#کالم

تیس ارب کے عظیم منصوبہ لاہور میٹروبس کا مستقبل

mirza rizwan

مرزا رضوان

لاہور جو پاکستان کا دل اور ثقافتی و معاشی سرگرمیوں کا ایک انتہائی اہم مرکز ہے، کی سڑکوں پر روزانہ لاکھوں افراد کو ان کی منزلِ مقصود تک بحفاظت اور بروقت پہنچانے والی میٹرو بس آج خود ایک ایسی گہری کھائی کے کنارے کھڑی ہے جہاں سے اس کا مستقبل انتہائی تاریک اور مخدوش دکھائی دے رہا ہے۔ گجومتہ سے شاہدرہ تک پھیلے 27 کلومیٹر کے اس طویل، گنجان اور مصروف ترین کوریڈور پر روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں محنت کشوں، طالب علموں اور دفتر جانے والے عوام کے لیے 11 اگست 2026 کی تاریخ کوئی عام دن نہیں، بلکہ ایک انتہائی تشویشناک اور ہولناک خبر لے کر آ رہی ہے۔ سستی، معیاری اور تیز ترین سفری سہولت کا یہ عظیم منصوبہ، جس کی بنیادوں میں اس ملک کے غریب عوام کے ٹیکسوں کا اربوں روپیہ خرچ ہوا، اب مکمل طور پر بیوروکریسی کی روایتی سستی اور نجی کمپنی کی مفاد پرستانہ رسہ کشی کی بھینٹ چڑھتا نظر آ رہا ہے۔اگر ہم صرف شاہدرہ ٹاو¿ن اور اس کے گردونواح کے ٹریفک اور میونسپل انفراسٹرکچر کے مسائل پر نظر ڈالیں، تو میٹرو بس کی بندش کسی بڑے مقامی المیے سے کم نہیں ہوگی۔ شاہدرہ کا علاقہ، جو لاہور کا ایک اہم ترین داخلی راستہ ہے، پہلے ہی ٹریفک کے شدید دباو¿، سڑکوں کی تعمیر میں تاخیر اور پیچیدہ مسائل کا شکار رہتا ہے۔ راوی پل اور شاہدرہ چوک پر روزانہ لگنے والے گھنٹوں طویل ٹریفک جام سے بچنے کے لیے لاکھوں شہری میٹرو بس کو ایک نعمت سمجھتے ہیں۔ اگر 11 اگست سے یہ پہیے رک گئے، تو شاہدرہ سے شہر کے دیگر حصوں تک کا سفر ایک اذیت ناک خواب بن جائے گا۔ سڑکوں پر پرائیویٹ گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کا ایسا سیلاب امڈ آئے گا جسے سنبھالنا موجودہ ٹریفک مینجمنٹ کے بس کی بات نہیں رہے گی۔ میونسپل گورننس کے اس پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے کہ ایک ماس ٹرانزٹ نظام کے بیٹھ جانے سے پورے شہر کا ٹریفک کا نظام کیسے مفلوج ہو جاتا ہے۔میٹرو بس کا موجودہ آپریشن چلانے والی نجی کمپنی، ویڈا (VEDA)، نے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں یہ اعلانیہ دھمکی دے دی ہے کہ وہ 11 اگست سے اپنے تمام آپریشنز غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دے گی۔ کمپنی کی جانب سے پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (پی ایم اے) کو مسلسل لکھے گئے خطوط اور حالیہ ہنگامی اجلاسوں میں بار بار یہ دہائی دی گئی ہے کہ ان کے مالی وسائل اب مکمل طور پر خشک ہو چکے ہیں۔ اگر ہم ملکی معیشت کے تناظر میں دیکھیں تو میکرو اکنامک حالات، ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ڈھانچے میں ہونے والے ہوشربا اضافے اور قومی و صوبائی بجٹ کے اثرات نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو ویسے ہی بری طرح متاثر کیا ہے۔ کمپنی کا موقف ہے کہ ایندھن خریدنے کے لیے درکار سرمایہ ختم ہو چکا ہے اور وہ مزید اپنے بل بوتے پر بسیں سڑکوں پر لانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔دوسری جانب، ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے حکام اپنا روایتی بیوروکریٹک انداز اپنائے ہوئے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ وہ حکومت کی واضح اور تحریری ہدایات کے بغیر کوئی بھی مالی یا انتظامی فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ یہ ایک کلاسک مثال ہے جہاں ادارے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اجلاس اس یقین دہانی پر ختم ہوا تھا کہ اتھارٹی کوئی درمیانی راستہ یا حل تجویز کرے گی، مگر ہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے کہ آج تک پی ایم اے کی جانب سے ویڈا کو کوئی متبادل انتظام نہیں بتایا گیا۔ اگر عدالتی احکامات کی روشنی میں انہیں فوری طور پر اپنے ذرائع سے مسلسل ایندھن کی فراہمی شروع نہ کی گئی، تو یہ آپریشن کسی صورت جاری نہیں رہ سکے گا اور اس تمام تر بحران کی صد فیصد ذمہ داری پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی پر عائد ہوگی، جبکہ ویڈا اس میں خود کو مکمل طور پر بے قصور گردانتی ہے۔یہ بحران کوئی ایسا حادثہ نہیں جو اچانک راتوں رات آسمان سے نازل ہو گیا ہو۔ اس طوفان کے آثار بہت پہلے سے نمایاں تھے۔ محض دو ہفتے قبل ہی ملک کے سینئر صحافی انور حسین سمرائ نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں اس سنگین صورتحال کی نشاندہی کر دی تھی۔ ان کی خبر کے مطابق، میٹرو بسوں کے بار بار اور مسلسل خراب ہونے کی وجہ سے مسافروں کو پہلے ہی سفری سہولیات میں شدید مشکلات اور دشواریوں کا سامنا تھا۔ سڑکوں کے بیچوں بیچ بسوں کا خراب ہو جانا ایک معمول بن چکا تھا، لیکن حیرت انگیز طور پر محکمہ ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے اس کھلی نااہلی پر مکمل طور پر آنکھیں بند کیے رکھیں۔تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت نے 2021 میں ایک نجی کمپنی کے ساتھ 64 نئی بسیں 8 سال تک چلانے کا ایک باقاعدہ معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت کمپنی اس بات کی سختی سے پابند تھی کہ وہ شہریوں کو بہترین اور بلا تعطل سروس ڈلیوری فراہم کرے گی، جبکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی، تاخیر یا خرابی کی صورت میں بھاری جرمانے عائد کرنے کی سخت شرط بھی اس معاہدے کا حصہ تھی۔ لیکن اب زمینی حقائق یہ تلخ کہانی سنا رہے ہیں کہ جس کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا گیا تھا، وہ بسیں چلانے میں بری طرح ناکام ثابت ہو رہی ہے، اور اس پر مستزاد یہ کہ حکومتی ادارے جرمانے عائد کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔اس تمام تر ادارہ جاتی نااہلی اور کھینچا تانی میں سب سے زیادہ نقصان اس عام اور غریب آدمی کا ہو رہا ہے جو صبح سویرے اپنے روزگار کی تلاش، دفاتر اور تعلیمی اداروں کا رخ کرتا ہے۔ ناقص اور غیر معیاری انتظامات کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اسٹیشنز پر بس کی آمد کا دورانیہ جو اپنے عروج کے دور میں بمشکل 2 سے 3 منٹ ہوا کرتا تھا، اب بڑھ کر 6 سے 8 منٹ تک پہنچ چکا ہے۔ مسافروں کو شدید گرمی اور حبس میں طویل انتظار کرنا پڑتا ہے، ان کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے اور سفر جو کبھی آرام دہ تصور کیا جاتا تھا، اب ایک اذیت ناک اور تھکا دینے والا تجربہ بنتا جا رہا ہے۔ اسٹیشنز پر مسافروں کا ہجوم اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ نظام کس حد تک درہم برہم ہو چکا ہے۔اب اس سارے گھمبیر معاملے میں صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف ویڈا کمپنی ایندھن کی کمی کا جواز بنا کر آپریشن مکمل طور پر بند کرنے جا رہی ہے، تو دوسری جانب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے کمپنی کے خلاف عدالت جانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ اس قانونی، مالی اور ادارہ جاتی جنگ میں ریاست اور عوام کا سب سے اہم اور چبھتا ہوا سوال یہ ہے کہ 2012 میں لاہور کے شہریوں کو آرام دہ، معیاری اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنے کے نام پر لگائے گئے پورے 30 ارب روپے کی خطیر رقم آخر کس کھاتے میں جائے گی؟ کیا غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بنائے گئے اس میگا پراجیکٹ کو یونہی زنگ لگنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا عدالتی چارہ جوئی سے وہ وقت اور سہولت واپس آ جائے گی جو عوام سے چھین لی گئی ہے؟یہ مسئلہ اب محض ایک نجی کمپنی اور ایک سرکاری اتھارٹی کا باہمی تنازعہ نہیں رہا، بلکہ یہ ان لاکھوں شہریوں کے بنیادی شہری حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے جو ایک سستی سفری سہولت سے محروم ہونے کے سنگین خدشے سے دوچار ہیں۔ یہ وقت زبانی جمع خرچ اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نہیں ہے۔ حکومتِ وقت اور اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ اپنی مجرمانہ خاموشی کو توڑیں، فوری طور پر اس معاملے میں اعلیٰ سطحی مداخلت کریں اور اس الجھی ہوئی گتھی کو سلجھائیں۔ نہ صرف 11 اگست اور اس کے بعد میٹرو بسوں کا بلا تعطل آپریشن ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے، بلکہ خراب اور خستہ حال بسوں کی فوری مرمت کر کے عوام کو روٹ پر دوبارہ وہی معیاری سہولیات فراہم کی جائیں جس کا ان سے روزِ اول وعدہ کیا گیا تھا۔ عوام کو اداروں کی نااہلی، افسر شاہی کی سستی اور کمپنیوں کی بلیک میلنگ کی سزا دینا کسی طور بھی منصفانہ اور جمہوری اقدام نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر فنڈز اور ایندھن کا بندوبست کرے تاکہ غریب کی سواری چلتی رہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے