27ستمبر کا لانگ مارچ:تحریک انصاف نے ماضی کی احتجاجی تحریکوں سے کیا سیکھا؟
راو¿ غلام مصطفی
تحریک انصاف ملکی سیاست میں احتجاجی سیاست کی ایک طاقتور علامت بن چکی ہے۔ اس جماعت نے جلسوں اور احتجاجوں کے ذریعے نہ صرف اپنی مقبولیت کو منظم کیا بلکہ ملکی سیاسی منظرنامے کو کئی مرتبہ یکسر تبدیل بھی کیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اگر عوامی مقبولیت اور کارکنوں کا جوش موجود تھا تو پھر ماضی کے کئی بڑے احتجاج اپنے مطلوبہ سیاسی نتائج کیوں حاصل نہ کرسکے؟2014 کا دھرنا تحریک انصاف کی احتجاجی تاریخ کا اہم باب تھا۔ اسلام آباد میں 126 روز تک جاری رہنے والے اس دھرنے نے حکومت کو شدید دباو¿ میں رکھا۔ تحریک انصاف انتخابی دھاندلی کی تحقیقات اور وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ لے کر اسلام آباد پہنچی تھی۔ طویل احتجاج نے ملکی سیاست کو مفلوج ضرور کیا، حکومت کو سیاسی مشکلات سے دوچار بھی کیا، مگر وہ بنیادی مقصد حاصل نہ ہوسکا جس کے لیے دھرنا دیا گیا تھا۔اس واقعے نے ایک بنیادی حقیقت سامنے رکھی کہ طویل احتجاج لازماً کامیاب احتجاج نہیں ہوتا۔ احتجاج کے پیچھے واضح سیاسی حکمت عملی، متبادل منصوبہ اور اختتامی مرحلے کی سوچ موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔2022 میں اقتدار سے محرومی کے بعد تحریک انصاف نے ایک مرتبہ پھر سڑکوں کا رخ کیا۔ ”حقیقی آزادی“ کا نعرہ بلند کیا گیا۔ لیکن یہ احتجاج بھی بڑے سیاسی مقاصد حاصل نہ کرسکا۔ اس کے بعد اسمبلیوں کی تحلیل اور سیاسی دباو¿ کی نئی حکمت عملی سامنے آئی مگر نتیجہ ایک مرتبہ پھر تحریک انصاف کی توقعات کے مطابق نہ نکلا۔اس کے بعد 9 مئی 2023 کا واقعہ نے تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج پرتشدد واقعات میں تبدیل ہوگیا۔ سرکاری و عسکری تنصیبات پر حملوں نے سیاسی احتجاج کے بنیادی مطالبات کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ نتیجتاً ریاستی کارروائی، گرفتاریاں اور قانونی مقدمات تحریک انصاف کے لیے ایک نئے بحران کا آغاز بن گئے۔یہاں سے تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑا سبق یہی تھا کہ احتجاج کی کامیابی کا انحصار صرف کارکنوں کے جوش پر نہیں بلکہ احتجاج کے نظم و ضبط پر بھی ہوتا ہے۔ ایک سیاسی جماعت اپنے کارکنوں کو جتنا متحرک کرتی ہے، اتنی ہی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے کہ وہ انہیں آئینی اور پ±رامن حدود میں رکھے۔نومبر 2024 میں تحریک انصاف نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کا رخ کیا۔ کارکنوں کی بڑی تعداد دارالحکومت کی طرف بڑھی، حکومت نے سکیورٹی انتظامات سخت کیے، راستے بند ہوئے اور کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ احتجاج نے ملک کی سیاست کو کئی روز تک اپنی گرفت میں رکھا، لیکن بالآخر یہ تحریک بھی اپنے حتمی سیاسی ہدف تک پہنچے بغیر ختم ہوگئی۔ماضی کے ان تماماحتجاجی تجربات میں ایک قدرِ مشترک دکھائی دیتی ہے: تحریک انصاف عوام کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب رہی، لیکن سڑک پر حاصل ہونے والی طاقت کو فیصلہ کن سیاسی نتیجے میں تبدیل کرنے میں ناکا،م رہی ہے۔اس کی ایک بڑی وجہ احتجاجی سیاست اور سیاسی مذاکرات کے درمیان توازن کا فقدان بھی رہا ہے۔ جمہوری نظام میں احتجاج اپوزیشن کا حق ہے لیکن احتجاج کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ بند کر دینا سیاسی حکمت عملی کو محدود کردیتا ہے۔ سیاسی طاقت کا اصل امتحان یہ ہے کہ مخالف فریق کو دباو¿ میں لانے کے بعد اسے مذاکرات کی میز تک کیسے لایا جائے۔27 ستمبر کے لانگ مارچ میں تحریک انصاف کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہوگا کہ کیا اس مرتبہ وہ احتجاج کو ایک واضح سیاسی مقصد کے ساتھ آگے بڑھائے گی؟ کیا اس کی قیادت ایک صفحے پر ہوگی؟ کیا کارکنوں کو واضح ہدایات دی جائیں گی؟ کیا احتجاج پ±رامن رکھا جائے گا؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر حکومت مذاکرات کی پیشکش کرتی ہے تو تحریک انصاف اس موقع کو کس طرح استعمال کرے گی؟پاکستان کے عام شہری پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بلوں اور معاشی دباو¿ سے پریشان ہیں۔ اگر سیاسی احتجاج ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے تو عوامی ہمدردی متاثر ہوسکتی ہے۔ سیاسی تحریک وہی دیرپا بنتی ہے جو عوام کو صرف نعرہ نہیں دیتی بلکہ ان کے دکھ، مشکلات اور مستقبل کی امید کو بھی اپنی سیاست کا حصہ بناتی ہے۔تحریک انصاف کو یہ بھی سمجھنا ہوگا۔کہ ماضی کی ناکامیوں کا ایک سبق قیادت کے اندر فیصلہ سازی کا بھی ہے موجودہ قیادت کے بارے فیصلہ سازی کے حوالے سے کارکنان اور قیادت کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی نمایاں ہے۔ احتجاجی تحریک کے دوران کارکن یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی منزل کیا ہے۔ وہ کب واپس جائیں گے، کب آگے بڑھیں گے، مذاکرات کی صورت میں کیا ہوگا اور گرفتاریوں یا رکاوٹوں کی صورت میں اگلا قدم کیا ہوگا۔ اگر یہ فیصلے واضح نہ ہوں تو کارکنوں کا جوش رفتہ رفتہ بے یقینی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔27 ستمبر تحریک انصاف کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ احتجاجی سیاست کے پرانے سانچے سے باہر نکلے۔ اگر اس بار لانگ مارچ صرف حکومت مخالف نعرہ نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی حکمت عملی بن کر سامنے آیا، اگر احتجاج پ±رامن رہا، قیادت متحد رہی، مطالبات واضح رہے اور مذاکرات کے راستے کو بھی کھلا رکھا گیا تو یہ مارچ تحریک انصاف کے سیاسی سفر میں ایک نیا باب رقم کرسکتا ہے۔لیکن اگر ماضی کی طرح احتجاج کا آغاز بڑے جوش و خروش سے ہوا، قیادت کے فیصلوں میں ابہام پیدا ہوا، کارکنوں اور ریاستی اداروں کے درمیان تصادم ہوا اور آخرکار بغیر کسی واضح سیاسی نتیجے کے واپسی اختیار کرنا پڑی تو 27 ستمبر بھی ماضی کے احتجاجوں کی فہرست میں ایک اور تاریخ بن جائے گا۔پاکستان کی سیاست کو آج نعروں سے زیادہ حکمت، تصادم سے زیادہ مکالمے اور جذبات سے زیادہ تدبر کی ضرورت ہے۔ حکومت کو بھی اپوزیشن کے احتجاج کو محض طاقت سے کچلنے کے بجائے اس کے سیاسی اسباب سمجھنے چاہئیں، جبکہ تحریک انصاف کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ احتجاج کو انتشار نہیں بلکہ سیاسی دباو¿ کا آئینی ذریعہ سمجھتی ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ 27 ستمبر کو کتنے لوگ سڑکوں پر نکلتے ہیں، یہ اہم ضرور ہے مگر فیصلہ کن نہیں۔ فیصلہ کن بات یہ ہوگی کہ تحریک انصاف ان لوگوں کو کس مقصد کے لیے نکالتی ہے، انہیں کس نظم کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے اور ان کے ہاتھ میں احتجاج کے بعد کیا سیاسی نتیجہ دیتی ہے۔ماضی نے تحریک انصاف کو کئی مواقع دیے، کچھ کامیابیاں ملیں اور کچھ تلخ تجربات بھی۔ اب 27 ستمبر شاید اس بات کا امتحان ہے کہ اس جماعت نے ان تجربات سے کیا سیکھا۔ اگر ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے ان سے سبق لیا گیا تو لانگ مارچ سیاسی طاقت کا مو¿ثر اظہار بن سکتا ہے، لیکن اگر تاریخ کو صرف یاد رکھا گیا اور اس سے سبق نہ لیا گیا تو پھر تاریخ خود کو دہرانے میں زیادہ دیر نہیں لگائے گی۔






