#کالم

قیام پاکستان میں مشائخ عظام کا کردار

mirza rizwan

مرزا رضوان

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں تحریکِ پاکستان ایک ایسا انقلابی باب ہے جس میں قربیوں، جفاکشیوں اور استقامت کے انمٹ نقوش ثبت ہیں۔ اس تحریک کو منزل تک پہنچانے میں جہاں سیاسی رہنماو¿ں، طلبہ، وکلا اور عوام نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا، وہیں خانوادگانِ مشائخ عظام اور صوفیائے کرام کے سجادہ نشینوں نے جو گراں قدر خدمات سرانجام دیں، وہ اس تحریک کا روشن ترین باب ہیں۔ قیامِ پاکستان صرف ایک جغرافیائی حدود کی تبدیلی کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ نظریہ پاکستان کی جیت تھی جس کی اساس کلمہ طیبہ پر رکھی گئی تھی۔ اس نظریاتی اساس کی حفاظت اور اسے عملی جامہ پہنانے میں خانقاہوں اور درگاہوں نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔جب برصغیر کے مسلمان ایک ایسے دوراہے پر کھڑے تھے جہاں ان کی دینی، تہذیبی اور ثقافتی شناخت کو مٹانے کی سازشیں کی جا رہی تھیں، تب صوفیائے کرام کی مسندوں پر بیٹھنے والے ان مخلص رہنماو¿ں نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ اور ایک الگ خطہ زمین کا حصول وقت کی سب سے بڑی دینی ضرورت ہے۔ یہ وہ بزرگ تھے جن کے آبا و اجداد نے برصغیر میں اسلام کی شمع جلائی تھی اور محبت، رواداری اور امن کا پیغام عام کیا تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ انگریز سامراج اور متعصب اکثریتی جماعت کے گٹھ جوڑ سے مسلمانوں کا دینی و معاشرتی وجود خطرے میں پڑ چکا ہے، تو انہوں نے اپنی خانقاہوں کے دروازے عامتہ الناس کے لیے کھول دیے اور تحریکِ پاکستان کو ایک عوامی تحریک میں بدل دیا۔تحریکِ پاکستان کی کامیابی کا ایک بڑا راز قائدِ اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ اور صوفیائے کرام کے مابین قائم ہونے والا وہ پختہ فکری رشتہ تھا جس نے عوام میں ایک نئی روح پھونک دی۔ قائدِ اعظم نے بخوبی محسوس کیا کہ برصغیر کے مسلمان دل سے صوفیائے کرام اور مشائخ عظام کی عظمت کے معترف ہیں اور ان کی بات کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں،جب قائدِ اعظم نے مسلمانوں کو منظم کرنے کے لیے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم کو وسعت دی، تو پنجاب، سندھ، سرحد (خیبر پختونخوا) اور بلوچستان کے نامور مشائخ آگے بڑھے۔ انہوں نے نہ صرف مسلم لیگ کی بھرپور تائید کی بلکہ برصغیر کے کونے کونے میں جا کر نظریہ? پاکستان کا پرچار کیا۔ سجادہ نشینوں نے اپنے مریدین اور عقیدت مندوں کو واضح پیغام دیا کہ اس وقت قائدِ اعظم کا ساتھ دینا دراصل دینِ متین کی خدمت اور تحفظِ اسلام کے مترادف ہے۔تحریکِ پاکستان کے دوران کئی ایسے اہم موڑ آئے جہاں مشائخ عظام نے اپنی سیاسی بصیرت اور روحانی اثر و رسوخ سے تحریک کو نئی زندگی بخشی۔ مثال کے طور پر، لکھنو¿، دہلی اور لاہور کے تاریخی اجتماعات میں مشائخ عظام نے قراردادِ پاکستان کی بھرپور حمایت کی۔ صوبہ سرحد کے ریفرنڈم کے دوران، جہاں کانگریس کا اثر و رسوخ توڑنا ایک بڑا چیلنج تھا، وہاں پیر صاحب مانکی شریف اور دیگر جید مشائخ نے گھر گھر جا کر مہم چلائی۔ ان کی دینی اور روحانی خدمات کے نتیجے میں صوبہ سرحد کے عوام نے کثرت سے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا، جس نے مسلم لیگ کے مو¿قف کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔اسی طرح سندھ اور پنجاب کے درجنوں خانوادوں جیسے سجادہ نشین آستانہ عالیہ علی پور سیداں شریف، گولڑہ شریف، تونسہ شریف، مانکی شریف اور دیگر صوفی مراکز کے مشائخ نے اپنی تمام توانائیاں مسلم لیگ کے لیے وقف کر دیں۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو باور کرایا کہ ایک آزاد اسلامی ریاست کا قیام کیوں ضروری ہے۔آج جب ہم وطن عزیز پاکستان کا یومِ آزادی مناتے ہیں، تو یہ امر انتہائی ناگزیر ہے کہ ہم ان تمام مشائخ عظام کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کریں جنہوں نے اپنی راحتوں کو قربان کر کے ہمیں یہ آزاد فضا عطا کی۔ یہ ان بزرگوں کی خلوصِ نیت اور دعاو¿ں کا ثمر تھا کہ تمام تر مخالفتوں اور سازشوں کے باوجود پاکستان کا خواب شرمندہ? تعبیر ہوا۔ انہوں نے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک ایسے ملک کی بنیاد رکھی جہاں مسلمان آزادانہ طور پر اپنے دینی اور ملی شعائر کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔آج پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذ پر جن پیچیدہ چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا تقاضا ہے کہ ہم ایک بار پھر اتحاد، یگانگت اور رواداری کی اسی روح کو بیدار کریں جو تحریکِ پاکستان کی اساس تھی۔ بدقسمتی سے، آج معاشرے میں انتہا پسندی، لسانی و صوبائی تعصبات اور عدم برداشت کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، جو ملکی سلامتی کے لیے ایک لمحہ? فکریہ ہیں۔ان حالات سے نکلنے کا واحد راستہ وہی ہے جو ہمارے اسلاف اور مشائخ عظام نے ہمیں دکھایا تھا،”وحدتِ ملی کا فروغ”مشائخ نے ہمیشہ کلمہ? طیبہ کی بنیاد پر مسلمانوں کو جوڑنے کا درس دیا، نہ کہ انہیں فرقوں یا گروہوں میں بانٹنے کا۔ آج ہمیں بھی ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی سلامتی کو مقدم رکھنا ہوگا۔”امن، محبت اور رواداری” صوفیائے کرام کا اصل ہتھیار محبت، اخوت اور انسانیت کی خدمت تھا۔ ہمیں اپنے رویوں میں اسی حسنِ سلوک کو اپنانا ہوگا تاکہ معاشرتی ہم آہنگی قائم ہو سکے۔”مملکت کی استحکام سے وابستگی”جس طرح مشائخ نے قیامِ پاکستان کے وقت قائداعظم کا دست و بازو بن کر کام کیا، اسی طرح آج کے دور میں ہر محب وطن پاکستانی کو ملکی اداروں اور سالمیت کے تحفظ کے لیے یکجا ہونا ہوگا۔مختصر یہ کہ قیامِ پاکستان میں مشائخ عظام کا کردار تاریخ کا وہ باب ہے جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ ان کی محنت، اخلاص اور قربانیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم ایک آزاد وطن کی نعمت سے بہرہ مند ہیں۔ یومِ آزادی کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم تجدیدِ عہد کریں کہ اس وطنِ عزیز کی ترقی، دفاع اور استحکام کے لیے ہم کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمارے پیارے وطن پاکستان کو تا قیامت سلامت رکھے، امن و آشتی کا گہوارہ بنائے، اور ہمیں ہمارے اسلاف کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے