پٹرول پمپ یا ریونیو مشین ؟
مرزا رضوان
پاکستان میں اگر کسی عام شہری سے پوچھا جائے کہ ملک میں ٹیکس سمیٹنے کا سب سے بڑا اور موثر ترین ادارہ کون سا ہے، تو جواب میں بلا جھجھک فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا نام لیا جائے گا۔ لیکن حقیقت کی دنیا میں اگر تھوڑی سی گہرائی میں جا کر دیکھیں تو سچائی اس کے بالکل برعکس نظر آئے گی۔ آج پاکستان میں ٹیکس وصولی کا سب سے بڑا مرکز ایف بی آر کی ایئرکنڈیشنڈ عمارتیں یا ان کا وسیع و عریض ریونیو نیٹ ورک نہیں، بلکہ ملک کے طول و عرض میں قائم ہزاروں پٹرول پمپس ہیں۔ ریاست نے اپنے انتظامی نظام کی کمزوریوں اور ٹیکس وصولی کی ناکامیوں کا تمام تر بوجھ شاہراہوں پر چلتی ان گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر ڈال دیا ہے جو معاشی پہیے کو رواں دواں رکھنے کے لیے ایندھن ڈلوانے پر مجبور ہیں۔ پٹرول پمپ اب صرف ایندھن فراہم کرنے والی جگہ نہیں رہے، بلکہ یہ حکومتِ وقت کی سب سے بڑی اور بے رحم ریونیو مشین بن چکے ہیں۔ایک عام پاکستانی شہری، جو شدید معاشی تنگ دستی اور مہنگائی کے دور میں دو وقت کی روٹی اور روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے، جب پٹرول پمپ پر پہنچ کر اپنی موٹر سائیکل میں صرف ایک لیٹر پٹرول ڈلواتا ہے، تو وہ 346 روپے فی لیٹر کی بھاری قیمت ادا کرتا ہے۔ لیکن کیا اس عام شہری کو معلوم ہے کہ اس کے پسینے کی کمائی سے نکلنے والی اس رقم میں سے تقریباً 108 روپے فی لیٹر براہِ راست ایف بی آر اور حکومتی خزانے میں جمع ہو جاتے ہیں؟ اس رقم کا نام بڑی خوبصورتی اور معاشی اصطلاحات کے پردے میں ‘پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی’ (PDL) رکھا گیا ہے۔ یہ کوئی معمولی کٹوتی یا ترقیاتی فنڈ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسا بالواسطہ (Indirect) ٹیکس ہے جو غریب اور امیر دونوں پر یکساں اور بے رحمی سے نافذ کیا گیا ہے۔ ایک ارب پتی کی بڑی گاڑی اور ایک دیہاڑی دار مزدور کی پرانی موٹر سائیکل میں ڈلنے والے پٹرول پر ایک ہی شرح سے ٹیکس وصول کرنا نہ صرف معاشی بلکہ اخلاقی ناانصافی کی بدترین مثال ہے۔اگر پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے حالیہ اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو معاشی بدانتظامی اور عوامی استحصال کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔ چند سال پہلے تک، اس لیوی کی مد میں سالانہ تقریباً 128 ارب روپے وصول کیے جاتے تھے، جسے اس وقت بھی ایک بڑا عدد سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج یہی وصولی چھلانگ لگا کر 1,567 ارب روپے کی ایک فلک شگاف اور ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ایک ایسا ڈرامائی اضافہ ہے جو کسی معاشی پیش رفت یا ترقی کا مظہر نہیں، بلکہ ریاست کی اس معاشی مجبوری اور آسان راستے کی تلاش کو ظاہر کرتا ہے جس کا تمام تر خسارہ عام شہری کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جب جب حکومت کو اپنا بجٹ خسارہ پورا کرنا ہوتا ہے یا عالمی مالیاتی اداروں کے مطالبات کے سامنے سر جھکانا ہوتا ہے، تو کسی بااثر طبقاتی گروپ، رئیل اسٹیٹ ٹائکون یا وڈیرے پر ٹیکس لگانے کے بجائے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کا بوجھ مزید بڑھا دیا جاتا ہے۔یہ سنگین بوجھ ایک ایسے پاکستان میں عوام پر ڈالا جا رہا ہے جہاں کی معاشی حالت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں روز بروز زوال پذیر ہے۔ آج پاکستان میں فی کس آمدنی ہمارے ہمسائے بھارت اور بنگلہ دیش سے کہیں کم ہو چکی ہے، لیکن اس کے برعکس یہاں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عام شہری کی قوتِ خرید کے لحاظ سے ان ممالک سے کہیں زیادہ تکلیف دہ اور ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں ایک عام محنت کش، دکاندار یا نجی ملازم اپنی ماہانہ آمدنی کا ایک بڑا اور معقول حصہ صرف اپنی جائے ملازمت تک پہنچنے کے لیے ایندھن کی نذر کرنے پر مجبور ہے۔ یوں باقی بچ جانے والی قلیل رقم سے بجلی کے بھاری بل، گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم اور ادویات کی خریداری پورا کرنا ایک ناممکن معجزہ بن کر رہ گیا ہے۔معاشی سائنس کا یہ بنیادی اصول ہے کہ پٹرول اور ڈیزل صرف گاڑیوں کا ایندھن نہیں بلکہ پوری معیشت کے خون کی گردش ہیں۔ جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کی تباہ کن لہریں پوری معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ خاص طور پر ڈیزل کی قیمت میں اضافہ زراعت اور مال برداری کی صنعت کو شدید متاثر کرتا ہے۔ کسان کی فصل کی کٹائی سے لے کر منڈی تک پہنچانے اور پھر وہاں سے شہری دکانوں تک سامان کی منتقلی کا تمام تر انحصار ڈیزل پر ہے۔ جب ایندھن پر ٹیکسوں کی بھر مار ہوتی ہے تو آٹا، دالیں، سبزیاں اور دیگر اشیائے خورونوش سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جاتا ہے۔ یوں پٹرول پمپ سے شروع ہونے والا یہ ٹیکس پورے ملک میں مہنگائی کا وہ طوفان کھڑا کر دیتا ہے جسے سنبھالنا حکومت کے اپنے بس میں نہیں رہتا۔حکمرانوں کی اس آسان پسندی کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں حقیقی ٹیکس اصلاحات کا باب تقریباً بند ہو چکا ہے۔ ایف بی آر کا پورا نظام بڑے ٹیکس چوروں، ڈائریکٹ ٹیکس سے بھاگنے والے طاقتوروں اور غیر قانونی معیشت کے آگے بے بس دکھائی دیتا ہے۔ لیکن پٹرول پمپ ایک ایسا مقام ہے جہاں سے کوئی شہری بھاگ نہیں سکتا۔ ایندھن کی ضرورت ہر شخص کی مجبوری ہے، اور اسی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ریاست اپنی نااہلی کا جرمانہ عوام سے روزانہ کی بنیاد پر وصول کرتی ہے۔ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے نام پر عوام کی جیبوں پر جو یہ مسلسل کلہاڑا چلایا جا رہا ہے، اس نے ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔آج سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قوموں کی تعمیر اور معاشی استحکام کا راستہ اسی طرح عوام کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ نچوڑ کر بنایا جاتا ہے؟ دنیا بھر میں ٹیکس انسان کی مالی صلاحیت کے مطابق لیا جاتا ہے اور پھر وہی پیسہ عوام کو سستی ٹرانسپورٹ، معیاری صحت اور تعلیم کی صورت میں واپس لوٹایا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ عوام سے پٹرولیم لیوی کی مد میں اربوں کھربوں روپے بٹورنے کے بعد بھی نہ سڑکیں محفوظ ہیں، نہ سستا پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام میسر ہے اور نہ ہی روزگار کے مواقع۔ ہر پٹرول پمپ کے باہر کھڑی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی قطاریں دراصل ایک خاموش احتجاج کا منظر پیش کرتی ہیں، جہاں شہری مجبوراً اپنی خون پسینے کی کمائی ایک ایسی غیر مرئی ریونیو مشین کے سپرد کر رہے ہیں جس کی اشتہا کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔اگر اب بھی حکومت نے اپنے طرزِ حکمرانی اور معاشی ترجیحات میں بنیادی تبدیلی نہ لائی، اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے صرف ایندھن کو ہی اپنا واحد سہارا بنائے رکھا، تو وہ دن دور نہیں جب ملک کا معاشی پہیہ مکمل طور پر جام ہو جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پٹرول پمپس کو ریونیو کلیکشن سینٹرز بنانے کا یہ کاہلانہ سلسلہ فوراً بند کیا جائے، اور طاقتور طبقات، رئیل اسٹیٹ اور بڑے تجارتی شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کر عام شہری کو سانس لینے کا موقع دیا جائے۔ بصورتِ دیگر، ‘حروفِ بے زباں’ کی یہ تلخ پکار کل ایک ایسے معاشی اور سماجی طوفان کا روپ دھار سکتی ہے جسے قابو میں لانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔





