نئے صوبے اور بہاولپور کی تاریخی حیثیت
جاویدایازخان
ہمارے موجود وزیر داخلہ کی جانب سے نئے صوبوں کی تجویذ کے بعد پورے ملک اور خصوصی بہاولپور کے عوام میں ایک شور سامچ گیا ہے گو یہاں کے سیاستدان اس بارے میں ابھی تک بظاہر خاموش اور محتاط دکھائی دیتے ہیں لیکن یہاں اس کی عوامی پذیرائی اس لیے بھی زیادہ دیکھنے میں آرہی ہے کہ یہاں کے لوگ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد سے ہی اپنے سابقہ صوبے کی بحالی کی خواہش اور مطالبہ رکھتے ہیں۔اسی لیے بحالی صوبہ کے لیے ستر کی دھائی میں ایک "متحدہ محاذ "بنایا گیا اس الیکشن میں متحدہ محاذ کے نامزد سیاستدان بھاری اکثریت سے ایوانوں میں بھی پہنچے بلکہ اسی فورم سے شہزادہ سعید الرشید عباسی مرحوم پاکستا ن بھر میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والے نمائندہ قرار پائے ۔بہاولپور میں بحالی صوبہ بہاولپور کی کئی تنظیمیں ہمیشہ سے متحرک رہی ہیں اور یہاں کے سیاستدانوں نے ہمیشہ اور ہر انتخابات میں بحالی صوبہ کا وعدہ بھی کسی نہ کسی فورم سے ضرور کیا ہے۔ہماری ملکی سیاست کے کئی بڑے بڑے نام بھی اس بحالی کی تحریک کی قیادت کرچکے ہیں۔اسی لیے بہاولپور کے عوام کی اکثریت نئے صوبوں کے قیام کی حامی دکھائی دیتی ہے۔جن کا مطالبہ ہے کہ صوبہ بہاولپور صرف ایک انتظامی حکم سے ہی بحال ہو سکتا ہے۔ ن لیگ کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں پہلے ہی اس پر قرار داد لائی جاچکی ہے۔جنوبی پنجاب کے نام سے بہاولپور اور ملتان میں سیکٹریٹ کا قیام بھی عمل میں آچکا ہے۔یاد رہے کہ دنیا بھر میں کامیاب ریاستوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہاں انتظامی اکائیاں اس انداز سے تشکیل دی جاتی ہیں کہ حکومت عوام کے زیادہ قریب ہو۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، شہروں کا پھیلاو¿، وسائل پر بڑھتا ہوا دباو¿ اور ترقی کے غیر مساوی مواقع اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ انتظامی ڈھانچے کو بھی وقت کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دیا جائے۔ پاکستان بھی آج اسی دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں نئے صوبوں کا قیام صرف ایک سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ بہتر حکمرانی کی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ جب کوئی ایک صوبہ آبادی، رقبے اور انتظامی بوجھ کے اعتبار سے حد سے زیادہ بڑا ہو جائے تو دور دراز علاقوں کے مسائل اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ عوام کو انصاف، تعلیم، صحت، روزگار اور ترقیاتی منصوبوں تک رسائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ایسے حالات میں چھوٹے اور مو¿ثر انتظامی یونٹ عوامی مسائل کے حل کو زیادہ آسان بنا سکتے ہیں۔ نئے صوبوں کا مقصد کسی علاقے کو تقسیم کرنا یا نفرت پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی ضروریات کے مطابق ترقی کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔ اگر ہر خطے کو اپنی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی اور وسائل میسر ہوں تو پورا ملک زیادہ متوازن انداز میں ترقی کر سکتا ہے۔ البتہ نئے صوبوں کا قیام صرف نقشے پر نئی سرحدیں کھینچنے کا نام نہیں۔ اس کے لیے آئینی اتفاقِ رائے، شفاف قانون سازی، مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور قومی یکجہتی کو مقدم رکھنا ضروری ہے۔ اگر یہ عمل سیاسی مفادات کے بجائے قومی ضرورت کے تحت کیا جائے تو یہ پاکستان کے انتظامی نظام کو مضبوط، عوام کو بااختیار اور ریاست کو زیادہ مو¿ثر بنا سکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاں ایک جانب نئے صوبوں کے معاملے کو جذبات، لسانی تعصب یا سیاسی نعروں کی عینک سے نہیں بلکہ گڈ گورننس، عوامی فلاح اور قومی مفاد کے تناظر میں دیکھا جائے وہیں دوسری جانب بہاولپور کی طویل اور تاریخی خواہشات اور اس کی سابقہ صوبائی حیثیت کو بھی مدنظر رکھا جاے?۔ مضبوط پاکستان وہی ہوگا جہاں ریاست عوام کے زیادہ قریب، فیصلے زیادہ مو¿ثر اور ترقی کے مواقع ہر خطے کے لیے یکساں ہوں پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث جب بھی اٹھتی ہے تو بہاولپور کا نام محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ بہاولپور ان چند ریاستوں میں شامل تھا جنہوں نے قیامِ پاکستان کے موقع پر نہ صرف نئے وطن کا ساتھ دیا بلکہ اپنی خودمختار ریاست کی حیثیت سے پاکستان سے الحاق کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہاولپور کی سابقہ صوبائی حیثیت آج بھی عوامی اور سیاسی حلقوں میں ایک اہم موضوع ہے۔ ریاستِ بہاولپور برصغیر کی ممتاز اور خوشحال ریاستوں میں شمار ہوتی تھی۔ اس کا اپنا نظمِ حکومت، عدالتی نظام، پولیس، محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، مالیاتی ڈھانچہ اور انتظامی ادارے موجود تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی بہاولپور ایک عرصے تک الگ انتظامی اکائی کے طور پر برقرار رہا اور اسے صوبائی حیثیت حاصل رہی جس کے اس وقت وزیراعلیٰ مخدوم سید حسن محمود مرحوم ہوا کرتے تھے۔بعدازاں 1955ء میں "ون یونٹ” کے نفاذ کے تحت مغربی پاکستان کے تمام صوبوں اور ریاستوں کو ملا کر ایک ہی انتظامی اکائی بنا دیا گیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں بہاولپور کی الگ شناخت اور صوبائی حیثیت بھی ختم ہوگئی۔ جب 1970ء میں ون یونٹ توڑ دیا گیا اور سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان اپنی سابقہ حیثیت میں بحال ہوئے تو بہاولپور کو دوبارہ صوبہ نہیں بنایا گیا بلکہ اسے پنجاب کا حصہ برقرار رکھا گیا۔ یہی وہ تاریخی موڑ ہے جس کے بعد سے صوبہ بہاولپور کی بحالی کا مطالبہ مختلف ادوار میں سامنے آتا رہا ہے۔ بہاولپور کے حامیوں کا مو¿قف ہے کہ چونکہ یہ ایک تاریخی صوبہ اور سابقہ خودمختار ریاست رہا ہے، اس لیے اس کی بحالی کسی نئے تجربے کے بجائے ایک تاریخی اور انتظامی حقیقت کی واپسی ہوگی۔ ان کے مطابق اس سے جنوبی پنجاب کے عوام کو بہتر انتظامی سہولیات، مقامی وسائل پر مو¿ثر منصوبہ بندی اور ترقی کے زیادہ مواقع میسر آئیں گے۔ دوسری جانب بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نئے صوبوں کا قیام صرف تاریخی بنیادوں پر نہیں بلکہ موجودہ آبادی، وسائل، انتظامی صلاحیت، قومی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ اس لیے اس معاملے پر جذبات کے بجائے دلیل اور قومی مفاد کی بنیاد پر فیصلہ ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث کسی ایک شہر یا علاقے تک محدود نہیں۔ یہ بہتر طرزِ حکمرانی، اختیارات کی منصفانہ تقسیم اور عوام تک ریاست کی رسائی کا سوال ہے۔ اگر نئے صوبے قومی یکجہتی، عوامی سہولت اور انتظامی بہتری کے لیے قائم کیے جائیں تو وہ ملک کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔یاد رہے کہ بہاولپور اور یہاں کے نواب امیر آف بہاولپور نواب صادق محمد خان عباسی پنجم کی پاکستان کے لیے ناقابل فراموش خدمات ہماری تاریخ کا سنہری باب اور حصہ ہیں۔ بہاولپور کی تاریخ ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ شناختیں مٹائی نہیں جاتیں بلکہ انہیں انصاف، آئین اور عوامی خواہشات کے مطابق مقام دیا جاتا ہے۔ نئے صوبے بنانا وقت کی ضرورت ہے اور اب فیصلہ یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو ماضی کی تلخیوں کے بجائے مستقبل کی ضروریات کے مطابق کس طرح استوار کیا جائے تاکہ بہاولپور سمیت ہر خطہ خود کو قومی ترقی کا برابر کا شریک محسوس کرے۔






