#کالم

ستائیس ستمبر، تصادم کا دن یا مکالمے کا موقع؟

rafeh s

رفیع صحرائی

پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک راستہ سیاسی تصادم کی طرف جاتا ہے اور دوسرا مذاکرات کی میز تک پہنچتا ہے۔ 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف سیاسی مارچ اور اس سے قبل ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی سرگرمیوں نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن اپنے سیاسی حقوق، عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کے لیے عوام کو متحرک کرنے کی بات کر رہی ہے، دوسری طرف حکومت کے لیے یہ سوال اہم ہے کہ وہ اس سیاسی دباو¿ کا جواب طاقت سے دیتی ہے یا سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی ہے۔یہاں ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے: جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کی دشمن نہیں ہوتیں۔ حکومت آج اقتدار میں ہے تو کل اپوزیشن میں ہو سکتی ہے اور جو جماعت آج اپوزیشن میں ہے وہ کل اقتدار میں آ سکتی ہے۔ کل پاکستان تحریکِ انصاف اقتدار میں تھی اور مسلم لیگ ن اپوزیشن میں، آج دونوں کی جگہ تبدیل ہو چکی ہے، آنے والے کل میں پھر معاملہ الٹ ہو سکتا ہے۔اگر ہر جماعت اپنے سیاسی مخالف کو ریاست کا دشمن سمجھنے لگے تو جمہوریت محض انتخابی عمل کا نام رہ جائے گی، جمہوری برداشت، رواداری اور سیاسی مکالمہ ختم ہو جائے گا۔27 ستمبر کو سیاسی احتجاج یا لانگ مارچ کرنا کسی سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہو سکتا ہے، لیکن اس حق کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ احتجاج پرامن ہونا چاہیے، شہریوں کی روزمرہ زندگی مفلوج نہیں ہونی چاہیے، سرکاری و نجی املاک محفوظ رہنی چاہئیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم سے حتی الامکان گریز کیا جانا چاہیے۔ سیاسی کارکن کسی بھی جماعت کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں؛ انہیں سیاسی جدوجہد کے لیے تیار کرنا قیادت کا حق ہے، مگر انہیں تصادم کے میدان میں دھکیل دینا کسی طور دانش مندی نہیں۔ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے یہ کہنا کہ پہلی گولی وہ اپنے سینے پر کھائیں گے، پرتشدد احتجاج کی طرف واضح اشارہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس حد تک جانے کو تیار ہیں کہ قانون ناقذ کرنے والے اداروں کو گولی چلانے پر مجبور کر دیں گے۔ یہ خطرناک صورتِ حال ہے۔ کارکنوں کی جانیں بہت قیمتی ہیں، انہیں پرامن احتجاج کے لیے ضرور نکالیے، جنگ سے گریز کیجیےاسی طرح حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر احتجاج کو محض امن و امان کا مسئلہ سمجھ کر طاقت کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ احتجاج کے پیچھے اگر عوامی یا سیاسی شکایات موجود ہیں تو ان کا سیاسی حل تلاش کرنا ہی پائیدار راستہ ہے۔ گرفتاریوں، مقدمات اور پابندیوں سے وقتی طور پر سڑکیں تو خاموش ہو سکتی ہیں، مگر سیاسی اختلاف ختم نہیں ہوتا۔ اختلاف کو دبانے کے بجائے اسے سننا اور اس کا جواب دینا ہی جمہوری حکومت کی اصل طاقت ہے۔موجودہ سیاسی تنازع میں عمران خان کی گرفتاری اور ان سے متعلق عدالتی و سیاسی معاملات ایک مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان معاملات پر حکومت اور تحریک انصاف کے موقف میں شدید خلیج ہے۔ ایک فریق اسے قانون اور عدالتی عمل کا معاملہ قرار دیتا ہے جبکہ دوسرا اسے سیاسی انتقام اور جمہوری مینڈیٹ کے خلاف کارروائی سمجھتا ہے۔ اس اختلاف کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں بلکہ آئین، عدالتوں اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہونا چاہیے۔ اگر کسی فریق کو عدالتی فیصلے سے اختلاف ہے تو قانونی راستے موجود ہیں؛ اگر کسی کو سیاسی عمل پر اعتراض ہے تو پارلیمان اور عوامی سیاست کا راستہ موجود ہے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی جانب سے 27 ستمبر کو فیصلہ کن سیاسی جدوجہد قرار دینا ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے جلسوں اور ریلیوں میں عوامی حمایت کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ دوسری طرف مخالف سیاسی قوتیں بھی اپنے موقف پر قائم ہیں۔ اس صورت حال میں اصل فیصلہ عوام کا ہے، مگر عوامی رائے کا احترام اسی وقت ممکن ہے جب اسے پرامن، آزاد اور جمہوری طریقے سے سامنے آنے دیا جائے۔یہاں حکومت کے لیے ایک سنہری موقع موجود ہے۔ اگر وہ 27 ستمبر سے پہلے اپوزیشن کو مذاکرات کی باضابطہ پیشکش کرتی ہے تو اس سے سیاسی کشیدگی کم ہو سکتی ہے۔ مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت اپوزیشن کے تمام مطالبات تسلیم کر لے یا اپوزیشن اپنے تمام مو¿قف سے دستبردار ہو جائے۔ مذاکرات کا مطلب صرف یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو سننے پر آمادہ ہوں۔اسی طرح اپوزیشن کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کی منزل کیا ہے؟ اگر مقصد واقعی آئینی حقوق، سیاسی انصاف اور عوامی مینڈیٹ کا تحفظ ہے تو اس کے لیے مذاکرات سے بہتر راستہ کیا ہو سکتا ہے؟ اگر حکومت بات چیت کی پیشکش کرے تو اسے قبول کرنا سیاسی کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بلوغت ہوگی۔ دنیا کی جمہوریتوں میں سخت ترین سیاسی مخالفین بھی قومی مفاد کے معاملات پر ایک میز پر بیٹھتے ہیں۔ ہمارے ہاں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان میثاقِ جمہوریت اس کی بہترین مثال ہے۔پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام کی شدید ضرورت ہے۔ معیشت پہلے ہی متعدد چیلنجز سے دوچار ہے۔ سرمایہ کاری، روزگار، برآمدات، توانائی، مہنگائی اور سرکاری مالیات جیسے مسائل فوری توجہ چاہتے ہیں۔ ایسے ماحول میں مسلسل سیاسی بے یقینی کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ سیاسی کشمکش کا سب سے بڑا بوجھ بھی آخرکار عام آدمی ہی اٹھاتا ہے۔ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم سیاست کو اقتدار کی جنگ بنانا چاہتے ہیں یا قومی مسائل کے حل کا ذریعہ۔ اگر سیاست صرف اس مقصد تک محدود ہو جائے کہ کون جیتا اور کون ہارا تو عوام پھر بھی ہار جاتے ہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب حکومت اور اپوزیشن مل کر یہ ثابت کریں کہ سیاسی اختلاف کے باوجود ریاستی مفاد مقدم رکھا جا سکتا ہے۔27 ستمبر اس لحاظ سے صرف ایک احتجاج یا سیاسی مارچ کی تاریخ نہیں ہونی چاہیے۔ اسے پاکستان کی سیاسی قیادت کے لیے ایک امتحان سمجھا جانا چاہیے۔ اپوزیشن کے لیے امتحان کہ وہ اپنے احتجاج کو کس قدر منظم، پرامن اور آئینی رکھتی ہے، اور حکومت کے لیے امتحان کہ وہ سیاسی اختلاف کو کس قدر برداشت اور دانش مندی سے سنبھالتی ہے۔ اگر اس دن تصادم ہوا تو چند گھنٹوں یا چند دنوں کی سیاسی کامیابی شاید کسی ایک فریق کو مل جائے، مگر نقصان ملک کا ہوگا۔ اگر اس موقع کو مکالمے کا آغاز بنا دیا گیا تو شاید یہی دن پاکستانی سیاست میں ایک نئے باب کی بنیاد رکھ دے۔پاکستان کو مزید سیاسی جنگوں کی نہیں، سیاسی حل کی ضرورت ہے۔ ہمیں مخالف کو ختم کرنے کی نہیں، مخالف کے موقف کو سننے کی روایت قائم کرنا ہوگی۔ حکومت رہے یا اپوزیشن، جماعت کوئی بھی ہو، اصول ایک ہی ہونا چاہیے: اختلاف ضرور ہو مگر انتقام نہیں ہونا چاہیے۔ احتجاج ضرور ہو لیکن تشدد نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست ضرور ہو مگر تصادم سے گریز ہونا چاہیے کیونکہ ریاستیں نعروں سے نہیں، اداروں، آئین، قانون اور سیاسی برداشت سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اور قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب ان کے رہنما یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اقتدار عارضی ہے، مگر ملک ہمیشہ قائم رہتا ہے۔

ستائیس ستمبر، تصادم کا دن یا مکالمے کا موقع؟

7ستمبر یوم فضائیہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے