#کالم

امانت داری جدید دور کا بھلایا ہوا وصف

appa munza javeed

آپا منزہ جاوید

ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں ترقی نے انسان کو بہت کچھ دیا ہے مگر شاید اس تیز رفتار سفر میں ہم نے اپنی زندگی کے چند بنیادی اوصاف کہیں پیچھے چھوڑ دیے ہیں امانت داری بھی انہی بھلائے ہوئے اوصاف میں سے ایک ہے۔امانت داری صرف کسی کی رقم یا قیمتی چیز محفوظ رکھنے کا نام نہیں بلکہ امانت داری ایک مکمل طرز زندگی ہے جو انسان کے قول و فعل نیت معاملات ذمہ داری اور تعلقات سب میں نظر آتی ہے کسی کا مال امانت ہے کسی کا راز امانت ہے کسی کی ذمہ داری امانت ہے کسی کا وقت امانت ہے کسی کا وعدہ امانت ہے اور کسی کا اعتماد بھی ایک ایسی امانت ہے جس میں خیانت انسان کے کردار کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے پیغام ہدایت ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ انسان اس دنیا میں بے مقصد نہیں آیا بلکہ اسے ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے بھیجا گیا ہے قرآن مجید امانت کے تصور کو بہت وسیع معنی میں ہمارے سامنے رکھتا ہے ترجمہ سورہ الاحزاب آیت 72:بے شک ہم نے امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا بے شک وہ بڑا ظالم اور نادان ہے یہ آیت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ امانت صرف کسی کے پاس رکھی ہوئی چیز کا نام نہیں بلکہ انسان کی پوری ذمہ دار زندگی بھی امانت ہے ہمارے پاس جو صلاحیت ہے وہ امانت ہے جو اختیار ہے وہ امانت ہے جو وقت ملا ہے وہ امانت ہے اور جو رشتے اور ذمہ داریاں ہمیں دی گئی ہیں وہ بھی امانت ہیںقرآن مجید میں واضح حکم دیا گیا ہے ترجمہ سورہ النساءآیت 58:بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں کو پہنچاو¿ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرویہ صرف ایک دینی حکم نہیں بلکہ ایک ایسا اصول ہے جس پر ایک صحت مند معاشرہ قائم ہوتا ہے اگر امانت اپنے حق دار تک پہنچتی رہے تو اعتماد باقی رہتا ہے اور اگر امانت میں خیانت عام ہو جائے تو معاشرے میں شک بداعتمادی اور بے سکونی جنم لینے لگتی ہےآج ہم اکثر بڑے بڑے مالی گھپلوں اور بدعنوانیوں کی بات کرتے ہیں لیکن امانت داری کی آزمائش ہمیشہ بڑے معاملات میں نہیں ہوتی کبھی ایک چھوٹی سی رقم کسی کے پاس رکھی جاتی ہے اور وہ سوچتا ہے کہ کسی کو کیا معلوم ہوگا کبھی دفتر کا وقت اپنی ذاتی مصروفیات میں گزار دیا جاتا ہے کبھی کسی کے کام کی ذمہ داری لے کر اسے پورا نہیں کیا جاتا کبھی کسی کا راز چند لوگوں تک پہنچا دیا جاتا ہے اور کبھی کسی کی محنت کا سہرا خود اپنے سر باندھ لیا جاتا ہے۔۔۔یہ سب امانت داری کے امتحان ہیں۔۔۔ہم نے امانت کو شاید صرف اس چیز تک محدود کر دیا ہے جسے ہاتھ میں پکڑا جا سکے حالانکہ اصل امانت وہ بھی ہے جو ہمارے رویے میں موجود ہوتی ہے۔۔۔ایک استاد کے پاس طلبہ کا مستقبل امانت ہے ایک ڈاکٹر کے پاس مریض کا اعتماد اور صحت امانت ہے ایک افسر کے پاس اختیار امانت ہے ایک تاجر کے پاس گاہک کا اعتماد امانت ہے ایک صحافی کے پاس خبر کی سچائی امانت ہے ایک لکھنے والے کے پاس الفاظ کی دیانت امانت ہے ایک والدین کے پاس اولاد کی تربیت امانت ہے اور ہر انسان کے پاس اپنی زبان اپنے وعدے اور اپنے کردار کی امانت ہے۔۔۔قرآن مجید اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے امانتوں اور عہد کی حفاظت کو نمایاں کرتا ہے۔ترجمہ سورہ المو¿منون آیت 8: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں اسی مضمون کو ایک اور مقام پر یوں بیان کیا گیا ہے ترجمہ سورہ المعارج آیت 32: اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرتے ہیں غور کیجیے کہ امانت اور عہد کی حفاظت کو بار بار اہل ایمان کی صفات میں بیان کیا گیا ہے یعنی انسان کی دینداری صرف عبادت کے ظاہری اعمال سے نہیں بلکہ اس کے معاملات اور کردار سے بھی پہچانی جاتی ہے۔۔ہم عبادت گاہ میں اللہ کے سامنے جھک سکتے ہیں مگر اگر لوگوں کے حقوق میں خیانت کریں تو ہمیں اپنے کردار کا احتساب بھی کرنا ہوگا۔۔۔رسول اللہ نے بھی امانت داری کی اہمیت کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایاترجمہ صحیح بخاری حدیث 33:منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔۔۔یہ حدیث ہمیں دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتی ہے کیونکہ کبھی کبھی ہم دوسروں کی غلطیاں بہت آسانی سے دیکھ لیتے ہیں مگر اپنی چھوٹی چھوٹی خیانتوں کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔۔۔کسی کا اعتماد توڑنا بھی خیانت ہے۔۔۔کسی کے راز کو افشا کرنا بھی خیانت ہے۔۔۔کسی کی محنت کو اپنا نام دینا بھی خیانت ہے۔۔دفتر کی ذمہ داری میں کوتاہی بھی خیانت ہے۔۔۔کاروبار میں ناقص چیز کو اچھی کہہ کر بیچنا بھی خیانت ہے۔۔۔کسی کے حق کو جانتے ہوئے روک لینا بھی خیانت ہے۔۔۔اور غلط معلومات کو جانچ پڑتال کے بغیر آگے پہنچا دینا بھی امانت داری کے تقاضوں کے خلاف ہے۔۔۔خاص طور پر موجودہ دور میں جب ایک خبر چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہماری انگلی سے بھیجا جانے والا ایک پیغام بھی ہماری ذمہ داری ہے۔۔۔ہمیں یہ حق نہیں کہ کسی کی عزت متاثر کرنے والی بات صرف اس لیے آگے بڑھا دیں کہ وہ ہمیں دلچسپ لگی جدید دور نے ہمارے ہاتھ میں بے شمار سہولتیں دے دی ہیں مگر اسی کے ساتھ امانت داری کے امتحانات بھی بڑھ گئے ہیں پہلے کسی کی بات چند لوگوں تک پہنچتی تھی آج ایک لمحے میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے پہلے کسی کی تصویر یا تحریر کی نقل کرنا آسان نہیں تھا آج چند لمحوں میں کسی دوسرے کی محنت اپنے نام سے پیش کی جا سکتی ہے پہلے جھوٹ بولنے کے لیے سامنے بیٹھا انسان دیکھنا پڑتا تھا آج ایک جعلی پیغام پوری دنیا میں گردش کر سکتا ہےٹیکنالوجی بری نہیں ہے مگر ٹیکنالوجی کے استعمال میں انسان کا کردار بہت اہم ہے۔۔۔ہم موبائل فون کو امانت دار نہیں بنا سکتے مگر اپنے ہاتھ کو امانت دار بنا سکتے ہیں ہم انٹرنیٹ کو دیانت دار نہیں بنا سکتے مگر اپنی انگلیوں کو جھوٹ پھیلانے سے روک سکتے ہیں ہم مصنوعی ذہانت کو اخلاق نہیں دے سکتے مگر اسے استعمال کرنے والے انسان اپنے اخلاق کی حفاظت ضرور کر سکتے ہیں۔۔یہی اصل امتحان ہے۔۔۔آج اگر کوئی شخص کسی کی تحریر پڑھ کر اسے اپنے نام سے شائع کر دے تو شاید چند لوگ اس کی تعریف کر دیں لیکن وہ اپنے ضمیر سے کیسے نظریں ملائے گا۔۔۔کسی کی تخلیقی محنت بھی ایک امانت ہے۔۔۔کسی کے خیال کی نسبت بھی امانت ہے۔۔کسی کے الفاظ کی حفاظت بھی امانت ہے۔۔۔اس لیے جدید دور کے لکھنے والوں کے لیے بھی امانت داری کا تقاضا یہی ہے کہ علم حاصل کریں خیالات سے فائدہ اٹھائیں مگر کسی دوسرے کی محنت کو اپنی شناخت نہ بنائیں۔۔۔ہم اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ وہ بڑے عہدوں پر پہنچیں اچھا گھر بنائیں اچھی گاڑی چلائیں اور معاشرے میں عزت حاصل کریں مگر کیا ہم انہیں یہ بھی سکھا رہے ہیں کہ کسی کا حق نہ کھانا کامیابی ہے کسی کا اعتماد نہ توڑنا کامیابی ہے اپنی غلطی تسلیم کرنا کامیابی ہے اور موقع ملنے کے باوجود خیانت سے بچ جانا اصل کامیابی ہے۔۔اولاد کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ دنیا میں آگے کیسے بڑھنا ہے بلکہ یہ بھی سکھانا ضروری ہے کہ آگے بڑھتے ہوئے اپنے کردار کو پیچھے نہ چھوڑ دینا۔۔ایک بچہ گھر سے امانت داری سیکھتا ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ والدین کسی کی اضافی رقم واپس کر دیتے ہیں جب وہ دیکھتا ہے کہ گھر میں کسی کی غیر موجودگی میں اس کے بارے میں غیر ضروری گفتگو نہیں کی جاتی جب وہ دیکھتا ہے کہ والدین اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں اور کسی کا حق ادا کرنے میں تاخیر نہیں کرتے تو وہ کتاب سے نہیں بلکہ زندگی سے سبق سیکھتا ہےاسی طرح کاروبار میں بھی امانت داری صرف دکان کے ترازو تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔۔۔کسی چیز کا عیب چھپا کر فروخت کرنا وقتی فائدہ دے سکتا ہے مگر اعتماد ختم کر دیتا ہے۔۔جھوٹا فائدہ ہمیشہ سستا نہیں ہوتا بعض اوقات انسان چند روپے بچا کر اپنے کردار کی بہت بڑی قیمت ادا کر دیتا ہے۔۔۔آج معاشرے کو صرف(جاری)

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے