ریجنل کمانڈر پنجاب اینٹی نارکوٹکس فورس بریگیڈیئر سکندر حیات چوہدری سے ایک ملاقات
شفقت حسین
مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ماضی کے مقابلے پر پچھلے تین چار سالوں سے پاک فوج کے ادارے کا مجموعی کردار کیا رہا ہے۔ مجھے اس شے سے بھی کوئی سروکار نہیں کہ اس مختصر سے عرصے کے دوران اس طاقتور‘ مقتدر‘ معتبر اور عظیم سمجھے جانے والے ادارے کا وقار اور اس کا امیج نشیب کی حالت میں رہا ہے یا فراز کی جانب اس نے اپنا سفر طے کیا ہے۔ میرے نزدیک سچی بات ہے کہ یہ چیز بھی بے معنی اور بے وقعت ہے کہ پاک فوج کے تعلقات سول حکومتوں اور حکمرانوں کے ساتھ کس قدر خوشگوار رہے اور کس قدر ناخوشگوار نیز یہ کہ بالائی سیاسی کلاس اور عسکری ادارے کبھی ایک پیج پر رہے ہیں یا ان کے درمیان مناقشت غالب رہی ہے‘ تصادم گہرا رہا ہے اور محاذ آرائی عروج پر رہی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری ہو‘ مرکز گریز قوتوں کی جانب سے درپیش بڑے بڑے چیلنجز ہوں‘ امن و امان کو تاراج کرنے والوں سے مقابلہ کرنا ہو‘ قدرتی آفات سے پاکستان کے شہریوں کو محفوظ کرنا ہو یا سیلابِ بلاخیز اوراس کی طغیانیوں اور ہر شے کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر اپنے جلو میں لے جانی والی خونریزلہروں سے بے سہارا عوام کو بچانا ہو یا پھر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہو‘ پاک فوج کے ادارے کا ہر جوان اور افسر سینہ تان کر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ منشیات کا کاروبار کرنے والے معاشرے کے ظالم اور سفاک درندوں سے اپنی نوجوان نسل کو محفوظ و مامون رکھنے کا فریضہ بھی پاک فوج کے کندھوں پر ڈالا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ کرنے کے سارے کام عام طور پر سول حکمرانوں کی بنیادی ذمہ داری سمجھی جانی چاہیے لیکن چونکہ ہمارے ماضی کے اور آج کے سیاسی حکمرانوں کو عوام کی زندگیاں اجیرن کرنے اور اس کے جسد ِخاکی سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑنے اور آئے دن روزمرہ استعمال کی اشیاءکی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے ہی فرصت نہیں لہٰذا وہ کسی دوسرے نیک کام کی جانب توجہ کیسے دے سکتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ متذکرہ بالا فرائض کے ساتھ ساتھ نوجوان پاکستانی نسل کی رگوں میں زہر انڈیلنے والوں کا قلع قمع کرنے کا فرض بھی پاک فوج بحُسن و خوبی ادا کر رہی ہے۔ اس کا اندازہ اور مشاہدہ اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب کے کمانڈر بریگیڈئر سکندر حیات چوہدری سے ایک خوشگوار ملاقات کے دوران ہوا۔ واضح رہے کہ اس خوبصورت اور تادیر یادرہنے والی ملاقات کا اہتمام ورلڈ کالمسٹ کلب (جس کا ایک ادنیٰ سا رکن رکین میں بھی ہوں) کے صدر مظہر برلاس اور سیکرٹری جنرل ناصر اقبال خان نے کیا۔ یہ بھی یاد رہے کہ اول الذّکر صحافی میرے دیرینہ دوست ہیں جو اسلام آباد میں مقیم ہیں اور اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں جبکہ مو¿خر الذکر میرے بھائیوں کی طرح عزیز لاہور میں ایک منفرد مقام کے حامل ہیں۔ دونوں دوست بڑے انتھک ‘ محنتی اور باخبر اخبار نویس ہیں اور ہمیشہ فکری غذا کی تلاش میں رہتے ہیں سو بدھ کے روز دوپہر دو بجے کے آس پاس ہم دس پندرہ محترم دوست احباب کے ہمراہ جن میں نعیم مصطفےٰ ‘ صفدر علی خان‘ روحیل اکبر‘ نسیم قریشی‘ شعبہ¿ طب و صحت کے مدار لمہام اور ہر دلعزیز مسیحا نفس معالج ڈاکٹر سعید الہٰی ‘ ناصف اعوان‘ نعمان شریف ‘ میاں محمد اشرف عاصمی‘ ڈاکٹر محمد عمران اور ندیم احمد شاہد شامل تھے‘ بریگیڈئر صاحب کے آفس میں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ وقت مقررہ پر بلا ادنیٰ تاخیر بریگیڈئر سکندر حیات چوہدری ہمارے درمیان موجودتھے۔ انتہائی مہذب‘ مو¿دب‘ نستعلیق اور باخبر اعلیٰ فوجی افسر نے سینئر لکھنے والوں کے ہر ٹیڑھے ترچھے سوال کا جواب بڑی خندہ پیشانی سے دیا اور دو اڑھائی گھنٹوں پر محیط بریفنگ کے دوران کسی ایک مرحلے پر بھی وہ ہمیں بیگانے دکھائی نہیں دئیے بلکہ انہیں مل کر اپنائیت کا گہرا احساس ہوا۔ ایک مرحلے پر میری آنکھوں میں نمی آگئی جب انہوں نے بتایا کہ میں مختلف یونیورسٹیوں‘ کالجوں اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں جاکر طلباو طالبات سے ایک باپ بن کر اور ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر ان کے مستقبل کی بھیک مانگتا ہوںاور ناکام نہیں بلکہ کامیاب لوٹ کر آتا ہوں۔ انہیں منشیات کی تباہ کاریوں سے آگاہ کرتا ہوں اور ان سے دور رہنے کا مشورہ دیتا ہوں اور ہدائت کرتا ہوں ۔ میں اس وقت بھی ورطہ¿ حیرت میں ڈوب گیا جب انہوں نے بتایا کہ ہم ہر سال کم و بیش 15 سے 20 ٹن منشیات کو تلف کرتے ہیں یعنی جلا دیتے ہیں اور میں سوچ رہا تھا کہ جلائی جانے والی منشیات کی مقدار اگر یہ ہے جو بریگیڈہر صاحب بتا رہے ہیں تو استعما ل ہو جانے والی منشیات کی مقدار کیا ہوگی۔ واضح رہے کہ اینٹی نارکوٹکس کا عملہ چھ ساڑھے چھ سو جوانوں پر محیط ہے‘ فنڈز بھی ناکافی ہیں اور ان کے لیے آفسز کا بھی قحط ہے۔ بحالی ¿ صحت کے مراکز سرے سے موجود نہیں ہیں۔ ریجنل کمانڈر ہمیں بتا رہے تھے کہ منشیات پکڑنے کے لیے ایک ادارہ حکومتِ پنجاب نے بھی قائم کر رکھا ہے جسے کا¶نٹر نارکوٹکس فورس کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے بڑے دل گردے سے کہا کہ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ جو کام ہم نہیں کر سکے وہ ان سے ہو جائے لیکن اتنا ضرور کہا کہ میں آر پی اوز ‘ ڈی سی اوز‘ کمشنرز بشمول آئی جی پنجاب سے ملتا ہوں۔ اگر پنجاب حکومت انتظامی افسران کو حکم جاری کرے تاکہ اضلاع کے صدر مقام پر آفسز اور ری ہیبلی ٹیشن سنٹرز قائم ہو جائیں تو نتائج میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واقعات تو بہت سنائے لیکن اخبارات کے دامنِ صفحات میں اس قدر گنجائش نہیں ہوا کرتی کہ تفصیلاَ لکھا جا سکے۔ مگر تفصیل پر اختصار کو ترجیح دے کر بھی کام چلایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نشے کی لت چودہ پندرہ سے 20 سال کی عمر کے بچوں کو پڑتی ہے کیونکہ اس عمر کے بچوں کو منشیات فروش درندے بہت جلد اپنے دامِ ہمرنگِ زمیں میں لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ منشیات فروشوں کے نیٹ ورک بھی پورے ملک کے طول و عرض میں بڑے مضبوط اور ناقابلِ شکست سمجھے جاتے ہیں۔ بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں منشیات کی فراہمی آسان ہے۔ منشیات فروش بڑے بڑے پتھروں کے نیچے رکھ کر اور بڑی بڑی شاہراہوں پر نصب پرندوں کے گھونسلوں میں منشیات کو چھپا دیتے ہیں ۔گھروں میں کام کرنے والی خواتین اور بچیاں بھی ڈرگ مافیا کے ہتھے چڑھ جاتی ہیں۔ اس طرح سپلائی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ بریگیڈئر سکندر حیات چوہدری نے بتایا کہ میں نے ازخود یعنی بنفسِ نفیس منشیات فروشی کے ایک بڑے مرکز پر چھاپہ مارا میں سب سے پہلے چھت پر گیا۔ میرے ایک جوان نے اشارہ کیا کہ سر! اس جانب دیکھیں؟ جب میں نے منظر دیکھا تو حیران رہ گیا اڑھائی اڑھائی تین تین کروڑ کی مشینیں لگی ہوئی تھیں جو ممنوعہ گولیاں (نشے اور دیگر استعمال کی) بناتی تھیں اور ایک گولی 35سو سے پانچ ہزار روپے میں فروخت ہوتی تھی جس سے انسان کے اندرونی و بیرونی اعضا ناکارہ ہو جاتے تھے۔ وہاں سے ہم نے 12لاکھ گولیاں برآمد کیں۔ بریگیڈئر صاحب نے حیران کن بات جو بتائی وہ یہ تھی کہ پنجاب میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی (Rehabilitation) کے ادارے بنائے ہی نہیں جا سکے حالانکہ سندھ ‘ کے پی کے ‘ بلوچستان میں موجود ہیں جبکہ پنجاب کے پاس فنڈز ہی نہیں ہیں۔ نشے کے عادی افراد کی صحت کی بحالی کے ادارے ہی نہیں۔ اگر پنجاب حکومت ہمیں سرکاری زمینیں فراہم کر دے اور مناسب فنڈز بھی جاری کر دے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے کام کی رفتار میں بہتری نہ آسکے۔ پنجاب کے ہر ہسپتال کو بحالی¿ صحت کے لیے سینٹرز بنانے کا پابند کر کے بھی نئی نسل کو قومی دھارے میں شامل کیا جاسکتا ہے اور کم از کم نشے کے عادی افراد کی ایک مخصوص تعداد کو کم از کم دو ماہ ری ہیبلی ٹیشن سنٹرز میں رکھ کر نشے کی لت سے ان کی جان چھڑائی جا سکتی ہے اور بڑے بڑے صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کو فیکٹری مالکان کو دوماہ کی مناسب تنخواہ ادا کرنے کا پابند بنا کر نشئیوں کی دلجوئی کر کے بھی مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بریگیڈئر صاحب نے بتایا کہ میں نے بڑے بڑے مگرمچھوں پہ ہاتھ ڈالا ہے اور انہیں قانون کے حوالے کیا ہے لیکن اکثر ہوا ہے کہ ڈرگ ڈیلرز اور منشیات فروخت کرنے والا مافیا شک کا فائدہ حاصل کر کے آزاد ہو جاتا ہے۔قارئین کرام۱ جس دردمندی اور دلسوزی کے ساتھ اینٹی نارکوٹکس فورس کے ریجنل کمانڈ ر ہمیں بریفنگ دے رہے تھے اس سے اندازہ ہورہا تھا کہ اگر موصوف کا بس چلے انہیں بحالی ¿ صحت کے مراکز قائم کرنے کے لیے مختلف شہروں میں سرکاری جگہ مل جائے اور انہیں مناسب فندز حکومت پنجاب جاری کر دے تو مذکورہ کمانڈر پنجاب کو ڈرگ فری صوبہ بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ قارئین کرام ! ویسے ہم جیسے حرماں نصیبوں اور قسمت کے ماروں نے تو 11ارب روپے سے خریدے گئے طیارے پر بھی کچھ اچھا ہی لکھا تھا اسی طرح ائر ایمبولینس کی خریداری کو بھی معقول فیصلہ قرار دیا تھا۔ اب اگر نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے نجات کے لیے زمینیں اور فنڈز درکار ہیں تو اینٹی نارکوٹکس فورس کو وہ بھی کھلے دل سے دے دینے چاہئیں کیونکہ ہمارے مستقبل کے معماروں کی زندگیوں کا سوال ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ منشیات کی لعنت کو ختم کرنا اور ڈرگ ڈیلرز کی گردنیں ماپنا کوئی آسان کام نہیں لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی میں افیونی قوم کے طور پر مشہور چین ہمارے بعد آزاد ہونے کے باوجود اپنے ملک سے اس لعنت کو ختم کرسکتا ہے تو آخر ہم اس مرض سے چھٹکارا حاصل کیوں نہیں کر سکتے جبکہ ہمارے پاس تو بریگیڈئر سکندر حیات چوہدری جیسے کمٹڈ فوجی افسران بھی موجود ہیں۔






