگت میں ڈرامائی کمی آ جاتی ہے۔ یہ کام اب شروع ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ عملی طور پر یہ سکیم بڑی مفید ہے۔عام طور پر ایک متوسط گھرانے کو ایک انورٹر اے سی اور چند پنکھوں و بتیوں کے لیے تین سے چار کلوواٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر پانچ یا چھ گھر مل کر 15 سے 20 کلوواٹ کا مشترکہ نظام نصب کر لیں، تو یہ ان کی بجلی کی تمام تر ضروریات کو باآسانی پورا کر سکتا ہے۔ اس سسٹم سے حاصل کی گئی بجلی سے چار سے پانچ ماہ کے قلیل عرصے میں بجلی کے بلوں کی بچت کے ذریعے لگائی گئی رقم واپس وصول ہو جاتی ہے، جبکہ سال کے بقایا سات سے آٹھ ماہ بالکل مفت بجلی حاصل ہوتی ہے۔ اگر ایک سال بعد بیٹریوں کی تبدیلی کی ضرورت پڑے بھی، تو پرانی بیٹریاں نصف یا اس سے کچھ کم قیمت پر فروخت ہو جاتی ہیں، اور فی کس چند ہزار روپے ڈال کر نیا بیٹری بینک خریدا جا سکتا ہے۔اگر شروع میں ہی معیاری بیٹریاں لے لی جائیں، تو وہ آٹھ سے دس سال باآسانی نکال جاتی ہیں۔ یعنی ایک مرتبہ رقم خرچ کرو اور آٹھ دس سال تک بجلی کے بل سے نجات حاصل کر لو۔ اسی پیدا کردہ بجلی کا ایک دوسرا بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ اس کے ذریعے سولر چولہے اور انڈکشن ہیٹر استعمال کر کے گیس کے بوجھل بلوں اور اس کی لوڈ شیڈنگ سے مکمل آزادی حاصل کی جا سکتی ہے۔سولر انرجی کا یہ باہمی اور اشتراکی ماڈل محض بجلی کی بچت تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ ایک نفع بخش کاروبار میں بھی ڈھل رہا ہے۔جن لوگوں نے اپنے گھر پر 15 کلو واٹ کا سولر سسٹم لگا رکھا ہے اور دن کے اوقات میں ان کے گھر کا خرچ 3 سے 4 کلو واٹ ہے تو وہ پیدا ہونے والی فالتو بجلی اپنے ساتھ والے دو گھروں کو سرکاری نرخوں (واپڈا ریٹ) سے سستی قیمت پر فراہم کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف انہیں اضافی آمدنی حاصل ہو جائے گی، بلکہ پڑوسیوں کو بھی سستی بجلی مل جائے گی۔یہی سوچتے ہوئے لوگوں کا رجحان اس نئے کاروبار کی طرف ہو چکا ہے۔ یہ ماڈل روایتی "نیٹ میٹرنگ” سے کہیں زیادہ فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔ گرین میٹر کے حصول کا طویل کاغذی عمل، واپڈا کے سخت قوانین، اور پھر واپڈا کی طرف سے سستی قیمت پر بجلی خرید کر صارف کو مہنگی بجلی بیچنے کے نظام کے مقابلے میں محلے داروں کو سستی بجلی فروخت کرنا دونوں فریقوں کے لیے سود مند ہے۔ یہ قدم ایک طرف تو صارفین کو سرکاری اداروں کی مبینہ لوٹ مار سے بچاتا ہے اور دوسری طرف ان اندوہناک خبروں پر بھی بند باندھتا ہے جہاں بجلی کے نوٹس اور بل دیکھ کر لوگوں کو ہارٹ اٹیک ہوئے یا خودکشی کے واقعات رونما ہوئے۔
حکومتوں اور آئی پی پیز (IPPs) کے درمیان ہونے والے معاہدوں نے جس طرح عام پاکستانی کی زندگی کو عذاب بنایا ہے، اس کے بعد عوام کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ذاتی معیشت کو بچانے کے لیے آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے اقدامات کریں۔ جب حکومتیں بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھاتی ہیں، تو عوام کی طرف سے یہ اجتماعی معاشی دفاع ایک قدرتی ردِعمل ہے۔اس اشتراکی ماڈل کو مزید مو¿ثر بنانے کے لیے محلے کی سطح پر چھوٹی کمیٹیاں بنا کر سولر گرڈ کی دیکھ بھال اور اخراجات کا ایک شفاف نظام وضع کیا جا سکتا ہے۔ ابتدائی لاگت میں معمولی اضافہ تو ہو گا لیکن لیتھیم آئن بیٹریوں کا انتخاب کر کے طویل المدتی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فالتو بجلی کو ضائع کرنے کے بجائے قریبی چھوٹے دکانداروں (جیسے کرانہ یا درزی) کو دن کے وقت مناسب نرخوں پر فراہم کیا جا سکتا ہے۔بحران ہی ہمیشہ نئے راستے کھولتے ہیں۔ پاکستانی قوم کی یہ جدت پسندی اور باہمی تعاون کا جذبہ ثابت کرتا ہے کہ چاہے حالات کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں، زندگی اپنا راستہ تلاش کر ہی لیتی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آئندہ دنوں میں عوام کی یہ جدت طبع معیشت کے کون سے نئے دروازے کھولتی ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے