مفسرِ قرآن: پروفیسر ڈاکٹر حبیب اللہ چشتی مدّ ظلّہ العالی
ندیم اختر غزالی
بزرگانِ دین اور اہلِ علم کی صحبت انسان کے لیے ہمیشہ رشد و ہدایت، اصلاحِ فکر اور تزکیہ نفس کا مو ثر ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ قرآنِ مجید اہلِ ایمان کو تقویٰ اختیار کرنے اور سچوں کی معیت اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:”سچوں کے ساتھ رہو۔“۔۔۔اس جامع قرآنی ہدایت میں صالحین، راست باز اہلِ علم اور خدا شناس بندوں کی رفاقت اختیار کرنے کی عظیم ترغیب پوشیدہ ہے۔ ان کی مجالس دلوں میں اخلاص کی روشنی، کردار میں استقامت اور عمل میں اعتدال و توازن پیدا کرتی ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے نیک ہم نشین کی مثال مشک فروش سے دی ہے کہ اس کی قربت اختیار کرنے والا کسی نہ کسی صورت اس کی خوشبو سے ضرور فیض یاب ہوتا ہے۔ اسی طرح اہلِ علم اور بزرگانِ دین کی صحبت انسانی فکر کو جِلا، کردار کو پختگی اور عمل کو درست سمت عطا کرتی ہے۔اکابر کے اقوال بھی اس حقیقت کی تائید کرتے ہیں کہ انسان کی شخصیت اور مزاج پر اس کی صحبت کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لہٰذا دانا، صالح اور باعمل لوگوں کی مجلس اختیار کرنا زندگی کی بڑی سعادت اور اصلاحِ احوال کا نہایت مو ثر وسیلہ ہے۔اسی تناظر میں راقم کو ایم فل، راشد لطیف یونیورسٹی لاہور، کے طلبہ و طالبات کی معیت میں عصرِ حاضر کے ممتاز مفسرِ قرآن، پروفیسر ڈاکٹر حبیب اللہ چشتی فاضلِ بھیرہ شریف، کی خدمت میں حاضر ہونے اور ان کے ساتھ ایک پ±رنور، علمی اور بامقصد نشست میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب اس وقت اپنی علمی و تدریسی مصروفیات کے ساتھ ایچ ایٹ کالج، اسلام آباد میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور شعبہ اسلامیات کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس موقع پر ان کی علمی و عملی زندگی، دینی و تحقیقی خدمات اور حال ہی میں منصہ شہود پر آنے والی ان کی تفسیرِ قرآن ”مطالب± القرآن“کے حوالے سے نہایت مفید اور فکر انگیز گفتگو ہوئی۔ قرآنِ حکیم کے ابدی پیغام، دینی فکر کی اصلاح، عصرِ حاضر کے فکری و معاشرتی مسائل اور نوجوان نسل کی صحیح رہنمائی جیسے اہم موضوعات اس نشست کا خصوصی محور رہے، جن کی تفصیل ذیل میں پیش ہے۔ڈاکٹر صاحب سے گفتگو کا آغاز ان کے ابتدائی حالاتِ زندگی سے ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی پیدائش 21 مئی 1967ء کو ضلع سرگودھا کی تحصیل سلانوالی کے گاوں 135 جنوبی میں ایک زمیندار گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاوں میں حاصل کی، جب کہ مڈل اور میٹرک کے مراحل قرب و جوار کے دیہی مدارس میں طے کیے۔بچپن ہی میں میاں فتح محمد صاحب کی شفقت آمیز نگرانی میں قرآنِ مجید کی تعلیم حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہی ابتدائی قرآنی تربیت اور استادِ محترم کی دل نشیں صحبت ان کے دل میں علمِ دین کی محبت، قرآنِ حکیم سے گہری وابستگی اور دینی خدمت کے جذبے کا چراغ روشن کرنے کا باعث بنی۔بھیرہ شریف سے اپنی نسبت کا ذکر آیا تو ڈاکٹر صاحب کے لہجے میں عقیدت و محبت کی ایک خاص کیفیت مایاں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ستر کی دہائی میں حضرت ضیاءالامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری ان کے گاو ں تشریف لائے۔ اس زمانے میں گاو ں میں بجلی تک موجود نہ تھی، مگر حضرت ضیائ الامت کے پ±رنور چہرے اور پنجابی زبان میں کیے گئے پ±رتا ثیر خطاب نے ان کے دل پر ایسا نقش چھوڑا کہ یہی عقیدت آگے چل کر ان کی زندگی کا رخ متعین کرنے کا سبب بن گئی۔ ان کے تایا ابو، چوہدری طفیل محمد، کے پاس آنے والا رسالہ ”ضیائے حرم“ بھی بھیرہ شریف سے اس روحانی و علمی تعلق کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ثابت ہوا۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ، بھیرہ شریف میں درسِ نظامی کا نصاب دس برس کے بجائے آٹھ برس میں مکمل کیا جا سکتا ہے تو انہوں نے میٹرک کے بعد 1982ءمیں گھر والوں سے مشورہ کیا اور اس عظیم علمی و روحانی مرکز کی جانب رختِ سفر باندھ لیا۔دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف میں ڈاکٹر حبیب اللہ چشتی کو ایسے جلیل القدر اساتذہ کرام سے اکتسابِ علم کا شرف حاصل ہوا، جن کی علمی عظمت خود ایک علمی روایت کی نمائندہ ہے۔ حضرت ضیائ الامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کے علاوہ علامہ محمد خان نوری، مولانا عبدالرزاق صدیقی، مولانا محمد انور مگھالوی، مولانا انور حبیب، مولانا عبدالمجید ارشد، چوہدری مظفر، قاضی محمد ایوب، ملک بوستان اور ملک عطا محمد صاحبان ان کے قابلِ احترام اساتذہ میں شامل رہے۔ ان کے ہم جماعتوں میں بھی متعدد اہلِ علم اور معروف علمی شخصیات تھیں، جن میں مولانا محمد اکرم الازہری، مولانا سعید احمد، علامہ محمد الطاف الازہری اور دیگر رفقا خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ڈاکٹر صاحب کے بقول بھیرہ شریف کی علمی و روحانی تربیت کا نمایاں وصف دین کی اصل روح، اعتدالِ فکر اور حفظِ مراتب کی پاس داری ہے۔ وہاں نہ مستحب امور کو فرائض کا درجہ دے کر دین میں غیر ضروری سختی پیدا کی جاتی ہے اور نہ فرائض کی اہمیت کو کم ہونے دیا جاتا ہے۔ یہی متوازن اور حکیمانہ دینی مزاج انسان کو غلو، تنگ نظری اور انتہا پسندی سے محفوظ رکھتے ہوئے فہمِ دین کی صحیح راہ دکھاتا ہے۔دارالعلوم بھیرہ شریف سے فراغت کے بعد ڈاکٹر حبیب اللہ چشتی صاحب کو ایک سال اسی عظیم علمی مرکز میں تدریس کی سعادت حاصل رہی۔ اس کے بعد آپ نے پنڈ دادن خان میں مولانا محمد انور قریشی صاحب کے ساتھ دو برس تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ جنوری 1993ء میں حضرت ضیاء الامت کی تحریری اجازت اور مولانا مختار احمد مجاہد کی وساطت سے اسلام آباد میں بطور لیکچرر اپنی تدریسی ذمہ داریوں کا آغاز کیا۔ڈاکٹر صاحب کے مطابق خطابت سے آپ کا تعلق بھی زمانہ طالب علمی ہی سے قائم ہو گیا تھا۔ بھلوال کے علاقے للیانی سے شروع ہونے والا یہ سفر سرگودھا کے نواحی گاو ں، ڈنڈوٹ سیمنٹ فیکٹری، اسلام آباد کی سپر مارکیٹ اور پھر 22 نمبر چونگی تک پہنچا، جہاں آپ 1998ء سے مسلسل فرائضِ خطابت انجام دے رہے ہیں۔ درسِ قرآن کا سلسلہ بھی نہایت طویل، بامقصد اور تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ ڈنڈوٹ سیمنٹ فیکٹری میں آپ نے تقریباً سترہ برس کے عرصے میں قرا نِ حکیم کا پہلا درس مکمل کیا، پھر جھنڈا چیچی اور صادق ٓباد میں بھی یہ علمی و دینی خدمت انجام دی؛ جب کہ 22 نمبر چونگی میں درسِ قرا ن کا یہ فیض بخش سلسلہ آج بھی جاری ہے۔قرآن فہمی کے میدان میں ڈاکٹر حبیب اللہ چشتی کی علمی کاوشوں کا ایک اہم سنگِ میل یونیورسٹی آف فیصل آباد سے علوم± القرآن میں پی ایچ ڈی ہے۔ ان کے تحقیقی مقالے کا عنوان ”مناسباتِ قرا نِ کریم اور تفسیرِ نظم الدرر کا تحقیقی و تجزیاتی جائزہ“تھا۔ اس تحقیقی سفر میں ان کی رہنمائی ڈاکٹر ظہور احمد اظہر نے فرمائی، جنہیں ڈاکٹر صاحب ایک ہمہ جہت عالم، متعدد زبانوں پر عبور رکھنے والے اور طلبہ میں علم کا ذوق بیدار کرنے والے شفیق استاد کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ان کے تصنیفی سفر کا آغاز کتاب ”دلائلِ توحید“سے ہوا، جسے انہوں نے تفسیرِ ”ضیاءالقرا ن“ سے اخذ و مرتب کیا تھا۔ بعد ازاں ”معارفِ درود و سلام“، ”شبیر و یزید“ اور ”جبر و قدر“ سمیت تقریباً ساٹھ تصانیف ان کی علمی وسعت، تحقیقی ذوق اور مسلسل قلمی ریاضت کی گواہی دیتی ہیں۔ روحانی اعتبار سے ان کا سلسلہ بیعت امامِ اہلِ سنت حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی شاہ سے وابستہ ہے، جہاں وہ حضرت ضیاء الامت کی ہدایت پر حاضر ہوئے۔گفتگو کا مرکزی اور سب سے دل چسپ موضوع ڈاکٹر صاحب کی تفسیرِ قرآن ”مطالب± القرآن“تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ مسلسل دروسِ قرآن کے دوران ان کے دل میں یہ خواہش پختہ ہوتی گئی کہ قرآنِ کریم سے جو کچھ سمجھنے اور سیکھنے کا موقع ملا ہے، اسے تحریری صورت میں عام کیا جائے۔ حضرت ضیاء الامت کے فرزندِ ارجمند میجر ابراہیم صاحب کی ترغیب پر انہوں نے قرآ نِ مجید کے حواشی قلم بند کرنے کا آغاز کیا۔ڈاکٹر صاحب کے مطابق تفسیر مطالب القرآن ایک متوسط حجم کی ایک جامع اور مفید تفسیر ہے، جس میں متنِ قرآن، لفظی و بامحاورہ ترجمہ اور تفصیلی حواشی شامل ہیں۔ تاہم، اس علمی کاوش کے ساتھ احساسِ ذمہ داری بھی گہرا تھا، کیوں کہ یہ کلامِ الٰہی کی خدمت کا معاملہ ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے نہایت احتیاط، اعتدال اور وضاحت کے ساتھ اسلوبِ بیان اختیار کیا، تاکہ مفہومِ قرآن پوری طرح واضح ہو اور کسی غیر ضروری ابہام یا فتنہ انگیزی کی گنجائش بھی باقی نہ رہے۔”مطالب القرا ن“کے عنوان ہی میں اس تفسیر کا بنیادی مقصد نہایت واضح طور پر جلوہ گر ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق اس تفسیر کا اصل مقصود یہ نمایاں کرنا ہے کہ قرا?نِ مجید اپنے پڑھنے والوں اور اہلِ ایمان سے کن امور کا مطالبہ کرتا ہے اور اس کا حقیقی پیغام کیا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے متعدد اقوال کے انبار لگانے کے بجائے راجح قول کے انتخاب اور اس کی وجہ ترجیح کو ترجیح دی ہے، تاکہ قاری کو بے جا تفصیلات کے بجائے واضح، مستند اور قابلِ فہم رہنمائی مل سکے۔ ان کے نزدیک تفسیر کا مقصد محض علمی مباحث کو طول دینا نہیں، بل کہ بندگانِ خدا کے سامنے پیغامِ الٰہی کو اس کے صحیح مفہوم اور عملی تقاضوں کے ساتھ مو ثر انداز میں پیش کرنا ہے۔انہوں نے مختلف مفسرین سے اپنے استفادے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہر مفسر اپنے مخصوص علمی ذوق اور اسلوب کے اعتبار سے ایک امتیازی مقام رکھتا ہے۔ فقہی مباحث میں ”احکام القرآن“، عقلی و کلامی مسائل میں امام فخر الدین رازی کی تفسیراور مجموعی طور پر حضرت ضیاء الامت کی ”ضیاء القرآ ن“ ان کے علمی ذوق اور تفسیری منہج کی اہم بنیادیں ہیں۔تاہم ان کے نزدیک تفسیر کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ قرآنِ کریم کی روشنی میں حق کی تلاش کی جائے، نہ کہ پہلے سے قائم کسی مخصوص رائے کو قرا ن سے ثابت کرنے کی کوشش کی جائے۔ عصری مسائل کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب نے نہایت اہم نکتہ اٹھایا کہ کوئی بھی مفسر اپنے عہد کے فکری، سماجی اور اخلاقی چیلنجوں سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ جس طرح امام فخر الدین رازی نے اپنے زمانے میں رائج فکری مباحث، بالخصوص معتزلہ کے نظریات، کا گہرا اور علمی جائزہ لیا، اسی طرح موجودہ دور میں الحاد، فکری انتشار اور قرا?نِ کریم کی بعض گم راہ کن تعبیرات کے پھیلاو نے اس امر کی ضرورت بڑھا دی ہے کہ متعلقہ آیات کی تشریح پوری وضاحت، حکمت اور استدلال کے ساتھ کی جائے۔ڈاکٹر حبیب اللہ چشتی نے اپنی تفسیر ”مطالب القرآن“ میں موجودہ معاشرتی مسائل کو قرآنِ حکیم کے مزاج اور انسانی فطرت کے تقاضوں کی روشنی میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ قاری افراط و تفریط سے محفوظ رہتے ہوئے دینِ اسلام کی متوازن، معتدل اور قابلِ عمل تعلیمات کو سمجھے اور انہیں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں بروئے کار لا سکے۔خاندانی نظام کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ قرآنِ مجید نے اسے انسانی فطرت کے عین مطابق مرتب کیا ہے۔ اس نظام میں والدین کو بنیادی مقام حاصل ہے، جس کے بعد دیگر رشتوں کے حقوق و فرائض اپنی اپنی حکمت اور ترتیب کے ساتھ آتے ہیں۔ اسلام عزتِ انسانیت، بندگیِ الٰہی اور اجر کے اعتبار سے مرد و عورت، دونوں کو یکساں قدر و منزلت عطا کرتا ہے؛ البتہ ان کی فطری خصوصیات اور معاشرتی ذمہ داریوں کے لحاظ سے بعض احکام میں فرق رکھا گیا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے مرد و عورت کے حقوق و فرائض کے مسئلے کو عصرِ حاضر کی ایک اہم فکری ضرورت قرار دیا۔ ان کے نزدیک سورہ نسائ اور اس سے متعلق آیات کا سیاق و سباق کے ساتھ گہرا اور غیر جانب دارانہ مطالعہ ناگزیر ہے، تاکہ سوشل میڈیا کے شور اور سطحی مباحث سے بلند ہو کر قرٓنِ حکیم کی متوازن، حکیمانہ اور قابلِ عمل رہنمائی سامنے آ سکے۔غیر مسلم شہریوں کے حقوق کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا مو قف تھا کہ اسلام پ±رامن غیر مسلم شہریوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کی مکمل ضمانت دیتا ہے۔ اتحادِ امت کے حوالے سے بھی وہ اخلاقی اقدار کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک باہمی اختلافات کے باوجود گفتگو، تعلق اور دعوت کا دائرہ اخلاق، تحمل، حکمت اور خیر خواہی سے خالی نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق مسلمانوں کے مابین قطعی اور ظنی مسائل کا درست فرق سمجھ لیا جائے تو بہت سے اختلافات کی شدت کم ہو سکتی ہے اور باہمی احترام و رواداری کی فضا مضبوط ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر صاحب کی زیرِ طبع کتب میں ”حقیقتِ تصوف“، ”عقائدِ اسلام“، ”حقیقت یہ ہے“، ”اسلام کی فکری و عملی تعبیر“ اور ”آبروئے اقبال“ شامل ہیں، جب کہ حدیثِ نبوی ﷺ کے موضوع پر بھی ان کا تحقیقی و تصنیفی کام جاری ہے۔






