پگھلتے گلیشیئرز، بدلتی زمین اور انسانی مستقبل کی تشویش
منشاقاضی
دنیا اس وقت جن سنگین اور فیصلہ کن مسائل سے دوچار ہے، ان میں ماحولیاتی تبدیلی اور موسمیاتی بحران بلاشبہ سب سے زیادہ اہم، حساس اور فوری توجہ طلب مسئلہ ہے۔ یہ محض سائنسی مباحث، عالمی کانفرنسوں یا حکومتی پالیسیوں تک محدود موضوع نہیں رہا بلکہ اب انسانی زندگی، معیشت، زراعت، صحت، پانی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے براہِ راست وابستہ ہو چکا ہے۔ پگھلتے ہوئے گلیشیئرز، بے ترتیب بارشیں، غیر معمولی گرمی کی لہریں، سیلاب، خشک سالی اور موسموں کی بدلتی ہوئی روش اس حقیقت کی گواہی دے رہی ہے کہ قدرت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔اسی نہایت اہم اور عصرِ حاضر کے سلگتے ہوئے مسئلے کو علمی اور فکری سطح پر زیرِ بحث لانے کے لیے کنسٹرکٹیو تھنکرز نیٹ ورک (CTN) کے زیرِ اہتمام ایک اہم سیمینار کا انعقاد ہوا۔سیمینار سی ٹی این، کالج روڈ، گلبرگ، لاہور میں منعقد ہوا۔ سیمینار کی دعوت چیئرمین CTN، مسعود علی خان نے کنسٹریکٹو تھنکرز نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ممبران کی جانب سے دی گئی۔ اس علمی نشست کا بنیادی مقصد پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے ماحولیاتی حالات، خصوصاً گلیشیئرز کے پگھلنے، موسمیاتی تبدیلیوں اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انسانی اور اجتماعی صلاحیتوں پر سنجیدہ اور بامعنی مکالمہ کرنا ہے۔ مسعود علی خان نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہدنیا کے بلند پہاڑوں پر موجود گلیشیئرز بظاہر برف کے خاموش اور عظیم الشان ذخیرے دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ انسانی تہذیب اور زندگی کے اہم محافظ ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقوں میں واقع گلیشیئرز دریاو¿ں اور آبی ذخائر کا بنیادی ذریعہ ہیں، جبکہ سوئٹزرلینڈ کے الپس بھی یورپ کے قدرتی اور آبی نظام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔تاہم بڑھتے ہوئے عالمی درجہ? حرارت نے ان برفانی ذخائر کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل صرف پہاڑوں کے حسن کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس کے اثرات دریاو¿ں کے بہاو¿، زراعت، توانائی کی پیداوار، پانی کی دستیابی اور انسانی آبادیوں تک پہنچتے ہیں۔یہی وہ لمحہ ہے جب انسان کو قدرت کے ساتھ اپنے تعلق پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ زمین ہمیں مسلسل اشارے دے رہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان اشاروں کو سننے کیلئے تیار ہیں؟اس اہم سیمینار کے مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر ساجد راشد تھے ، جو یونیورسٹی آف پنجاب کے کالج آف ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز کے ڈین ہیں۔ ماحولیاتی اور ارضیاتی علوم سے وابستہ ان کی علمی بصیرت اس موضوع کو سائنسی، تحقیقی اور عملی تناظر میں سمجھنے میں معاون ثابت ہوئی۔سیمینار میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اپنے خیالات اور تجربات پیش کیئے، جن میں ڈاکٹر عبدالجبار بھٹی ریٹائرڈ کرنل، سول انجینئر اور ماحولیاتی ماہر، ممتاز کوہ پیما جوڑا انعم عزیر اور احمد عزیر اور ایڈونچر ٹورازم کے ماہر، ٹرینر اور میڈیا پروڈیوسر طاہر عمران خان ، مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر ساجد راشد احمد جن کے لیئے اس موضوع پر گفتگو کرنا اور سانس لینا یکساں ہے محمد یونس اوپل جن کی جدید ٹیکنالوجی میں تحقیق کا مغرب بھی معترف ہے آج وہ اپنی بیگم صاحب کے ہمراہ شامل تھے اور آج ان کی کامیابیوں کے راز بھی طشت از بام ہو گئے۔ میرا کمال میرا ہنر پوچھتے ہیں لوگاک بکمال خاتون ان کی دسترس میں ہےیہ متنوع فکری اور عملی پس منظر اس نشست کو ایک منفرد جہت عطا کرتا ہے۔ ایک جانب سائنس اور ماحولیاتی تحقیق ہے، دوسری طرف انجینئرنگ اور قدرتی وسائل کے تحفظ کا تجربہ، جبکہ کوہ پیمائی اور سیاحت سے وابستہ شخصیات براہِ راست ان پہاڑوں اور گلیشیئرز کے قریب رہ کر فطرت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ رکھتی ہیں۔موسمیاتی تبدیلی پر گفتگو صرف خطرات کی فہرست بنانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں یعنی موسمیاتی مزاحمت اور تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت پیدا کریں۔پاکستان جیسے ملک کیلئے یہ مسئلہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طرف بلند و بالا پہاڑ اور گلیشیئرز ہیں، دوسری طرف میدانی علاقوں میں سیلاب، گرمی کی شدید لہریں اور آبی بحران جیسے مسائل موجود ہیں۔ ایسے حالات میں ماحول دوست منصوبہ بندی، جنگلات کا تحفظ، پانی کا دانشمندانہ استعمال، شہری منصوبہ بندی میں ماحولیات کو بنیادی حیثیت دینا اور عوام میں شعور کی بیداری ناگزیر ہو چکی ہے۔یہ سیمینار اسی سوچ کو آگے بڑھانے کی ایک اہم کوشش ہے کہ ماحولیات کا تحفظ کسی ایک ادارے، حکومت یا فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی انسانی فریضہ ہے۔انسان نے ترقی کے سفر میں بہت کچھ حاصل کیا، مگر شاید اس سفر میں اس نے فطرت کی زبان سننا کم کر دیا۔ پہاڑ آج بھی خاموش ہیں، دریا آج بھی بہہ رہے ہیں، ہوائیں اب بھی پیغام دیتی ہیں، مگر ان سب کے مزاج میں ایک تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے۔پگھلتے ہوئے گلیشیئرز دراصل صرف برف کے پگھلنے کی کہانی نہیں بلکہ یہ انسانی رویوں، صنعتی بے اعتدالی اور قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال پر ایک خاموش مگر سخت سوال ہے۔“Melting Glaciers, Shared Future” کا عنوان بھی اپنے اندر ایک گہرا فلسفہ رکھتا ہے۔ گلیشیئر کسی ایک قوم یا ملک کے نہیں ہوتے، ان کے اثرات سرحدوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ اسی طرح ماحولیاتی تبدیلی بھی کسی ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ مستقبل ہے۔سیمینار کی میزبانی معروف سیاحتی ماہر فیاض احمد نے نہایت خوش اسلوبی سے کی، فیاض احمد کا اخلاص اور ان کی کاوش کو چیئرمین مسعود علی خان نے بہت سراہا جبکہ اختتامی کلمات اور ووٹ آف تھینکس CTN کے سیکرٹری جنرل، شاعر جناب توقیر احمد شریفی نے پیش کیا۔ انجینئر توقیر احمد شریفی نے ایک شعر میں پورے سیمنار کا خلاصہ بیان کر دیا۔ یہی وجہ ارسطو نے خطابت پر شاعری کو فوقیت دی ہے۔ایک مقرر کان کے ذریعے سامعین کے دلوں میں جاتا ہے لیکن شاعر سیدھا دل میں اتر جاتا ہے۔
تم آئے ہو زمانے کی راہ سے
وگرنہ سیدھا تھا راستہ دل کس
توقیر احمد شریفی نے طوالت پر اختصار کو ترجیع اور پورا سمندر قطرے میں انڈیل دیا۔ کنسٹرکٹیو تھنکرز نیٹ ورک کی یہ کاوش قابلِ تحسین ہے کہ اس نے ایک ایسے موضوع کو گفتگو کا مرکز بنایا ہے جو آج کی دنیا کا شاید سب سے بڑا سوال ہے۔ ایسے علمی اور فکری مکالمے معاشرے میں شعور کی وہ روشنی پیدا کرتے ہیں جو بالآخر پالیسی، طرزِ زندگی اور اجتماعی رویوں میں مثبت تبدیلی کا سبب بنتی ہے۔آج جب زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، برفانی پہاڑ خاموشی سے پگھل رہے ہیں اور موسم اپنی صدیوں پرانی ترتیب سے انحراف کر رہے ہیں، ہمیں محض تماشائی بن کر رہنے کے بجائے سوچنا ہوگا۔کیونکہ گلیشیئرز کا پگھلنا صرف پہاڑوں کا مسئلہ نہیں—یہ ہمارے دریاو¿ں، ہمارے شہروں، ہماری زندگیوں اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔یہ سیمینار اسی احساس کو بیدار کرنے، علم اور تجربے کو یکجا کرنے اور ایک محفوظ، متوازن اور پائیدار مستقبل کی تلاش میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔فطرت کو بچانا دراصل اپنے مستقبل کو بچانا ہے۔ خالقِ کائنات یہ کائنات توازن پر قائم کی ہے۔ اس کا توازن ہم نے خود متوازن سے متجاوز کیا ہے۔ ایک کائنات تو یہ ہے جس میں ہم بس رہے ہیں اور ایک کائنات حضرتِ انسان ہے جس میں یہ پوری کائنات بس رہی ہے۔ باد ، نار ، آب اور تراب کا جب توازن بگڑتا ہے تو ہماری اندر کی دنیا توڑ پھوڑ کا شکار ہو جاتی ہے۔ جو چیزیں اس کائنات میں ہیں وہ ساری اس چھوٹی کائنات میں موجود ہیں۔ پہاڑ ، دریا ، گلیشیئرز ، زمین اور آسمان تک موجود ہیں ،
بے آب کب ہوئی ہے میرے دل کی سرزمین
آنسو رکے تو سوچ کے چشمے ابل پڑے
زندگی کا ح±سن قرینے اور سلیقے میں ہے
زندگی خواہ مختصر ہو جائے
مگر سلیقے سے بسر ہو جائے۔ عناصرِ اربعہ کا توازن قائم زندگی قائم وگرنہ
زندگی کیا ہے ؟ عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا
آخر میں سی ٹی این کے چیئرمین مسعود علی خان نے اپنی معرکة آرا تصنیف ہال آف فیم تمام مہمانوں کو پیش کی۔ اسلام آباد سے آئے ہوئے مہمانوں کے اعزاز میں چیئرمین سی ٹی این مسعود علی خان نے اپنی رہائش گاہ پر عشائیہ دیا جس میں طاھر عمران خان ، ڈاکٹر عبدالجبار بھٹی ریٹائرڈ کرنل ، ممتاز دفاعی تجزیہ نگار ائرکموڈور خالد چشتی ، انجینئر توقیر احمد شریفی ، میجر مجیب آفتاب ، محترمہ فردوس نثار ، ڈاکٹر کنول خالد ، فیاض احمد اور پروفیسر ڈاکٹر ساجد راشد احمد موجود تھے۔ عشائیہ تقریب پر الگ کالم لکھوں گا






