#کالم

نئے صوبے اورعوامی خواب اور خواہشات

Untitled 5

جاویدایازخان

نئے صوبوں کے قیام اور نظام کے "ری سیٹ” کرنے کی وزیرداخلہ کی تازہ تقریر نے عوامی سطح پر ایک ہل چل مچا دی ہے۔ایک جانب عام عوام نئے صوبے بننے سے اپنےمسائل کو کم ہونے کی توقعات لگاے بیٹھے ہیں تو دوسری جانب وہ اشرافیہ جو پہلے بھی کسی نہ کسی طرح تمام حکومتوں کا حصہ رہ چکی ہے اب نئے نقشے میں بھی حکمرانی کے خواب دیکھ رہی ہے۔عام آدمی کا ایک سوال ہے کہ نیا صوبہ بننے سے عوام کو ریلیف کیسے ملے گا ؟ اس کی محرومی اور پسماندگی کیسے دور ہوگی ؟روزگار کے مواقع کیسے حاصل ہو ں گے ؟عام آدمی کی زندگی میں آسانی اور اس کی مشکلات میں کمی کیسے آے گے ؟ ہم نے آزادی حاصل کی، جمہوریت اپنائی، انتخابات دیکھے، حکومتیں بنتی اور گرتی دیکھیں، مگر ایک سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہےکہ حکمران کون ؟ کیا عوام جن کے ووٹ سے ایوان آباد ہوتے ہیں یا ان چند خاندانوں اور طبقات کا جو نسل در نسل اقتدار کے دروازوں کی چابیاں ہمیشہ اپنے پاس رکھتے آئے ہیں؟ نئے صوبوں کا مطالبہ اگر صرف ایک نئے نقشے، نئے دارالحکومت اور نئی وزارتوں کا نام ہے تو یہ ادھورا خواب ہے۔ مکمل خواب (نظام کاری سیٹ ) تو یہ ہے کہ اقتدار کے وہ دروازے کھلیں جو عام آدمی کے لیے مدتوں سے بند ہیں، اور ریاست کا اختیار ایوانوں کی بلندیوں سے اتر کر گلی، محلے، قصبے اور گاو¿ں تک پہنچے۔ایک عام اور غریب آدمی کو ریلیف ملے۔ خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ خواب وہ چراغ ہے جو اندھیری رات میں بھی انسان کو راستہ دکھاتا ہے۔ قومیں بھی خواب دیکھتی ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ بڑے خواب ہی بڑے سفر کا آغاز بنتے ہیں۔ ہمارا بھی ایک خواب ہے، ایسا خواب جس میں اقتدار کے ایوانوں کی بلند دیواریں ذرا نیچی ہوجائیں ،حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلے سمٹ جائیں اور اقتدار چند خاندانوں، بااثر طبقات اور مراعات یافتہ اشرافیہ کے ہاتھوں سے نکل کر اس عام آدمی تک بھی پہنچے جس کے ووٹ سے یہ ایوان آباد ہوتے ہیں۔ یہی دراصل کسی نئے صوبے کا خواب بھی ہے۔نئے صوبے کی بحث کو اگر صرف زمین کی تقسیم، نئے دارالحکومت، نئی اسمبلی اور نئی وزارتوں تک محدود کردیا جائے تو شاید ہم اصل سوال سے آنکھیں چرا رہے ہوں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے کے ساتھ چہرہ اور نظام بھی نیا ہوگا؟ اگر صرف نقشہ بدلے، نام بدلے، دفاتر کے بورڈ بدلے اور کرسیاں وہی رہیں تو عام آدمی کی زندگی میں کیا بدلے گا؟ وہی افسر، وہی سفارش، وہی فائل، وہی انتظار، وہی بااثر شخص کا فون اور وہی کمزور شہری کی بے بسی اقتدار کی منتقلی کا مطلب یہ نہیں کہ ایک اشرافیہ کے ہاتھ سے اقتدار لے کر دوسری اشرافیہ کے حوالے کردیا جائے۔ اصل منتقلی تو اس وقت ہوگی جب ایک دیہاتی کسان، ایک مزدور، ایک استاد، ایک دکاندار، ایک طالب علم اور ایک عام شہری محسوس کرے کہ ریاست اس کی بھی ہے اور اس کی آواز بھی ریاست تک پہنچتی ہے۔گویا ایک چھوٹا یونٹ یا صوبہ عوام اور حکومت کے درمیاں فاصلے کم کرنے کا نام ہوتا ہے۔ہم نے جمہوریت کو شاید بہت محدود مفہوم میں سمجھ لیا ہے۔ ووٹ ڈالنا جمہوریت کا آغاز ضرور ہے، اختتام نہیں۔ عوام پانچ سال بعد ووٹ ڈال کر اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں، مگر جمہوریت کا اصل امتحان ان پانچ سالوں کے دوران ہوتا ہے۔ منتخب نمائندہ عوام کے درمیان رہتا ہے یا اقتدار کے حصار میں؟ سرکاری دفتر شہری کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے یا اسے سفارش کی تلاش میں بھیج دیتا ہے؟ وسائل ضرورت کے مطابق تقسیم ہوتے ہیں یا طاقت کے مطابق؟ یہ سوالات نئے صوبے سے کہیں بڑے سوالات ہیں۔بہاولپور کے نئے صوبے کا مطالبہ اسی لیے محض جغرافیائی تقسیم کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ان علاقوں کے عوام کے اس احساس کا اظہار بھی ہے کہ فیصلہ سازی ان کے قریب ہو، وسائل ان کے علاقے میں خرچ ہوں اور ان کے مسائل کو وہ اہمیت ملے جس کے وہ مستحق ہیں۔ لیکن یہاں ایک خطرہ بھی ہے۔ اگر نیا صوبہ بننے کے بعد بھی اختیار چند خاندانوں، چند سیاسی گروہوں اور چند طاقتور حلقوں تک محدود رہا تو عام آدمی کے لیےکچھ زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ اس لیے نئے صوبے کے ساتھ حکمرانی کا ایک نیا تصور یا "ری سیٹ ” بھی ضروری ہوگا۔آج بھی طرز سیاست یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے اور دوران الیکشن ایک دوسرے کی کردار کشی اور پھر بعد میں بھائی بھائی بن کر ایوانوں میں حکومت کے مزے لیے جاتے ہیں۔ہر چیز پر اختلاف ہو سکتا ہے مگر اپنی مراعات اور مفادات پر سب متفق ہیں۔مضبوط بلدیاتی ادارے ہوں۔ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں۔ مقامی نمائندوں کو وسائل ملیں۔ سرکاری ادارے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔ میرٹ سفارش سے بلند ہو۔ قانون طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں ہو۔ ترقیاتی منصوبے سیاسی وابستگی نہیں بلکہ عوامی ضرورت کی بنیاد پر بنیں۔ تب کہیں جاکر اقتدار کی وہ منتقلی ممکن ہوگی جس کا خواب ہم دیکھ رہے ہیں۔ اصل جمہوریت وہ نہیں جس میں عام آدمی صرف ووٹ دینے کے لیے اہم ہو بلکہ اصل جمہوریت وہ ہے جس میں اس کی زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی وہی اہمیت برقرار رہے۔ ہماری تاریخ میں اقتدار ہمیشہ اوپر سے نیچے آتا رہا ہے۔ بادشاہ سے رعایا تک، حکومت سے عوام تک، دارالحکومت سے دور دراز علاقوں تک۔ شاید اب وقت آگیا ہے کہ اقتدار کا سفر الٹا شروع ہو۔ عوام سے ایوان تک اور ایوان سے پھر عوام تک۔ نئے صوبے اسی سفر کا ایک وسیلہ بن سکتے ہیں۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ ہم صوبہ ہی نیا نہ بنائیں بلکہ صاحبِ اقتدار کا مزاج بھی نیا بنائیں۔ عوام کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ رعایا نہیں، ریاست کے اصل مالک ہیں۔ حکمران عوام پر احسان نہیں کرتے، وہ عوام کے دیے ہوئے اختیار کو استعمال کرتے ہیں۔ سرکاری دفتر کسی افسر کی جاگیر نہیں، شہری کی امانت ہے۔ اسمبلی کسی خاندان کی میراث نہیں، عوام کی نمائندگی کا مقدس مقام ہے۔ یہ تصور اگر ہماری سیاسی سوچ کا حصہ بن جائے تو نئے صوبے کا مطالبہ محض انتظامی اصلاح نہیں رہے گا بلکہ ایک بڑی سماجی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ہمیں ایسے صوبے نہیں چاہئیں جہاں صرف نئے سیکرٹریٹ تعمیر ہوں؛ ہمیں ایسے صوبے چاہئیں جہاں عام آدمی کی عزتِ نفس تعمیر ہوں۔ ہمیں ایسی اسمبلیاں نہیں چاہئیں جہاں صرف تقریریں ہوں؛ ہمیں ایسے ایوان چاہئیں جہاں عوام کے مسائل کے فیصلے ہوں۔ ہمیں ایسے حکمران نہیں چاہئیں جو انتخابات کے دن گلے لگائیں اور کامیابی کے بعد ہاتھ نہ آئیں؛ ہمیں ایسے نمائندے چاہئیں جن کے دروازے عوام کے لیے ہر روز کھلے ہوں۔ اقتدار اشرافیہ سے عوام کو منتقل کرنا مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔ اس کے لیے صرف آئینی ترمیم کافی نہیں، سیاسی شعور، مضبوط ادارے، آزاد احتساب، فعال بلدیاتی نظام اور سب سے بڑھ کر عوام کی بیداری ضروری ہے۔ کیونکہ جس دن عوام اپنے ووٹ کی طاقت کو صرف حکومت بنانے کے لیے نہیں بلکہ حکومت کو جواب دہ بنانے کے لیے استعمال کرنا سیکھ گئے، اسی دن اقتدار کی سمت بدلنا شروع ہوجائے گی۔ نئے صوبے کا خواب تب ہی مکمل ہوگا جب نئے صوبے کا عام شہری یہ کہہ سکے یہ صوبہ صرف ہمارے نام پر نہیں، ہمارے لیے ہے۔ یہ اقتدار صرف ہمارے ووٹ سے نہیں، ہماری خدمت کے لیے ہے۔شاید نئے صوبے کی سب سے بڑی معنویت بھی یہی ہے کہ ہم صرف جغرافیہ نہ بدلیں،بلکہ طرزسیاست اور حکمرانی کا مزاج بدلیں۔ اگر نیا صوبہ بھی پرانی اشرافیہ کے ہاتھوں میں ایک نیا اقتدار بن گیا تو عوام کے لیے کچھ نہیں بدلے گا۔ لیکن اگر اختیار نچلی سطح تک پہنچا، ادارے عوام کے سامنے جواب دہ ہوئے، وسائل کی تقسیم منصفانہ ہوئی اور عام شہری سفارش کے بجائے اپنے حق کی بنیاد پر ریاست سے اپنا حصہ مانگنے لگا تو یہ صرف ایک نئے صوبے کی تشکیل نہیں ہوگی، بلکہ پاکستان میں عوامی حکمرانی کی ایک نئی روایت کا آغاز ہوگا۔ آخرکار سوال یہ نہیں کہ نیا صوبہ کب بنے گا؛ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کب صاحبِ اختیار ہوں گے؟ جس دن یہ سوال ہماری سیاست کا مرکز بن گیا، شاید اسی دن اقتدار کا سفر اشرافیہ سے عوام کی طرف شروع ہوجائے گااور پھر نئے صوبے کا خواب صرف نقشے پر نہیں، لوگوں کی زندگیوں میں دکھائی دے گا۔نئے صوبوں کے ساتھ ساتھ سابقہ طرز سیاست اور نظام کی ناکامی کی باعث آج کا نوجوان جو کل آبادی کا ستر فیصد ہے ایک ایسی صاف ستھری قیادت کا خواہشمند ہے جو انکو بہتر مستقبل کی نوید دےسکے اور جس سے وہ بلا دھڑک اپنے دل کی بات کرسکے۔بقول محسن نقوی صاحب یہ نظام کا "ری سیٹ ” عوامی حمایت اور یکجہاتی کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا اس لیے عوام کی راءے اور اعتماد ضروری ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے