نئے صوبوں سے پہلے مضبوط مقامی حکومتیں کیوں ضروری ہیں؟
شاہنواز خان
پاکستان میں ایک مرتبہ پھر نئے صوبوں کے قیام کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں، جبکہ کچھ حلقے اس کے حق میں اور کچھ مخالفت میں دلائل دے رہے ہیں۔ نئے صوبوں کے قیام کی بحث اپنی جگہ اہم ہے، لیکن میرے نزدیک اس سے بھی زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ جب تک پوری قوم کا صوبوں کے قیام پر اتفاق نہیں ہوجاتا ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے جہاں تک برے طرز حکمرانی کی بات ہے اس کا حل آئین پاکستان نے دیا ہے لیکن کوئ ی بھی سیاسی جماعت اس آئینی ذمہ داری کو اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کرنا چاہتیں۔ آئین دفعہ اے آرٹیکل 140صوبائی حکومتوں کو پابند کرتی ہے کہ وہ – ہے کہ وہ قانون مقامی حکومت کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں اور اختیارات منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کریں پاکستان میں گورننس کے بحران کی بہت سی وجوہات ہیں، لیکن ان میں ایک بنیادی وجہ مقامی سطح پر مو¿ثر، بااختیار اور خودمختار حکومتوں کا نہ ہونا ہے۔ جب عام آدمی کو اپنے روزمرہ کے مسائل کے حل کے لیے صوبائی دارالحکومت یا اپنے ایم پی اے اور ایم این اے کی طرف دیکھنا پڑے تو اس کا مطلب ہے کہ اختیارات ابھی تک عوام کی دہلیز تک نہیں پہنچے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔ ان ممالک نے گورننس کو بہتر بنانے کے لیے اختیارات کو مرکز سے صوبے اور صوبے سے مقامی سطح تک منتقل کیا۔ مقامی حکومتیں جمہوریت کی سب سے نچلی نہیں بلکہ سب سے بنیادی سطح ہیں۔ یہی وہ سطح ہے جہاں ریاست اور شہری کا براہِ راست تعلق قائم ہوتا ہے۔اور اسی جگہ سے سیاسی نرسری جنم لیتی ہے۔اج پاکستان کی سیاست نامور لوگ اسی مقامی حکومت سے نکل کر آگے بڑھے ہیں۔آئین پاکستان نے راستہ پہلے ہی دکھا دیاحیرت کی بات یہ ہے کہ۔یعنی آئین کا تصور بالکل واضح ہے: اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے نچلی سطح تک منتقل ہونا چاہیں۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ اگر پاکستان کے ہر ضلع، تحصیل اور یونین کونسل میں ایک ایسا بااختیار مقامی حکومت کا نظام موجود ہو جہاں منتخب نمائندے اپنے علاقے کے مسائل کے فیصلے خود کر سکیں، اپنے وسائل استعمال کر سکیں اور اپنی کارکردگی کے لیے براہِ راست عوام کو جواب دہ ہوں، تو ہماری گورننس میں کس قدر بہتری آ سکتی ہے۔ اگر ضلع کی سطح پر اسکولوں، بنیادی مراکز صحت، سڑکوں، سیوریج، پینے کے پانی، صفائی، پارکس اور دیگر شہری سہولیات کی منصوبہ بندی اور نگرانی کا مو¿ثر نظام موجود ہو تو ہر چھوٹے مسئلے کے لیے لوگوں کو لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ یا اسلام آباد کے دفتروں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔مقامی حکومتوں کا نہ ہونا یا کمزور یا بے اختیار ہونا برے طرز حکمرانی کی وجہ ہے جسکا سامنا پاکستان کر رہا ہے ہمارے موجودہ نظام کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ عام شہری اپنے گلی محلے کے مسائل کے حل کے لیے بھی اپنے ایم پی اے یا ایم این اے سے رجوع کرتا ہے۔ گلی کی سڑک، گٹر، اسٹریٹ لائٹ، پانی، صفائی اور بعض اوقات اسکول یا بنیادی مرکز صحت کے معاملات بھی سیاسی نمائندوں کی ذمہ داری سمجھ لیے جاتے ہیںاس صورت حال نے پارلیمانی نمائندوں اور مقامی حکومتوں کے کردار کو باہم خلط ملط کر دیا ہے۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو قانون سازی، پالیسی سازی اور حکومت کے احتساب پر توجہ دینی چاہیے، جبکہ مقامی مسائل کا حل مقامی حکومتوں کے ذریعے ہونا چاہیے۔
ایک بااختیار بلدیاتی نظام میں شہری اپنے میئر، ضلع ناظم، تحصیل چیئرمین، یونین کونسل اور کونسلرز سے سوال کر سکے کہ
ہمارے علاقے کی صفائی کیوں نہیں ہو رہی
پانی کی فراہمی کا مسئلہ کب حل ہوگا؟
سیوریج کا نظام کیوں خراب ہے؟
پارکوں کی دیکھ بھال کیوں نہیں ہو رہی؟
اسٹریٹ لائٹس کیوں بند ہیں؟
مقامی اسکول اور صحت کی سہولیات کیوں بہتر نہیں ہو رہیں؟
یہی حقیقی جمہوریت اور حقیقی جواب دہی ہے۔
نئے صوبے یا پہلے مضبوط مقامی حکومت؟
نئے صوبے بنانے کے مطالبات کے پیچھے بھی بنیادی طور پر یہی مسئلہ ہے: اختیار اور وسائل کی عوام تک رسائی۔اگر کسی بڑے صوبے کے دور دراز علاقے کے شہری یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان تک حکومت کے وسائل اور اختیارات نہیں پہنچ رہے تو اس کا ایک حل نیا صوبہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن دوسرا اور شاید فوری طور پر زیادہ قابلِ عمل حل اختیارات کو صوبائی دارالحکومت سے نکال کر ضلع، تحصیل اور یونین کونسل تک منتقل کرنا ہے۔اس لیے میرا مو¿قف یہ ہے کہ نئے صوبوں کی بحث کو مقامی حکومتوں کی بحث سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔اگر آج ہم مضبوط، سیاسی، انتظامی اور مالی طور پر بااختیار مقامی حکومتیں قائم کر دیں تو بہت سے وہ مسائل جنہیں حل کرنے کے لیے نئے صوبوں کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، انہیں موجودہ انتظامی ڈھانچے کے اندر بھی بڑی حد تک حل کیا جا سکتا ہے۔یہ سوال بھی ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ تقریباً ہر سیاسی جماعت جمہوریت، عوامی اختیار اور عوامی شمولیت کی بات کرتی ہے، لیکن جب حقیقی معنوں میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کی بات آتی ہے تو پیش رفت سست کیوں ہو جاتی ہےاس کی ایک بڑی وجہ اختیارات اور وسائل پر سیاسی و انتظامی کنٹرول ہے۔مضبوط مقامی حکومت کا مطلب ہے کہ فنڈز، ترقیاتی فیصلے اور انتظامی اختیارات کا ایک بڑا حصہ نچلی سطح پر منتقل ہوگا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ عوام اپنے مقامی نمائندوں سے براہِ راست سوال کریں گے اور مقامی حکومتیں اپنی کارکردگی کے لیے جواب دہ ہوں گی۔لیکن یہی تو جمہوریت کی اصل روح ہے۔اختیار جتنا عوام کے قریب ہوگا، حکمرانی اتنی ہی مو¿ثر اور جواب دہ ہوگیآج جب نئے صوبوں کے قیام پر قومی سطح پر بحث جاری ہے، تو ہمیں اس بحث کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ نئے صوبے بنانا ایک آئینی، سیاسی اور انتظامی معاملہ ہے جس پر قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔ پچس کروڑ کی آبادی چار صوبوں میں نہیں رہ سکتی ہیمِں انتظامی یونٹ بنانے ہونگے لیکن اس کے اتفاق تک ?مظبوط مقامی حکومت کا قیام ناگزیر ہے لہٰذا میری تجویز ہے کہ نئے صوبوں پر اتفاقِ رائے ہونے یا نہ ہونے سے قطع نظر، حکومت پاکستان اور تمام صوبائی حکومتیں فوری طور پر آرٹیکل 140-کی حقیقی روح کے مطابق بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام قائم کریں۔
یہ نظام محض نام کا بلدیاتی نظام نہ ہو، بلکہ:
سیاسی طور پر خودمختار،
انتظامی طور پر بااختیار،
مالی طور پر خودمختار،
منتخب نمائندوں پر مشتمل،
اور عوام کے سامنے جواب دہ ہو۔
صوبائی حکومتیں صرف اختیارات تفویض کرنے کا اعلان نہ کریں بلکہ قانون سازی کے ذریعے اختیارات، وسائل اور ذمہ داریاں واقعی مقامی حکومتوں کو منتقل کریں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوریت صرف ہر پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب شہری روزمرہ زندگی کے فیصلوں میں شریک ہوں اور ان کے منتخب نمائندے ان کے سامنے جواب دہ ہوں۔اگر ایک شہری کو صاف پانی، بہتر صفائی، اچھی سڑک، فعال سیوریج، مناسب صحت کی سہولت، معیاری اسکول اور محفوظ پارک میسر نہیں تو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ملک میں جمہوریت موجود ہےجمہوریت کی اصل کامیابی عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری ہےاس لیے نئے صوبوں کی بحث ضرور ہونی چاہیے، لیکن اس سے پہلے ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے:کیا ہم موجودہ صوبوں کے اندر ہی اختیار کو عوام کی دہلیز تک پہنچا سکتے ہیںمیرا جواب ہے: بالکل پہنچا سکتے ہیں۔اور اس کا پہلا قدم ہے:مرکز سے صوبے، صوبے سے ضلع، ضلع سے تحصیل، اور تحصیل سے یونین کونسل تک اختیار کی منتقلی ہی حقیقی معنوں میں عوامی حکمرانی کی بنیاد بن سکتی ہے۔اگر مقامی حکومتیں مضبوط ہوں گی تو گورننس مضبوط ہوگی، اگر گورننس مضبوط ہوگی تو ریاست پر عوام کا اعتماد بڑھے گا، اور جب عوام کا اعتماد بڑھے گا تو پاکستان کا جمہوری نظام بھی مضبوط ہوگا۔لہٰذا نئے صوبوں کی بحث اپنی جگہ، مگر پاکستان کی فوری ضرورت ایک بااختیار، خودمختار اور مو¿ثر مقامی حکومت کا نظام ہے۔






