#کالم

ہمارے ملک کو محبت اور اتفاق چاہیے ؟

Untitled 5 1

تحریر ؛۔ جاوید ایازخان

ہمارے اباجی مرحوم اکثر سونے سے پہلے رات کو ہم بہن بھائیوں کو کہانیاں سنایا کرتے تھے ایک مرتبہ انہوں یہ کہانی سنائی جو اکثر یاد آتی ہے کہ ایک بوڑھی عورت نے اپنے گھر کے باہر تین اجنبی بزرگوں کو بیٹھے دیکھا ، عورت کہنے لگی میں آپ لوگوں کو جانتی نہیں لیکن لگتا ہے کہ آپ لوگ بھوکے ہیں چلیں اندر چلیں میں آپ لوگوں کو کھانا دیتی ہوں ان بزرگوں نے پوچھا : کیا گھر کا مالک موجود ہے ؟ عورت کہنے لگی : نہیں ، وہ گھر پر موجود نہیں انہوں نے جواب دیا : پھر تو ہم اندر نہیں جائیں گے رات کو جب اس کا خاوند گھر آیا تو عورت نے اسے سارے معاملے کی خبر دی وہ کہنے لگا : انہیں اندر لے کر آو¿ وہ عورت ا±ن کے پاس آئی اور اندر چلنے کو کہا انہوں نے جواب دیا : ہم تینوں ایک ساتھ اندر نہیں جاسکتے تو عورت نے پوچھا وہ کیوں ؟ ایک نے یہ کہتے ہوئے وضاحت کی اس کا نام ”مال” ہے اور اپنے ایک ساتھی کی طرف اشارہ کیا ، اور اس کا نام ” کامیابی ” ہے اور دوسرے ساتھی کی طرف اشارہ کیا ،اوراس کا نام محبت ہے، اور یہ کہتے ہوئے بات مکمل کی کہ جاو¿ اپنے خاوند کے پاس جاو¿ اور مشورہ کر لو کہ ہم میں سے کون اندر آئے ؟ عورت نے آکر خاوند کو سارا ماجرا سنایا ،وہ خوشی سے چلا اٹھا اور کہنے لگا : اگر یہی معاملہ ہے تو ”مال ” کو اندر بلا لیتے ہیں گھر میں مال و دولت کی ریل پیل ہو جائے گی عورت نے خاوند سے اختلاف کرتے ہوئے کہا : کیوں نہ ”کامیابی” کو دعوت دیں ؟ میاں بیوی کی یہ باتیں ا±ن کی بہو گھر کے ایک کونے میں بیٹھی سن رہی تھی،ا±س نے جلدی سے اپنی رائے دی کیوں نہ ہم ”محبت” کو بلا لیں اور ہمارا گھرانہ پیار و محبت کا گہوارہ بن جاے گا خاوند کہنے لگا : بہو کی بات مان لیتے ہیں ،جاو¿ اور ”محبت” کو اندر لے آو عورت باہر آئی اور بولی :آپ میں سے ”محبت ”کون ہے وہ ہمیں مہمان نوازی کا شرف بخشے گھر والوں کا مطلوبہ شخص اٹھا اور اندر جانے لگا تو اس کے دونوں ساتھی بھی کھڑے ہو گئے اور اس کے پیچھے چلنے لگے، عورت حیران و پریشان ا±ن کا منہ دیکھنے لگی عورت نے ” مال ” اور ”کامیابی” سے کہا ؛ میں نے تو صرف ”محبت” کو دعوت دی ہے آپ دونوں کیوں ساتھ جارہے ہیں ؟ دونوں نے جواب دیا :اگر تم نے ” مال ” یا ” کامیابی ” میں سے کسی کو بلایا ہوتا تو باقی دونوں باہر رہتے لیکن تم نے کیونکہ ” محبت ” کو بلایا ہے تو وہ بولے یہ محبت جہاں ہوگی وہاں مال اور کامیابی بھی ساتھ جائیں گے جہاں یہ محبت ہو ہم اس کے ساتھ ہوتے ہیں پھر کہانی سنا کر ہمارے اباجی ہم بچوں کو نصیحت کرتے تھے کہ اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت اور اخوت کا جذبہ پیدا کرو اپنے عزیزوں کے لیے اپنے دلوں میں محبت پیدا کرو گے تو تمہیں مال اور کامیابی مفت میں مل جاے گی اور آپ ایک کامیاب انسان اور اچھی شخصیت کے مالک بن جائیں گے انسانی زندگی میں کامیابی اور دولت کا راز محبت میں پوشیدہ ہے ۔محبت کے چراغ روشن کریں اسی چراغ کی لو سے روشنی پھوٹتی ہے جس کے گرد لوگ اندھیرے میں بھی اکھٹے ہو جاتے ہیں۔محبت ایک مسحور کن خوشبو ہے جو لوگوں اپنی جانب کھنچ لیتی ہے محبت صرف مال اور کامیابی ہی ساتھ نہیں لاتی یہ اپنے ساتھ اخوت ،اتحاد اور یکجہتی بھی لے آتی ہے۔ محبت کی آج تک کوئی جامع تعریف تو نہیں ہوسکی جو ہر طبقہ فکر کے لوگوں قابل قبول ہو لیکن میرے نزدیک محبت ایک بے لوث جذبے اور کیفیت کا نام بھی ہے اور ایک خاص قسم کا احساس بھی ہے جو کسی جاندار یا بے جان کے لیے دل کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہےاللہ اور اسکے رسول سے محبت شرط اول ہے ، پھر اپنے مذہب اور وطن سے محبت،اپنے والدین اہل خانہ اور خاندان اور رشتہ داروں سے محبت ، کسی خاص فرد سے محبت ،قدرتی مناظر ،پھولوں سے محبت ،جانوروں اور پرندوں سے محبت ہماری دنیاوی اور ا?خروی زندگی میں کامیابی لاتی ہے۔ہمارا دین ہمارے نبی پاک کے ذریعے چند ہی سالوں میں تلوار سے نہیں محبت اور کردار سے پھیلا ہے۔محبت دل جیتنے کا ہنر خوب جانتی ہے۔جس طرح نیکی اور اچھائی کے لیے برائی اور گناہ کا خاتمہ ضروری ہے اسی طرح محبت کی آبیاری کے لیے نفرتوں اور کدورتوں کو دلوں سے نکالنا پڑتا ہے۔کیونکہ برائی اچھائی کی اور نفرت محبت کی ضد ہے۔باہمی محبت کا جذبہ ہی ہمارے اتفاق واتحاد کی علامت ہے اسی لیے محبت کو انسانیت کی معراج کہا جاتا ہے۔پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی پولیٹکل پولرائیز یشن اب عدم برداشت کی صورت ہمارے گھروں اور نجی تعلقات کو متاثر کرنے لگی ہے سیاسی تفریق اب دلوں میں تفریق لانے لگی ہے آپس میں گفتگو کا معیار اسقدر گر چکا ہے کہ باہمی احترام اور محبت نام کی کوئی چیزباقی نہیں رہی ہم سب آپس میں بلا وجہ دست وگریباں ہیں جب کہ یہ وقت آپس میں پیار اور محبت کو پروان چڑھانے اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر مل بیٹھنے کا ہے تاکہ اپنے ملک میں ایک اچھے معاشرے اور مہذب ماحول کو تشکیل دے سکیں۔ آج ہمارے معاشرے اور ملک میں جتنی افراتفری اور خرابیاں نظر آتی ہیں ان کی وجہ محبت کا فقدان ہے ہم انفرادی واجتماعی طور پر بے شمار بحرانوں سے نبردآزما ہیں ہم معاشی استحکام کے خواہش مند ہیں !ہم سیاسی یکجہتی چاہتے ہیں ! ہم امن کے متلاشی ہیں ! ہم کرپشن سے نجات چاہتے ہیں ! ہم انصاف کے خواہشمند ہیں ! دوسری جانب پوری قوم اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوتی چلی جارہی ہے ! ہر جانب افراتفری نظر آتی ہے۔غربت ومہنگائی کی ماری پریشان قوم مایوسی کی دلدل میں پھنستی جارہی ہے سود ،ملاوٹ ،رشوت ،لالچ ،اقرباء پروری ،ذخیرہ اندوزی ،منافع خوری ،ناپ تول میں کمی ،ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔اپنی اپنی جھوٹی اناوں کے خول میں بند ،غیر ملکی قرضوں تلے دبے ، منافقت ،جھوٹ ،لڑائی جھگڑا ، فساد ،عدم برداشت ،ضد ، غصہ اور چھوٹے چھوٹ ذاتی مفادات نے ہمیں ایک ایسی بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے جہاں سے باہر آ نے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ آج سے اٹھتر سال قبل یہ ملک اور وطن صرف اپنے دین ،مذہب ،ثقافت ، کی محبت میں حاصل کیا گیا تھا اس پاک وطن کی محبت میں لاکھوں مسلمان مرد ،خواتین اور بچوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے تاریخ میں وطن کی محبت میں اتنی بڑی قربانی کی بہت کم مثال ملتی ہے۔ آج یہ ساتویں ایٹمی طاقت ہے اوراس کا قدرتی وسائل سے مالا مال جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے اہم ترین مما لک میں شمار ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے درمیان اتنی نفرتیں اور کدورتیں بڑھ چکی ہیں کہ ہمارے پاس سب کچھ ہے سواے آپس میں محبت اور خیر سگالی کے جذبے کے جبکہ یہ جذبہ ہی ہماری کامیابی اور معاشی استحکام کی واحد ضمانت ہے کیونکہ محبت ہی اپنے ساتھ کامیابی اور دولت ساتھ لاتی ہے۔ تاریخ کے آئینہ میں وقت کا مورخ سب دیکھ رہا ہے ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو نفرتوں کے کانٹوں بھرے راستوں سے نکال کر محبت کی پھولوں بھری پگڈنڈیوں پر لے کر چلنا ہے۔جس کے لیے ہمیں سب کو مل جل کر کوشش اور جدوجہد کرنی پڑے گی اوریہ ذمہ داری انفرادی اور اجتماعی طور پر عام عوام کے ساتھ ساتھ حکومت ،مذہبی جماعتوں ،سیاسی اداروں ،میڈیا اور سب سماجی ودینی اداروں کی ہے کہ ہم ہر سطح پر محبت اور اتفاق کے شعور کی افادیت کو اجاگر کریں اپنے اپنے طرز عمل میں تبدیلی لاکر محبت کے لازوال جذبے کو فروغ دیں۔حکیم لقمان نے کہا ؛۔میں نے تین سو سال سے مختلف دواوں سے لوگوں کا علاج کیا مگر اس طویل تجربے کے بعد میں نے سیکھا کہ انسان کے لیے سب سے بہترین دوا محبت اور عزت ہے تو کسی نے پوچھا :۔ اگر یہ اثر نہ کرے تو ؟ وہ مسکراے اور بولے :۔اس دوا کی مقدار اور بڑھا دو۔

ہمارے ملک کو محبت اور اتفاق چاہیے ؟

08/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے