7ستمبر یوم فضائیہ
شاہد بخاری
چھ ستمبر کو ریڈیو پاکستان سے جب لاہور پر تینوں اطراف سے اچانک بھارتی ٹینکوں توپوں سے حملے کی خبریں سنی گئیں تو ہم سب سیکٹر وارڈنز کو ہدایات دی گئیں کہ ھر چوک میں میں خندقیں کھود لیں۔ تاحکم ثانی رات کو مکمل بلیک آو¿ٹ رھا کرے گا،اجنبیوں کی آمد و رفت پر کڑی نظر رکھیں۔
تمام رات سرگودھا کی فضاو¿ں پر 104.F. طیارے محو پرواز رہے۔ نماز فجر کے بعد جامعہ مسجد گول چوک کے قاری جلیل الرحمٰن صاحب نے درس قران شروع کیا ہی تھا کہ اینٹی ایئر کرافٹ گنز کی فائرنگ سے اور تیز رفتار طیا روں کی نیچی پرواز کی گڑگڑاہٹ سے مسجد لرز اٹھی۔خطرے کا سائیرن بجتے ھی قاری صاحب نے سب کو صحن سے برامدے میں چلے جانے کو کہا پر۔۔ع۔۔کون سنتا ہے فغان درویش؟
سب نمازی ڈوگ فائیٹنگ دیکھنے کے دوران یا الللہ مدد اور نعرہئ تکبیر ،الللہ اکبر،بلند کرتے رھے۔تمام دن وقفے وقفے سے بھارتی طیارے آتے رہے اور منہ کی کھاتے رھے۔رات بھر خطرہ ھونے اور خطرہ ٹلنے کے سائرن ہوتے رہے۔ چوتھے روز سے دن کی روشنی میں بھارتی ہوا بازوں کو سرگودھا پر آنے اور بم گرانے کی جرات نہ رہی، کیوں کہ پہلے ہی دن اکیلے ایم ایم عالم نے چند لمحوں میں 5 بھارتی طیارے سا نگلہ ھل کے پاس گرادئیے تھے،وھاں کے دیہاتی بھی حیران تھے کہ یہ سب کچھ اچانک کیسے ھو گیا؟:
نام وہ اونچا کرے اس ملک کا
ہو دلیری ایسی ایسا طور ہو
دل میں حسرت پی رہی شاہد میرے
ایم۔ایم عالم سا کوئی تو اور ہو
وہ حسرت فروری 2019ءاورپھر مئی 2025 میں الللہ نے پوری کردی۔ ھماری اینٹی ایئر کرافٹ گنز نے بھی کئی بھارتی طیارے مار گرائے جن میں سے کچھ طیاروں کے ٹکڑے نوجوان گھسیٹ لائے اور (جب تک PAF والے انھیں واپس نھیں لے گئے) بازاروں میں ان کا جلوس نکالتے رھے۔ 23ستمبر کی رات تین بجے تک بھارتی طیارے سر گودھاBase کو تباہ کرنے کی نا کام کوششوں میں لگے رہے۔ اس پر تب خورشید رضوی صاحب نے کہا: سرگودھا کی فضا کا بھی لازم ہے احترام
او نچاہے جس کا اوج ثریا سے بھی مقام
طیاروں کا یہاں کے فلک رس ھے گام گام
کرتے ہیں ماہ و مہر ھوا باز کو سلام
بستے ھیں آسماں کے
لو گ، اس زمین پر
حیرت میں ھیں وھاں کے لوگ اس زمین پر
سرگودھا کی حفاظت کے لیے ایم۔ایم۔عالم کے ساتھ ان کے نمبر ٹو فلائنگ افیسر مسعود اختر تھے۔ عالم جس حملہ آور ہنٹر کو اپنے سیبر کی زد میں لیے ہوئے تھے، وہ بقول عالم” میری زد سے بچنے کے لیے داو¿ پیچ کھیلنے لگا لیکن میں نے اسے نکلنے نہ دیا۔ بھارتی ہوا باز نے میرے تعاقب سے نکلنے کے لیے طیارے کو عمودن اوپر کھینچ لیا۔اس کا خیال تھا کہ میں اس کے نیچے سے آگے نکل جاو¿ں گا لیکن میں بھی اس کے پیچھے عمو دن اوپر اٹھ گیا اور اس کے ساتھ ھی چپک گیا۔ اسی پوزیشن سے میں نے گنوں سے بوچھاڑ کر دی طیار کو آگ لگ گئی۔ زناٹے سے میں اس کے قریب سے گزر گیا۔گھوم کر دیکھا تو طیارہ جلتا ہوا گر رھا تھا اور اس کا پائلٹ(کمانڈنگ افسراونکار ناتھ کاکڑ)پیرا شوٹ سے نیچے جارھاتھا۔اسی لمحے مسعود کی آواز آئی،بائیں طرف 4ھنٹر،ھمیں دیکھتے ھی وہ تیزی سے گھوم کر اوپر اٹھنے لگے۔میں نے بھی سیبر گھمایا اور ان کے پیچھے سے ان کے قریب پہنچ گیا اور الللہ اکبر کہہ کر مشین گن کے بٹن دبا دئیے۔آسمان میں شرارے چمک اٹھے اور شعلے بھڑکنے لگے، دھماکے بھی ھوئے۔چند لمحوں میں4 ھنٹر جلتے ھوئے نیچے گر رھے تھے۔چھٹے کا انجن خراب ھونے پر،ہائیلٹ پیرا شوٹ سے نیچے کود گیا” کاپل حبیب فاروقی بتلاتے تھے کہ جب گراو¿نڈ کریوز وا کے،پائیلٹوںکو خدا حافظ کہتے ھوئے دعا دیتے کہ اللہ خیر خیریت سے واپس لائے تو وہ کہتے تھے کہ یوں دعا کریں کہ ھم اپنا مشن مکمل کریں،چاھے واپس آئیں یا نہ آئیں:
ھمارے پائلٹس جب فضائے دشمن میں
ولولوں کی اڑان بھرتے تھے
ان کے عزائم کی گونج سے شاھد
دشمن سارے گھروں میں ڈرتے تھے
ہماری مختصر سی پاک فضائیہ نے اپنے سے کئی گنا بڑی بھارتی فضائیہ کو جو جدید طیاروں اور ماڈرن ٹیکنالوجی سے لیس تھی کو ناکوں چنے چبوا کر پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا۔غیر ملکی دفاعی مبصر حیران ہوتے تھے کہ ہماری مختصر سی فضائی فوج نے تھوڑے سے پرانے طیاروں سے کس طرح سے انڈیا کے جدید ہوا ئی بیڑے کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا؟؟انھیں یہ پتہ نہیں،کہ پروازکی صلا حیت اور حوصلہ مندی کے سامنے جنگی ساز و سامان کے بھرمار کی کوئی حیثیت نہیں۔بھارتیوں کے پاس ھوس گیری ملک کے سوا کوئی مقصد نہ تھا جبکہ ہم اپنے دفاع کے لیے سینہ سپر تھے اسلحہ نہیں لڑتا جذبہ لڑتا ہے۔سکوڈرن لیڈر شمس نے اپنے درد گردہ کو اس لیے پوشیدہ رکھا کہ کہیں مشن پر جانے سے انھیں روک نہ دیا جائے۔ انہوں نے درد گردہ کی تکلیف میں حضرت ایوب کی دعا پڑھتے ھوئے اپنے تمام مشن مکمل کئیے۔بعد از جنگ بذریعہ اوپر۔یشن ان کے گردے سے بہت سی پتھریاں نکا لی گئیں۔سکوڈرن لیڈر یونس حسن نے اپنی جان بچانے کے بجائے اپنے خراب، مضروب طیارے کو بھارتی ایئر بیس پر مائل بہ پرواز طیاروں سے ٹکرا کر انہیں تباہ کر دیا جو پاکستان پر حملہ کرنے والے تھے۔ ان کی تباہی کا چوں کہ پی۔ اے۔ ایف کے پاس کوئی دستا ویزی ثبوت نھیں تھا،ا س لئیے یہ ان 110 طیاروں میں شامل نہیں جو ہمارے گنرز یا فائٹرز نے گرائے جب کہ ہمارے 14 طیارے تباہ ہوئے جن میں ایک وہ نیچی پرواز والا طیارہ بھی شامل ہے جسے انڈیا کا سمجھ کر ھمارے گنر نے گرا دیا گیا تھا۔ائیر وائس مارشل فاروق عمر بتاتے ہیں کہ 17 ستمبر تک عالم صاحب نے میدان جنگ میں بہت سے ٹینک اورتوپیں تباہ کیں۔ ان سے جب غیر ملکی ماہرین پوچھتے کہ اتنے زیادہ طیارے کیسے تباہ کیے؟اس پر ان کا جواب یہ ہوتا تھا کہ میں تو دشمن طیارے کو دیکھ کر ھارڈ ٹرن لیفٹ، پھر ھارڈ ٹرن رائٹ اور پھر High -G-Barell,رول کرتا تھا،اور ھنٹرز میری رینج میں آ جاتے تھے۔پھر میں میزائل اور گنز کے ٹریگرز دبا دیتا تھا اور وہ آگ کا گولہ بن جاتے تھے۔یہ کیسے ھو جاتا تھا؟یہ تو الللہ ھی جانتا ھے” انھوں نے کبھی بھی اپنی ذھانت ، چستی پھرتی،مہارت، پریکٹس اور حاضر دماغی کا ذکر نھیں کیا۔آخیر میں سکوڈرن لیڈر R.عبدالعلی شوکت کی نظم کے کچھ حسب حال اشعار اور ترانہ پاک فضائیہ ملاحظہ فرمائیں ؛
ہمارے شا ہباز ولولوں کا سیل بے پنا ہ
عدو کا دل پھٹا،جدھر اٹھی عقاب کی نگاہ
ھوا وہ خاک رو،بہ ایں غرور کثرت سپاہ
کہاں کا اسلحہ کہاں کے ٹینک؟
سب ہوئے تباہ
زبان زد عوام تھے
یہ جراءتوں کی داستاں
فضائیہ پاک سر زمین تھی
فلک نشاں
یہ 17دن میں عرصہ حیات تنگ ہو گیا
ہوائی برتری کا زعم نذر جنگ ہو گیا
فرار ھی فرار زندگی کا ڈھنگ ہو گیا
شکست ھند پرتمام دہر دنگ ھو گیا
ہمارے کارواں کے پاو¿ں چومتی ھے،کہکشاں فضائیہ پاک سرزمین ہے فلک نشاں
(ترانہ)
فضائیہ کے نوجواں
فضائیہ کے ترجماں
زمیں سے تا بہ کہکشاں
فضاو¿ں میں رواں دواں
فلک نشاں فلک نشاں
تمھیں سے عظمت وطن
شکوہ و سطوت وطن
تمہی ھیں رفعت وطن
بلندیوں کے راز داں
فلک نشاں،فلک نشاں
جہاں میں سر بلند ھیں
فضاو¿ں کے سمند ھیں
تمماری اک زقندھیں
یہ ابر و باد کہکشاں
فلک نشاں فلک نشاں
ھیں راشد و منیر ھم
رفیقی بے نظیر ھم
ھیں قوم کا ضمیر ھم
ھیں دشمنوں پہ قہر ماں
فلک نشاں فلک نشاں
ھواوئ ں پہ سوار ھیں
گھٹائیں زیر بار ہیں
زمیں کے شہر یار ہیں
سمندروں پہ پر فشاں
فلک نشاں فلک نشاں
یہ ندیاں یہ کہسار
دشت وباغ و مرغزار
زیر پائے افتخار
یہ بر و بحر بے کراں
فلک نشاں فلک نشاں
مجاہدان سرفروش
عساکر کفن بدوش
مرقع جہاد و ھوش
ھیں سرحدو ں کے پاسباں
فلک نشاں فلک نشاں
پر وقار و سر بلند
محتشم وارجمند
باشعور و ھوشمند
ہیں کامیاب و کامراں
فلک زمیں فلک نشاں
ارض پاک و ارض پاک
تاب ناک و تاب ناک
پستیاں ھیں پر تپاک
ھیں شادماں بلندیاں
فلک نشاں فلک نشاں
صف بہ صف مجاںدو
سکوت شب کو توڑ دو
بحکم ایزدی اٹھو
بڑھے چلو رواں دواں
فلک نشاں فلک نشاں






