#کالم

بھیرہ،تاریخ و تمدن از ڈاکٹر انوار احمد بگوی

shaid bukhari

شاہد بخاری

ڈاکٹر بگوی صاحب جیسی نابغہئ روزگار شخصیت کے نام اور کام سے ایک زمانہ واقف ھے۔ ان کا شمار ان لوگوں میں ھوتا ھے جن کی مذھبی،ادبی،طبی و فلاحی خدمات کو کبھی فراموش نھیں کیا جا سکتا۔بطور ایڈیشنل سیکریٹری و ایڈوائزر محکمہ صحت پنجاب ریٹائرمنٹ کے بعد چیف ایگزیکٹیو منصورہ ھاسپٹل و پرنسپل منصورہ انسٹی ٹیوٹ رہ چکے ھیں اور بانی صدر شعبہ طب شرق قرشی یونیورسٹی لاہور بھی۔اتنی مصروفیات کے باوجود آپ کثیر التصانیف ھیں۔ عہد حاضر میں”بھیرہ تاریخ و تمدن”ڈاکٹر بگوی کا نمایاں ترین شاھکار ھے جسے پایہئ تکمیل تک پہنچانے میں انھوں نے ایک طویل مدت صرف کی اور تاریخی سمندر کو288 صفحات کے کوزے میں محفوظ کر دیا۔ زیر نظر تاریخ بھیرہ قلمبند کرتے وقت تمام مآخذ ڈاکٹر صاحب کے پیش نظر رھے اور انھوں نے قابل رسائی کتب کے مطا لعے و دیدہ ریزی کے بعد بھیرے کی سیکڑوں سالوں پر محیط تاریخ کا تجزیہ اس انداز میں پیش کیا ھے کہ تحقیق کے تقاضے مجروح نہ ھوں اور حقائق و واقعات کا تسلسل بھی بر قرار رھے۔کتاب کے آخیر میں حوالہ جات درج ھیں۔محققین چاھیں تو ان سے بخوبی استفادہ کر سکتے ہیں۔ اس کتاب کی زبان سادہ وعام فہم ھے۔ھر” حصے” کی مختصر مگر جامع صورت گری قارئین کی طبع رواں پر گراں نھیں گزرے گی۔ بھیرہ ان چند شہروں میں شمار ھوتاھے،جن کا سرا زمانہ قبل از تاریخ سے جا ملتا ھے۔یہ شہر ھزاروں سال سے آباد رھا،اجڑتا اور بستا رھا ھے،جس کے۔۔ع۔۔۔کھنڈر بتا رھے ھیں، کہ شہر عظیم ھے بھیرہ کے گردا گرد سر کلر روڈ اور شہر کے 8 دروازے ھیں،شنید ھے کہ جب شیر شاہ سوری کو شہر میں داخل ھونے کا رستہ نہ مل سکا تھا تو انھوں نے کہا تھا،ایں بیراہ است۔۔۔جو رفتہ رفتہ بھیرہسے بدل گیا۔لیکن ڈاکٹر صاحب جیسے محقق،سنی سنائی پر یقین نھیں رکھتےانھوں نے لکھا ھے کہ سنسکرت کے لفظ بھیرہ کی "بھے” کا مطلب ھےخوف۔ اور "ہرا”بمعنی محفوظ۔۔یعنی ایسی بستی جو خوف و ھراس سے محفوظ ھو۔ لیکن ایسا اس لئیے ممکن نہ رہ سکا کہ دریائے جہلم کے آر پار بھیرہ شمال سے آنے والے حملہ آوروں کے ھندوستان میں داخل ھونے کا راستہ رھا ھے اور ھر دور طوائف الملوکی میں نشانہ جورو ستم رھا ھے۔ دنیا میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں ان میں جر نیلوں کا ذکر تو ھوتا ھے لیکن ان ھزاروں سپاھیوں کا ذکر نھیں ھوتا جو قلیل تنخواہ کے عیوض حقیقی جنگ لڑتے ھیں،اسی لیئے زندہ قومیں گمنام سپاھیوں کی یاد گاریں قائم کرتی ھیں۔انھیں سے ملتا جلتا کام ڈاکٹر صاحب نے 438 اھم شخصیات اور قابل ذکر افراد کی خدمات اختصار سے لکھ کر،کر دیا ھے،ان معزز و مکرم ھستیوں کی آل اولاد کو یہ نسخہئ ھائے وفا ڈاکٹر صاحب سے فورآ لے لینا چاہیے03004754769 بھیروی ایک مخصوص معاشرتی اور تہذیبی مزاج کا نام ھے اور اس کی جیتی جاگتی علامت ھے جو پر دوں میں جا چھپتی ھے لیکن فنا ھو تی نھیں۔اس کی وجہ یہ ھے کہ تغیر اور انقلاب کے ھر دور میں چند ھستیاں ایسی بھی ھوتی ھیں جو اسے مٹنے سے بچایے رکھتی ھیں۔بھیرے کی ایسی ھی ایک ھستی بشیر بھیروی سے دفترPU لاہور میں 1973ئ میں اچانک ملا اور بغیر کسی واقفیت اور لالچ کے انھوں نے امتحان کی شرکت میں ھر طرح میری پر خلوص مدد کی جس کی بدولت امتحان سال 72ئ M.Aکی ڈگری ملی۔: سات نسلوں کا تعارف تھا، وہ لہجہ شاھد!بولے جب آدمی تو نام ونسب کھلتا ھے تاریخ نہ دیو مالائی قصے کہانیوں کا نام ہے نہ قدیم راجاو¿ں مہا راجاو¿ں اور باد شاھوں کے تذکروں اور جنگی معرکوں کا،بلکہ تاریخ آ ج کے دور میں ایک سائینس ھے،جس کا تعلق براہ راست کسی قوم کی تہذیبی،تمدنی،لسانی معا شی،مذھبی و سیاسی نشیب و فراز سے ھے،جس کی تفصیل ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب میں فراھم کردی ھے۔تمام علوم وفنون،مختلف ادوار کی تہذیب و ثقافت کی جھلکیاں بھی اس کتاب میں موجود ھیں۔ ڈاکٹر بگوی کی کءبرس کی عرق ریزی و تحقیق کے بعد”بھیرہ،تاریخ و فن”منظر عام پر آئی ھے،جو قابل فخر پیشکش ھے،جس میں انھوں نے علاقے کی اصل رھائش پذیر اقوام پر تحقیق کر کے صدیوں پہلے کے واقعات کو اجاگر کیا ھے۔اس کتاب میں بھیرے کی قدیم اقوام ،ان کے رسوم ورواج ،شعروادب، صحافت و ثقافت و دیگر معلومات خوش اسلوبی سے قلم بند کر دی گئی ھیں، جنھیں بنظر غائر دیکھا جائے تو بہت سی وہ باتیں سامنے آ تی ھیں جو ڈسٹرکٹ گزیٹئرز میں نھیں ملتیں۔ حالاں کہ1857 کی جنگ آزادی میں اھل بھیرہ نے کو ئی کردار ادا نھیں کیا،پھر بھی انگریزوں کے وفاداروں نے اسے پسماندہ رکھا۔اس کی تنزلی کی 15 وجوھات اس کتاب میں درج کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے صفحہ 82 پر "انگریزی اقتدار کا مقصد”جو لکھا ھے،وہ ھم سب کے لیئے چشم کشا ھے:۔۔۔عوام کو کنٹرول کرنے،ان سے محصولات ،لگان وغیرہ وصولنے اور ان کی سیاسی وفاداریاں خریدنے کے لیے انگریز نے اپنے مقاصد کے پروگرام شروع کیئے تھے۔جہاں عوام کو فائیدہ اور ان کی ترقی ملحوظ رکھنی تھی وھاں اس نے مکمل چشم پوشی کی۔۔۔تاکہ وہ علم و ھنر سے بے بہرہ اور مستقبل سے لا تعلق رھے۔عام آدمی کو کچہری سے انصاف کے بہانے تاخیر،تھانے سے بے عزتی،اور ڈسپنسری سے چند گولیاں ملتی رھیں اور عوام ضرور۔۔۔۔توں کے لئیے انگریز کے ٹوڈ یوں کے آگے ھاتھ پھیلاتے رھیں۔۔۔حقیقت یہ ھے کہ انگریز کے ھر ترقیاتی کام میں صرف انگلستان کا مفاد تھا۔۔۔اس نے دو سو سال میں بہت سی دولت انڈیا سے سمیٹی۔ ھما رے جوا نوں کا خون چند روپوں میں خرید کر،یورپ۔۔۔۔افریقہ،ایشیا میں بیچا اور ھماری قومی عزت نفس کو کچلا۔(اب اس کے وفا دار اس ملک کو لوٹ کر غیر ملکی معیشت کا بنے ھیں سہارا۔۔۔اور ھم بنے ھوئے ھیں IMF کا چارا) زیر نظر کتاب کو بھیرے کا انسائیکلوپیڈیا اگر کہا جائے تو بے جا نہ ھو گا۔اس کے صفحات 203تا232 میں بھیرے کی اھم شخصیات اور قابل ذکر افراد کا ذکر جن میں دل چسپ بات یہ ھے کہ ھن مظالم سے تنگ آکربھیرے کی ایک بہادر خاتون پدما نے مالوہ کے راجہ کے ساتھ مل کر توریان کے بیٹے مہر گل پر حملہ کر کے اسے کشمیر بھاگنے پر مجبور کر دیا۔تاریخ میں غالباً انڈیا کی یہ پہلی حکمران خاتون تھی۔ممتاز ھیروئین نیلو کی ولادت بھیرے میں ھوئی تھی۔ملک فیروز خان نون گورنمنٹ ھائی سکول بھیرہ کے اولڈ سٹوڈنٹ تھے جو پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم بنے اور ان کے دور میں ان کی بیگم کی کوششوں سے گوادر،شاہ اومان سے خریدا گیا۔Lt.کرنل زاھد ممتاز بھی بھیرے کے ھیں ان کے اور صاحب زادہ ابرار احمد بگوی کے نام اس کتاب کا انتساب ھے۔اول الذکر نے ماضی کے کھنڈرات میں سے بھیرہ باز یاب کیا اور موخر الذکر بھیرہ کے پہلے منی میوزیم کے بانی اور بھیروی ثقافت کے نقیب ھیں۔ یہ معلوماتی گراں قدر کتاب 3حصوں پر مشتمل ہے۔بھیرہ قدیم،بھیرہ جدید اور موجودہ بھیرہ۔اس میں خطے کی تاریخ کے علاوہ لوگوں کی بودو باش،رسم و رواج،مقامی سوغاتیں،پھل،سبزیاں،پودے،چرند،پر ند، قدیم آثار،شاندار عمارات،۔۔۔تعلیمی ادارے،المختصر ۔۔۔بھیرہ کی مکمل جانکاری کی معلومات،درج ھیں۔اچھی بات اس میں یہ ھے کہ کتاب نہ صرف غیر سیاسی،بلکہ غیر گروھی ھے بلکہ بلا تعصب کے لکھی گئی ھے،اس لئے ھر لائیبریری میں یہ گراں قدر کتاب موجود ھونی چاہیے تا کہ زیادہ سے زیادہ طالبان علم اس سے مستفید و مستفیض ھو سکیں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے