#کالم

ووٹ کو عزت دو… مگر کب؟

zahid iqbal malik

زاہد اقبال ملک

سیاست میں فیصلے صرف فیصلے نہیں ہوتے اپنے اندر ایک پیغام بھی رکھتے ہیں۔ کبھی یہ پیغام عوام کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے اور کبھی برسوں کے سیاسی بیانیے پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت سازی کے حالیہ فیصلے بھی کچھ ایسے ہی سوالات کو جنم دے رہے ہیں جنہیں نظر انداز کرنا آسان مگر جواب دینا مشکل ہے۔ میاں نواز شریف برسوں سے ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ لگاتے آئے ہیں۔ یہ محض سیاسی جملہ نہیں بلکہ ایک اصولی مو¿قف تھا کہ اقتدار کا حق عوام کے ووٹ سے حاصل ہونا چاہیے اور جسے عوام منتخب کریں اس کے مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہیے۔ لیکن آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے دوران سامنے آنے والے بعض فیصلے اسی اصول کے ساتھ ایک عجیب تضاد پیدا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔سب سے پہلے ان ارکان کا معاملہ ہے جو پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے حلقوں سے عوام کے براہِ راست ووٹ سے منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچے۔ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ مہاجرین کی نشستوں پر کامیاب ہونے والے ارکان کو کابینہ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ لوگ عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر ایوان میں پہنچے ہیں تو صرف ان کے حلقہ انتخاب کی بنیاد پر ان کی سیاسی حیثیت کیوں کم تر سمجھی جائے کیا پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کا ووٹ آزاد کشمیر میں بسنے والے کشمیریوں کے ووٹ سے کم اہم ہے اگر نہیں تو پھر ان کے منتخب نمائندوں کو کابینہ سے باہر رکھنے کی منطق کیا ہے؟ یہ فیصلہ بظاہر انتظامی پالیسی ہوسکتا ہے مگر سیاسی طور پر اس کا تاثر کہیں زیادہ گہرا ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج اور مطالبات پہلے ہی سیاسی ماحول کو متاثر کر رہے ہیں۔ اگر کسی طبقے کے منتخب نمائندوں کو محض ان کے حلق? انتخاب کی بنیاد پر اقتدار کے عمل سے دور رکھا جائے تو یہ تاثر ضرور پیدا ہوگا کہ ان کے ووٹ کی قدر باقی ووٹوں سے مختلف ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) نے وزارتِ عظمیٰ کے لیے بیرسٹر سید افتخار علی گیلانی کا انتخاب کیا جو اپنے حلقے سے 2021 اور 2026 کے عام انتخابات میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ 2026 میں بھی وہ ایل اے 29 سے پاکستان پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر کے سردار مختار احمد خان کے ہاتھوں شکست کھا گئے تاہم بعد ازاں ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے اسمبلی کا حصہ بنے اور بالآخر وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ یہاں مسئلہ بیرسٹر افتخار گیلانی کی قابلیت کا نہیں بلکہ عوامی مینڈیٹ کے احترام کا ہے۔ آئینی اعتبار سے ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے اسمبلی میں آنا ممکن ہے اور وزیراعظم کا انتخاب اسمبلی ارکان کرتے ہیں مگر سیاست صرف آئین کی چند سطروں کا نام نہیں یہ عوامی احساس و سیاسی اخلاقیات اور مینڈیٹ کے احترام کا بھی نام ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس جماعت کا مرکزی سیاسی بیانیہ ہی ”ووٹ کو عزت دو“ رہا ہو اس کے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہوجاتا ہے کہ ووٹ کو عزت صرف اس وقت کیوں دی جائے جب وہ ہمارے حق میں پڑے اگر عوام کسی شخص کو منتخب نہ کریں تو اسے ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے اسمبلی میں لایا جا سکتا ہے اور پھر وزیراعظم بھی بنایا جاسکتا ہے لیکن دوسری طرف عوام کے براہِ راست ووٹ سے منتخب ہونے والے ارکان کو صرف اس بنیاد پر کابینہ سے باہر رکھا جائے کہ وہ مہاجرین کی نشستوں سے آئے ہیں۔ یہ سیاسی تضاد آخر کس منطق کا نام ہے یہ اعتراض صرف سیاسی مخالفین کی طرف سے نہیں اٹھا بلکہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر اور سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے بھی افتخار گیلانی کی نامزدگی پر اپنے تحفظات ظاہر کیے۔ شاہ غلام قادر نے وزارتِ عظمیٰ کی ووٹنگ میں حصہ لینے سے انکار کرتے ہوئے اسے ”ووٹ کو عزت دو“ تحریک کے برعکس اور نقصان دہ قرار دیا۔ پارٹی کے اندر سے اٹھنے والی یہ آواز اس لیے اہم ہے کہ اس سے معاملہ محض اپوزیشن کی تنقید نہیں رہتا بلکہ جماعت کے اپنے اندر موجود سیاسی اضطراب بھی سامنے آتا ہے۔آزاد کشمیر کے عوام نے انتخابات میں جس جماعت کو مینڈیٹ دیا حکومت سازی کا استحقاق بھی اسی جماعت کا ہے لیکن مینڈیٹ کا مطلب یہ نہیں کہ کامیاب جماعت عوامی رائے کی روح سے بے نیاز ہو جائے۔ حکومت سازی کا اختیار جیتنے والی جماعت کے پاس ہوتا ہے مگر حکومت کرنے کا اخلاقی جواز عوامی اعتماد سے آتا ہے۔ سیاست میں آج کا فیصلہ کل کی روایت بن جاتا ہے۔ اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ عام انتخابات میں شکست کھانے والا شخص ٹیکنوکریٹ نشست کے ذریعے ایوان میں آ کر وزارتِ عظمیٰ تک پہنچ سکتا ہے تو کل یہی راستہ ہر جماعت کے لیے کھلا ہوگا۔ پھر انتخابات محض اسمبلی کی نشستیں جیتنے کا عمل رہ جائیں گے اور وزارتِ عظمیٰ کا فیصلہ کہیں اور ہوگا۔ یہ صورتِ حال جمہوریت کے دعویداروں کے لیے یقیناً ایک سنجیدہ سوال ہے۔ بات بہت سادہ ہے عوام جسے ووٹ دیں اسے عزت ملنی چاہیے۔ جسے ووٹ نہ دیں اسے بھی آئینی حق حاصل ہے مگر اسے عوامی مینڈیٹ کی علامت بنا کر پیش کرنا سیاسی طور پر مینڈیٹ کی روح سے انحراف ہے۔میاں نواز شریف نے اپنی سیاست میں ووٹ کی حرمت کو ایک بڑے بیانیے کے طور پر پیش کیا۔ آج آزاد کشمیر میں انہی کی قیادت میں ہونے والے فیصلے اسی کسوٹی پر پرکھے جا رہے ہیں۔ یہ تنقید کسی فرد کی ذات کے خلاف نہیں بلکہ ایک اصول کے حق میں ہے۔ مسلہ بیرسٹر افتخار گیلانی کا نہیں سوال یہ ہے کہ اگر عوام کا ووٹ سب سے بڑا اختیار ہے تو پھر اس اختیار کا احترام ہر موقع پر یکساں کیوں نہیں اور شاید آزاد کشمیر کی موجودہ سیاست کا سب سے بڑا سوال بھی یہی ہے:”ووٹ کو عزت دو“ صرف نعرہ ہے یا واقعی ایک اصول؟

ووٹ کو عزت دو… مگر کب؟

12/09/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے