عالمگیر سفارت کاری، داخلی بحران اور ترجیحات کا امتحان
احسان ناز
پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے انتہائی حساس اور نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف بین الاقوامی سفارتی محاذ پر غیر معمولی تحرک دیکھنے میں آ رہا ہے تو دوسری طرف ملک کے اندر عوام مہنگائی، سیاسی عدم استحکام اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث شدید بحران کا شکار ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ ترین سیول و عسکری قیادت کا دورہ? سعودی عرب اور وہاں خطے کے دیگر اہم مسلم رہنماو¿ں کا اجتماع عالمی اور علاقائی سیاست میں پاکستان کے کردار کو نمایاں تو کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ہماری قیادت داخلی مسائل اور معاشی تباہ حالی پر قابو پانے کے لیے اتنی ہی سنجیدہ ہے جتنی کہ بین الاقوامی سفارت کاری میں؟سعودی عرب کا حالیہ دورہ کئی لحاظ سے تاریخی اور اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید محمد عاصم منیر، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار سمیت وفاقی وزرا اور دفاعی اداروں کے اعلیٰ حکام کا ایک انتہائی اہم اور بااختیار وفد سعودی عرب پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل اپنے الگ الگ خصوصی طیاروں پر پہنچے جہاں سعودی حکام نے ان کا انتہائی پرتباک اور پرشکوہ استقبال کیا۔ یہ دورہ صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہا بلکہ سعودی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان بھی سعودی عرب میں موجود تھے، اور مصر کے علاوہ دیگر اہم اسلامی ممالک کے حکمرانوں کا بھی وہاں اجتماع ہوا۔اس عالمی اور علاقائی سیاسی دھڑے بندی کے تناظر میں یہ قیاس آرائیاں بالکل فطری ہیں کہ اسلامی دنیا کے بااثر ترین رہنماو¿ں کا ایک ہی جگہ جمع ہونا محض اتفاق نہیں ہے۔ اس اجتماع کا بنیادی مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی شدید کشیدگی اور جنگی خدشات کو دور کرنا تھا۔ کچھ سخت شرائط اور کامیاب سفارتی کاوشوں کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان صورت حال کا تھمنا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ اس موقع پر تمام مسلم ملکوں کے سربراہان نے علاقائی امن کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں $70 فی بیرل کے قریب آنا بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ بین الاقوامی کشیدگی میں کمی سے معاشی استحکام کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔اس دورے کے دوران ایک ایمان افروز اور منفرد منظر بھی دیکھنے کو ملا جب نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے باقاعدہ خود جماعت کی امامت کرائی اور پاکستان کی بقا، سلامتی، معاشی خوشحالی اور امت مسلمہ کی اتحاد کے لیے خصوصی دعائیں کروائیں۔ یہ روحانی منظر اپنی جگہ، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض دعاو¿ں اور بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت سے پاکستان کے عام شہری کا وہ چولہا جل سکتا ہے جو مہنگائی کے جن نے بجھا دیا ہے؟جہاں ایک طرف ہماری قیادت غیر ملکی سر زمین پر ثالثی اور سفارت کاری کے جھنڈے گاڑ رہی ہے، وہاں دوسری طرف 25 کروڑ کی آبادی کا حامل پاکستان اندرونی طور پر شدید معاشی گراوٹ اور عوامی اشتعال کی لپیٹ میں ہے۔ ملک میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، گیس اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں اس وقت آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ مہنگائی کا جن حکمرانوں کے قابو سے مکمل طور پر باہر نکل چکا ہے اور غریب و متوسط طبقہ بھوک اور افلاس سے مرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔جماعت اسلامی پاکستان نے ملک گیر سطح پر مہنگائی، پیٹرول و ڈیزل کے ظالمانہ نرخوں اور عوام کے معاشی استحصال کے خلاف احتجاج کا علم بلند کر رکھا ہے۔ پورے پاکستان میں عوام سڑکوں پر نکل رہے ہیں، مگر حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ایسے حالات میں جب عام شہری کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بن چکا ہو، حکومت پنجاب کا طرز عمل عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے 11 ارب روپے کا گران قدر اور لگڑری جہاز خریدنے کی خبروں نے ملک بھر میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب صوبہ اور ملک شدید مالی بحران کا شکار ہے، عوام سے قربانی مانگی جا رہی ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ کڑی شرائط پر معاہداں کی دہائی دی جا رہی ہے، 11 ارب روپے کا جہاز خریدنا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ حکمرانوں کے لیے اپنے شاہانہ اخراجات اور آسائشیں پہلی ترجیح ہیں، عوامی حقوق کی جنگ لڑنے کے دعوے محض لفاظی اور سیاسی ڈرامے کے سوا کچھ نہیں۔مزد ستم ظریفی یہ کہ جب صوبائی اسمبلی میں اس غیر معمولی خرچ پر سوالات اٹھائے گئے تو پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے دردمندی یا جواب دہی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انتہائی جارحانہ اور دھڑلے والے انداز میں اس فیصلے کا دفاع کیا۔ اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہو کر ان کے طرزِ گفتگو سے یوں محسوس ہوا جیسے عوام کو یہ پیغام دیا جا رہا ہو کہ "ہم نے جہاز خرید لیا ہے، تم جو کر سکتے ہو کر لو!” یہ غیر جمہوریت پسندانہ اور متکبرانہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکمران طبقہ عام عوام کے احساسات اور تکالیف سے کس قدر کٹ چکا ہے۔اندرونی بحران صرف معاشی نااہلی تک محدود نہیں ہے بلکہ سیاسی و انتظامی ابتری کی داستانیں بھی ہر سمت بکھری ہوئی ہیں۔ آزاد کشمیر کی بات کی جائے تو وہاں انتخابات سے پہلے ہونے والے ہنگامے، سیاسی بدنظمی اور پرتشدد واقعات ابھی تک جوں کے توں موجود ہیں۔ آزاد کشمیر میں مسلسل غیر یقینی اور کشیدگی کی صورت حال برقرار ہے، لیکن وفاقی قیادت کے پاس ان اندرونی و علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی یا وقت نظر نہیں آتا۔پاکستان کے عوام حیرت اور افسوس کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی قیادت اپنے گھر کو سنبھالنے، معیشت کو پٹری پر لانے اور عوام کو بھوک اور ناانصافی سے نجات دلانے کے بجائے دوسرے ممالک کے درمیان ثالثی کروانے اور غیر ملکی دوروں میں مصروف ہے۔ بے شک بین الاقوامی تعلقات اور علاقائی امن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر اپنا ملک اندر سے معاشی اور سیاسی طور پر تباہ حال ہو تو دنیا کے سامنے کسی بھی ملک کا موقف کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اس کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہی اقوام دنیا میں اپنا لوہا منواتی ہیں جو داخلی طور پر مضبوط اور خودکفیل ہوتی ہیں۔ ہماری قیادت کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ 25 کروڑ عوام کا صبر اب جواب دے رہا ہے۔ اگر مہنگائی کے اس طوفان کو نہ روکا گیا، حکمرانوں نے اپنے شاہانہ اخراجات اور لگڑری خواہشات پر بند نہ باندھا، اور داخلی مسائل بالخصوص کشمیر و دیگر علاقوں کے سیاسی بحرانوں کو سنجیدگی سے حل نہ کیا، تو بین الاقوامی سفارت کاری کی کامیابیوں کا یہ محل ریت کی دیوار ثابت ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قیادت بیرونی ثالثی سے ذرا فرصت نکال کر اپنے ملک، اپنی معیشت اور اپنے لاچار عوام کی بحالی پر توجہ دے، کیونکہ اگر گھر ہی نہ بچا تو بیرونی دنیا میں نمائندگی کس کی کی جائے گی






