نظام کا ری سیٹ یا عوام کو نیا دھوکا؟
عامر شہباز ہاشمی
پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے صوبے چار ہیں، آٹھ ہیں یا پچاس ہونے چاہئیں؛ پاکستان کا اصل مسئلہ نقشے کی تقسیم نہیں بلکہ دولت، اختیار اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ اس ملک کی دولت پیدا کرنے والا آدمی بھوکا ہے، کھیت میں پسینہ بہانے والا کسان مقروض ہے، فیکٹری چلانے والا مزدور اپنے بچوں کی تعلیم سے محروم ہے اور دفتر میں عمر بھر خدمت کرنے والا ملازم ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے علاج اور گھر کے اخراجات کے لیے پریشان ہے، جبکہ اس کی محنت، خون اور پسینے سے پیدا ہونے والی دولت پر پلنے والا مراعات یافتہ طبقہ دن بدن طاقتور، محفوظ اور امیر ہوتا جا رہا ہے۔ محسن نقوی صاحب کہتے ہیں کہ نظام کو ری سیٹ کرنا ہوگا اور نئے انتظامی یونٹس بنیں گے، سوال یہ ہے کہ جناب! پہلے یہ تو بتائیے کہ کس نظام کو ری سیٹ کیا جائے گا؟ کیا صرف نقشے بدل دینے، صوبوں کی سرحدیں کھینچ دینے اور نئے انتظامی دفاتر قائم کر دینے کا نام نظام کی تبدیلی ہے؟ ہمارا اصل مسئلہ ایک ایسا نظام ہے جس میں عام پاکستانی ساری عمر خون پسینہ بہاتا ہے مگر اپنے بچوں کی معیاری تعلیم کا خرچ پورا نہیں کر سکتا، بیماری آ جائے تو سرکاری ہسپتالوں کے چکر لگاتا ہے یا نجی ہسپتالوں کے بھاری بلوں کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے، پھر ساٹھ برس کی عمر کو پہنچ کر، جب جسم میں مزید محنت کی طاقت باقی نہیں رہتی، ریاست اسے ریٹائرمنٹ کا کاغذ تھما کر زندگی کے میدان میں تنہا چھوڑ دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف اسی ریاست کے وسائل سے ایک مخصوص مراعات یافتہ طبقہ زمینیں، پلاٹس، پنشنیں، مراعات، سرکاری سہولتیں اور کاروباری مواقع سمیٹتا چلا جاتا ہے۔ عام آدمی کے لیے قانون، قواعد اور پابندیاں ہیں جبکہ طاقتور کے لیے راستے، استثنا اور خصوصی سہولتیں۔ آپ پنجاب کے دو ٹکڑے کر دیں، چار کر دیں، پورے پاکستان میں پچاس صوبے بنا دیں یا ڈیڑھ سو انتظامی یونٹس قائم کر دیں، لیکن جب تک اس ملک کے وسائل پر قابض طاقتور طبقات کا حقیقی احتساب نہیں ہوگا، جب تک قومی دولت کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی اور جب تک عام آدمی اور اشرافیہ کے درمیان موجود یہ خوفناک معاشی خلیج کم نہیں ہوگی، تب تک ہر نیا صوبہ عوام کے لیے ایک اور خرچہ ثابت ہوگا؛ ایک نئی اسمبلی، ایک نئی کابینہ، نئے وزرا، نئے مشیر، نئے دفاتر، نئی بیوروکریسی، نئی گاڑیاں، نئے پروٹوکول اور ایک نیا حکمران طبقہ! اصل ضرورت نئے نقشے بنانے کی نہیں بلکہ اختیار اور دولت کے اس ظالمانہ ارتکاز کو توڑنے کی ہے۔اگر واقعی اصلاحات مقصود ہیں تو بلدیاتی نظام کو مضبوط بنائیے، ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کو حقیقی اختیار دیجیے، عوام کو اپنے علاقے کے فیصلوں میں شریک کیجیے اور طاقت کو اوپر سے نیچے منتقل کیجیے۔ ایک دور دراز گاو¿ں کے مسئلے کا فیصلہ اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومت میں بیٹھا شخص کیوں کرے؟ مقامی حکومتوں کو مالی اور انتظامی خودمختاری دیجیے تاکہ عوام اپنے مسائل کا حل اپنے نمائندوں کے ذریعے تلاش کر سکیں، لیکن خدا کے لیے ہر دس پندرہ سال بعد عوام کے ہاتھ میں ایک نیا سیاسی لالی پاپ پکڑا کر انہیں بیوقوف بنانا بند کیجیے۔ مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان پر ایک ایسا مراعات یافتہ طبقہ قابض ہے جو عوام کے خون پسینے سے پیدا ہونے والے وسائل پر پل رہا ہے؛ خواہ وہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھا ہو، بڑا سرمایہ دار ہو، جاگیردار ہو، کارپوریٹ اشرافیہ کا حصہ ہو یا ریاستی مراعات کا مستقل حق دار کوئی بھی گروہ، اصول ایک ہونا چاہیے کہ ہر طاقتور کو قانون اور احتساب کے اسی ترازو میں تولا جائے جس میں ایک عام شہری کو تولا جاتا ہے۔ جب تک ریاست کا خزانہ چند طبقوں کی جاگیر بنا رہے گا، جب تک قانون طاقتور کے سامنے کمزور اور کمزور کے سامنے طاقتور رہے گا اور جب تک اس ملک کی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کے ہاتھ میں نہیں آئے گی، تب تک کوئی نظام ری سیٹ نہیں ہوگا؛ صرف حکمرانوں کے چہرے بدلیں گے، نقشے بدلیں گے، نعرے بدلیں گے اور عوام ہر بار کی طرح ایک نئے وعدے اور نئے دھوکے کے ساتھ زندہ رہنے پر مجبور رہیں گے۔ پاکستان کو نئے صوبے بنانے سے پہلے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ریاست کس کے لیے ہے: چند ہزار مراعات یافتہ لوگوں کے لیے یا پچیس کروڑ عوام کے لیے؟ پاکستان کو نئے اسمبلی ہال نہیں، نئے وزیروں کی فوج نہیں اور نئے پروٹوکول کے مراکز نہیں چاہئیں؛ پاکستان کو انصاف چاہیے، وسائل کی منصفانہ تقسیم چاہیے، طاقتور اور کمزور کے لیے ایک قانون چاہیے، تعلیم اور علاج کی مساوی سہولت چاہیے اور سب سے بڑھ کر اس پورے مراعات یافتہ، بے لگام اور عوام کے خون پسینے پر پلنے والے نظام کا بے رحم احتساب چاہیے۔ **کیونکہ نظام نقشے بدلنے سے نہیں بدلتا، نظام اُس وقت بدلتا ہے جب ریاست کی طاقت اور دولت چند ہاتھوں سے نکل کر عوام تک پہنچتی ہے؛ اور شاید پاکستان کو آج سب سے زیادہ اسی حقیقی ”ری سیٹ“ کی ضرورت ہے






