#کالم

"درویش لمحے” اردو شاعری میں جمالیاتی اور فکری تموج کا زینہ :

Untitled 17 1

فیصل زمان چشتی

ان ہواو¿ں سے وفاو¿ں کی مہک آتی ہے
یہ مدینہ ہے اسے شام نہ سمجھا جائے
کامران ناشط کے شعری مجموعے”درویش لمحے” کو پڑھ کر ممتاز شاعر و نقاد ڈاکٹر فرحت عباس شاہ کی ادراکی تنقیدی تھیوری پر ایمان مزید پختہ ہو جاتا ہے کہ شعر میں شاعر کا کردار اور اس کی شخصیت کا پر نظر آتا ہے۔ ایک خوبصورت شخصیت ہی خوبصورت اشعار کی تخلیق کر سکتی ہے۔ شاعری صرف جذبات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی احساسات، معاشرتی رویّوں، روحانی کیفیتوں اور زندگی کے مختلف تجربات کی عکاس بھی ہے۔ منفرد شعری مجموعہ "درویش لمحے” بھی اردو ادب کی اسی خوبصورت روایت کا تسلسل محسوس ہوتا ہے۔ اس میں شامل اشعار محبت، تنہائی، وفا، جدائی، امید، یاد، خواب اور انسانی نفسیات کے مختلف پہلوو¿ں کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہیں۔ کامران ناشط نے اپنے احساسات کو جس سادگی، خلوص اور فنی مہارت کے ساتھ لفظوں میں ڈھالا ہے، وہ اسکی فنی و فکری ریاضت منہ بولتا ثبوت ہے۔
گھر سے ہر روز چلوں اور ارادے لے کر
زندگی اور ہی کاموں میں لگا دیتی ہے
اس سے پہلے کہ مرے پاو¿ں کی زنجیر بنے
دنیا داروں کی طرف میں ںے اچھالی دنیا
یہ شعری مجموعہ محض چند اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی جذبات کا ایک ایسا سفر ہے جس میں قاری کبھی محبت کی روشنی محسوس کرتا ہے، کبھی جدائی کی اداسی، کبھی یادوں کی نرمی اور کبھی دل کی بےچینی۔ کامران ناشط کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے پیچیدہ فلسفے کے بجائے سادہ مگر پ±رتاثیر اندازِ بیان اختیار کیا ہے۔
زندگی بھر وصل کی حسرت لیے بیٹھے رہے
خواب میری آنکھ میں ، تعبیر اس کی آنکھ میں
اے مری آنکھ کے ملبے سے نکلتی خواہش
تجھ کو باہر تو سکونت نہیں ملنے والی
شاعری بنیادی طور پر احساسات کی زبان ہے۔ انسان جو کچھ دل میں محسوس کرتا ہے، اسے الفاظ میں ڈھالنے کا سب سے خوبصورت ذریعہ شاعری ہے۔ درویش لمحے میں بھی کامران ناشط نے انسانی جذبات کی گہرائی کو نہایت عمدگی سے بیان کیا ہے۔ محبت اس کتاب کا مرکزی موضوع محسوس ہوتی ہے، مگر یہ محبت محض ظاہری یا رومانوی نہیں بلکہ روحانی اور قلبی کیفیتوں سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
شاعر کہیں محبوب کی یاد کو زندگی کی سب سے قیمتی شے قرار دیتا ہے تو کہیں جدائی کے لمحوں کو دل کی ویرانی سے تشبیہ دیتا ہے۔ بعض اشعار میں انتظار کی کیفیت اتنی شدت سے بیان ہوئی ہے کہ قاری خود کو اس درد کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی شاعری کی اصل طاقت ہے کہ وہ قاری کو صرف الفاظ نہیں دیتی بلکہ احساسات بھی منتقل کرتی ہے۔
ہجر کے صحرا میں جاناں وصل کی بوندیں کہاں
ہم نے دوزخ کاٹنی ہے جنتیں سنتے ہوئے
پوری نہ ہو سکیں میرے دل کی ضرورتیں
دن رات غم کا رزق کمانے کے بعد بھی
تصویر کب بنائی یے ہم نے تو بس یونہی
دیکھے تھے سات رنگ ہوا میں اچھال کے
دل وہ کباڑیہ ہے جو عہد جدید میں
بیٹھا ہے اک تھڑے پہ محبت سنبھال کے
محبت کے ساتھ ساتھ اس کتاب میں تنہائی کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ کامران ناشط نے تنہائی کو محض اداسی کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے انسان کے اندرونی سفر سے جوڑا ہے۔ بعض اوقات انسان ہجوم میں رہ کر بھی تنہائی محسوس کرتا ہے، اور یہی کیفیت انہوں نے نہایت خوبصورتی سے بیان کی ہے۔ یہ اشعار جدید دور کے انسان کی نفسیاتی حالت کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ظاہری آسائشوں کے باوجود دل کے اندر ایک خلا محسوس ہوتا ہے
عرصہ ہوا کہ خود سے کوئی گفتگو نہیں
میری طرح بھی کوئی نہ تنہا دکھائی دے
کسی بھی ادبی تخلیق کی کامیابی میں زبان بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ اس شعری مجموعے کی سب سے نمایاں خوبی اس کی سادہ مگر دلنشین زبان ہے۔ شاعر نے مشکل الفاظ اور غیر ضروری تصنع سے گریز کیا ہے۔ یہی سادگی اشعار کو زیادہ مو¿ثر اور عام فہم بناتی ہے۔اردو شاعری میں بعض اوقات پیچیدہ استعارے اور علامتیں قاری کے لیے تفہیم م میں دشواری پیدا کر دیتی ہیں، مگر اس کتاب میں ایسا انداز ہے جو دل کے قریب محسوس ہوتا ہے۔ الفاظ میں روانی ہے، جملوں میں نرمی ہے اور اشعار میں ایک خاص قسم کی موسیقیت پائی جاتی ہے۔ یہی موسیقیت شاعری کو دلکش بناتی ہے۔
دکھ ہی اچھے تھے میسر تھا میں خود کو ناشط
سکھ میں اتنی بھی سہولت نہیں ملنے والی
گزارنی تھی عارضی امان میں گزار دی
یہ زندگی کرائے کے مکان میں گزار دی
تو یوں ہوا کہ زندگی خراج مانگنے لگی
تو یوں ہوا کہ زندگی لگان میں گزار دی
کئی اشعار مختصر اور چھوٹی بحر میں ہونے کے باوجود گہری معنویت رکھتے ہیں۔ شاعر کم الفاظ میں زیادہ بات کہنے کا ہنر جانتا ہے۔ یہی خصوصیت اچھی شاعری کی پہچان ہوتی ہے
جس ڈولی میں غم دلہن ہو
وہ باراتیں دل میں رکھنا
منزلیں تو اس قدر گمنام تھیں
راستوں کو موڑ کر ملنا پڑا
آئینے میں عکس تھے بکھرے ہوئے
کرچیوں کو جوڑ کر ملنا پڑا
اس شعری مجموعے میں محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ زندگی کی ایک مکمل کیفیت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ شاعر نے محبت کو کبھی خوشی، کبھی درد، کبھی امید اور کبھی عبادت کے رنگ میں پیش کیا ہے۔
کئی اشعار میں محبوب کی تعریف نہایت نفاست کے ساتھ کی گئی ہے۔ شاعر محبوب کے چہرے، مسکراہٹ، آواز اور یاد کو ایسے انداز میں بیان کرتا ہے کہ قاری کے ذہن میں خوبصورت تصویریں بننے لگتی ہیں۔ تاہم شاعر کی محبت محض ظاہری حسن تک محدود نہیں بلکہ وہ جذباتی وابستگی اور روحانی تعلق کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔
دونوں کے حق میں کی ہے ہمیشہ یہی دعا
جیسا میں چاہتا ہوں وہ ویسا دکھائی دے
سایہ پڑے نہ حسن پہ گرد_ملال کا
چہرہ کبھی نہ عشقِ کا اترا دکھائی دے
جدائی کے موضوع پر بھی کامران ناشط نے بڑی مہارت سے قلم اٹھایا ہے۔ ہجر کی کیفیت اردو شاعری کا ایک اہم موضوع رہی ہے، اور اس کتاب میں بھی اس کی جھلک نمایاں ہے۔ شاعر جدائی کو صرف دکھ کے طور پر نہیں بلکہ محبت کی سچائی کے امتحان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ بعض اشعار میں جدائی کی اداسی اتنی حقیقی محسوس ہوتی ہے کہ قاری کے دل میں ایک خاموش درد جاگ اٹھتا ہےاس شعری مجموعے کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں جدید دور کے مسائل اور انسانی نفسیات کی جھلک بھی موجود ہے۔ آج کا انسان بظاہر ترقی یافتہ دنیا میں رہتا ہے، مگر اس کے دل میں بےچینی، اضطراب اور تنہائی بڑھتی جا رہی ہے۔ شاعر نے ان احساسات کو نہایت باریک بینی سے محسوس کیا ہے۔کئی اشعار میں یہ احساس ملتا ہے کہ شاعر صرف ذاتی جذبات بیان نہیں کر رہا بلکہ پورے معاشرے کی کیفیت کو لفظوں میں ڈھال رہا ہے۔ انسانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے، رشتوں میں مصنوعیت، محبت میں بےوفائی اور زندگی کی بےمعنویت جیسے موضوعات بھی اشعار میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔یہی شعور اس شعری مجموعے کو محض رومانوی شاعری سے بلند کر کے ایک فکری و ادبی تخلیق بنا دیتا ہے۔ شاعر زندگی کے دکھوں کو صرف بیان نہیں کرتا بلکہ قاری کو امید اور حوصلہ بھی دیتا ہے۔ یہی مثبت پہلو اس مجموعے کی ایک بڑی خوبی ہے۔
ناشط کسے خبر ہے کہ کل سے پڑوس میں
بچوں کے منہ میں کوئی نوالا نہ جا سکا
خوش لباسی کے عذابوں سے سروکار نہیں
ہم تو پیوند لگانے میں لگے رہتے ہیں
زمیں کو بیچ دیتے ہیں زمن کو بیچ دیتے ہیں
جنہیں دستار ملتی ہے وطن کو بیچ دیتے ہیں
سفر کے آبلے سارے سفر کا ناز ہوتے ہیں
مگر کچھ ناسمجھ ان کی چبھن کو بیچ دیتے ہیں
ماں سے محبت ایک فطری اور لازوال جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر موجود ہوتا ہے اور جب ایک شاعر اس کو بیان کرتا یے تو رنگ ہی بدل جاتا ہے اور پھر کامران ناشط جیسا شاعر اشعار میں بیان کرے تو کمال کر دیتا ہے۔ نرم و گداز احساسات کو دل کی پاکیزگی سے معطر کرکے جو کلام سماعتوں کو منور کرے اور کہیں دور یادوں کی دنیا میں ایسے انمٹ نقوش چھوڑے جو حرزِ جاں ہوں تو ایسے باکمال اشعار ہی سننے کو ملیں گے۔
دعا کے بعد بیٹھا ہوں میں ماں کی قبر پر تنہا
مری ماں نے مجھے جیسے ابھی لوری سنائی ہو
اس جہاں سے بھی مرے سر پہ ہے سایہ اس کا
ماں مجھے قبر میں سوئی بھی دعا دیتی ہے
کامران ناشط ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں۔ محمد اور آل محمد سے ان کی مودت و محبت غیر متزلزل اور غیر مشروط ہے۔ رسول پاک سے عشق و محبت ان کو وراثت میں ملی ہے پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ نعت و سلام میں ان کے جذبات و احساسات سننے والے اور پڑھنے والے کے ایمان کو تازہ اور دل کو منور و تاباں نہ کریں۔ جب بھی ان سے نعت و منقبت و سلام سنا دل سرشار ہو گیا اور دل عشق و جذب کی کیفیات میں ڈوب گیا۔ یہ کہتے ہیں کہ
ماں سے سوتے جاگتے بس نعت کی لوری سنی
سو کسی بھی حال میں اپنا اثاثہ نعت یے
ان کی نسبت سے مری تعظیم بھی تکریم بھی
کیوں نہ پھر ناشط کہوں میرا حوالہ نعت یے
رکھے ہوئے ہوں دل کو بھی نیزے کی نوک پر
کرتا ہوں پیش عجز سے اشکوں بھرا سلام
فنی اعتبار سے بھی یہ شعری مجموعہ قابلِ رشک ہے۔ شاعر نے تشبیہات، استعاروں اور علامتوں کا نہایت خوبصورت استعمال کیا ہے۔ کئی اشعار میں قدرتی مناظر کو انسانی جذبات کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا گیا ہے، جس سے شاعری میں تصویریت پیدا ہوتی ہے۔مثلاً چاند، رات، بارش، ہوا، پھول اور خاموشی جیسے عناصر بار بار سامنے آتے ہیں، مگر ہر بار نئے مفہوم کے ساتھ۔ یہی تخلیقی صلاحیت شاعر کی فنی پختگی کو ظاہر کرتی ہے۔ اچھی شاعری وہی ہوتی ہے جو قاری کے دل و دماغ پر اثرات چھوڑے۔ یہ شعری مجموعہ بھی قاری کو جذباتی اور فکری دونوں سطحوں پر متاثر کرتا ہے۔ اشعار پڑھتے ہوئے کبھی دل نرم پڑ جاتا ہے، کبھی آنکھیں نم محسوس ہوتی ہیں اور کبھی زندگی کے بارے میں نئی سوچ پیدا ہوتی ہے۔یہ شعری مجموعہ ان لوگوں کے لیے خاص طور پر اہم محسوس ہوتا ہے جو محبت، احساسات اور زندگی کی گہرائیوں کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ کامران ناشط نے انسانی دل کی کیفیتوں کو اس خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ ہر قاری خود کو کسی نہ کسی شعر میں ضرور تلاش کر لیتا ہے۔ اردو شاعری کی تاریخ میں ہمیشہ ایسے شعرا کو اہم مقام ملا ہے جنہوں نے سادگی اور خلوص کے ساتھ دل کی بات کہی۔ کامران ناشط کا انداز بھی اسی روایت سے جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ جدید دور میں شاعری کے انداز بدل رہے ہیں، مگر دل سے نکلے ہوئے الفاظ آج بھی قاری کے دل تک پہنچ جاتے ہیں۔یہ شعری مجموعہ اردو ادب کی اس روایت کو زندہ رکھتا ہے جس میں محبت، احساس، انسانیت اور جمالیات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ کامران ناشط نے قدیم موضوعات کو جدید احساس کے ساتھ پیش کیا ہے، جو اس کی تخلیقی صلاحیت کی علامت ہے۔مجموعی طور پر یہ شعری مجموعہ ایک خوبصورت ادبی کاوش ہے۔ اس میں محبت کی نرمی بھی ہے، جدائی کا درد بھی، زندگی کی حقیقت بھی اور امید کی روشنی بھی۔ شاعر نے سادہ مگر مو¿ثر زبان کے ذریعے قاری کے دل تک پہنچنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔یہ کتاب صرف شاعری کے شائقین کے لیے نہیں بلکہ ہر ا±س شخص کے لیے اہم ہے جو انسانی جذبات کو سمجھنا چاہتا ہے۔ اشعار میں خلوص، فنی مہارت اور فکری گہرائی موجود ہے، جو اسے ایک معیاری ادبی تخلیق بناتی ہے۔ درویش لمحے اردو ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ اس کے اشعار قاری کے دل میں دیر تک زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بار بار پڑھنے کی خواہش بھی پیدا کرتے ہیں۔ کامران ناشط نے اپنے احساسات کو جس صداقت اور خوبصورتی کے ساتھ بیان کیا ہے، وہ یقیناً قابلِ ستائش ہے۔ یہ مجموعہ اردو شاعری کے چاہنے والوں کے لیے ایک یادگار تحفہ بھی ہے اور اردو شعرو ادب میں ایک گرانقدر اضافہ بھی۔

"درویش لمحے” اردو شاعری میں جمالیاتی اور فکری تموج کا زینہ :

08/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے