#کالم

انتظامی اصلاحات یا نئے صوبے؟ اب فیصلہ ریاست کو کرنا ہوگا

qasim ali sha

قاسم علی شاہ

قارئین کرام نئے انتظامی یونٹس کتنے ضروری ہیں ایک بار پھر نئے صوبوں کی بات چل نکلی ہے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض مباحث ایسے ہیں جو ہر چند سال بعد دوبارہ قومی ایجنڈے پر آ جاتے ہیں، مگر ان کا کوئی حتمی انجام سامنے نہیں آتا۔ نئے صوبوں کا قیام بھی انہی موضوعات میں سے ایک ہے۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے انتظامی اصلاحات اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ سوال شدت سے اٹھا کہ کیا پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ 24 کروڑ سے زائد آبادی کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، یا پھر وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنے نظام کو ازسرِنو ترتیب دے؟یہ سوال صرف سیاست کا نہیں بلکہ ریاستی بقا، بہتر حکمرانی اور عوامی خدمت کا بھی ہے۔بڑھتی آبادی، بڑھتے مسائل پاکستان ادارہ شماریات کی 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی تقریباً 24 کروڑ 14 لاکھ ہو چکی ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، پانی، روزگار، رہائش اور شہری سہولیات پر دباو¿ بڑھا رہا ہے۔ جس رفتار سے آبادی بڑھ رہی ہے، اسی رفتار سے انتظامی اصلاحات نہ ہونا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔آج پنجاب کی آبادی دنیا کے درجنوں ممالک سے زیادہ ہے، جبکہ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ سندھ اور خیبرپختونخوا بھی مختلف انتظامی اور ترقیاتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ بحث غیر ضروری نہیں کہ کیا موجودہ صوبائی ڈھانچہ مستقبل کی ضروریات پوری کر سکے گا؟آئین کیا کہتا ہے؟نئے صوبوں کے قیام کا طریقہ کار آئینِ پاکستان میں واضح ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239(4) کے مطابق کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی یا نئے صوبے کے قیام کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظوری اور اس کے بعد پارلیمنٹ سے آئینی ترمیم درکار ہوتی ہے۔ یعنی نئے صوبے کسی سیاسی اعلان یا انتظامی حکم سے نہیں بلکہ آئینی عمل سے وجود میں آ سکتے ہیں۔اسی لیے اگر اس سمت میں پیش رفت ہونی ہے تو حکومت اور اپوزیشن دونوں کو قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔محسن نقوی نے بحث کیوں چھیڑی؟وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ گفتگو میں انتظامی اصلاحات اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر توجہ دلائی۔ اگرچہ اس موضوع پر آئندہ کسی بھی عملی پیش رفت کا انحصار آئینی اور پارلیمانی عمل پر ہوگا، لیکن ان کی گفتگو نے ایک اہم سوال ضرور زندہ کر دیا ہے کہ کیا پاکستان کو بہتر گورننس کے لیے اپنے انتظامی نظام پر نظرثانی نہیں کرنی چاہیے؟اصل بحث کسی ایک شخصیت یا حکومت کی نہیں، بلکہ پاکستان کے مستقبل کی ہے۔جنوبی پنجاب، بہاولپور اور ہزارہ پاکستان میں نئے صوبوں کا مطالبہ کئی دہائیوں سے موجود ہے۔جنوبی پنجاب کے عوام کا مو¿قف ہے کہ ترقیاتی وسائل، سرکاری ملازمتوں اور انتظامی توجہ میں ان کے ساتھ مساوی سلوک نہیں ہوتا، اس لیے الگ صوبہ انتظامی بہتری لا سکتا ہے۔بہاولپور میں سابق ریاست کی بحالی یا الگ صوبے کا مطالبہ بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتا رہا ہے۔اسی طرح خیبرپختونخوا میں ہزارہ صوبے کا مطالبہ بھی مختلف سیاسی جماعتیں اور عوامی حلقے اٹھاتے رہے ہیں۔یہ تمام مطالبات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ان کا فیصلہ صرف سیاسی جلسوں میں نہیں بلکہ آئینی اداروں میں ہونا چاہیے۔کیا صرف نئے صوبے ہی حل ہیں؟یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف نئے صوبے بنانے سے تمام مسائل حل ہو جائیں گے؟جواب شاید “نہیں” ہے۔پاکستان میں بلدیاتی نظام ہمیشہ کمزور رہا ہے۔ اگر اختیارات، وسائل اور مالی خودمختاری حقیقی معنوں میں ضلعی اور مقامی حکومتوں کو منتقل کر دی جائے تو عوام کے بہت سے مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہو سکتے ہیں۔لہٰذا انتظامی اصلاحات کا مطلب صرف صوبوں کی تقسیم نہیں بلکہ ایک ایسا نظام تشکیل دینا بھی ہے جس میں فیصلہ سازی عوام کے قریب ہو۔دنیا نے کیا کیا؟دنیا کے کئی ممالک نے انتظامی اصلاحات کے ذریعے اپنے نظام کو بہتر بنایا۔بھارت نے 2000 میں چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور اتراکھنڈ جبکہ 2014 میں تلنگانہ کو نئی ریاست کا درجہ دیا تاکہ انتظامی کارکردگی بہتر ہو سکے۔نائجیریا نے بھی مختلف ادوار میں اپنی ریاستوں کی تعداد بڑھائی تاکہ گورننس مو¿ثر ہو۔ترکی، ملائیشیا اور دیگر ممالک نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنا کر عوامی خدمات میں نمایاں بہتری پیدا کی۔یہ مثالیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ریاستیں وقت کے ساتھ اپنے انتظامی نظام میں تبدیلی کرتی ہیں، لیکن ہر فیصلہ مقامی حالات، آئینی تقاضوں اور مالی استعداد کے مطابق کیا جاتا ہے۔سیاست نہیں، ریاست کو ترجیحافسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں اکثر قومی نوعیت کے معاملات بھی سیاسی مفادات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ نئے صوبوں کی بحث بھی کئی مرتبہ انتخابی نعروں تک محدود رہی ہے۔اگر واقعی انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے تو اس پر تمام سیاسی جماعتوں، عدلیہ، پارلیمنٹ، بیوروکریسی، ماہرینِ معیشت اور سول سوسائٹی کو مل بیٹھ کر ایک قومی پالیسی تشکیل دینی چاہیے۔میری رائے میری نظر میں پاکستان کو صرف نئے صوبوں کی نہیں بلکہ جامع انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے ایک خودمختار قومی کمیشن برائے انتظامی اصلاحات تشکیل دیا جانا چاہیے، جو آبادی، وسائل، جغرافیہ، قومی سلامتی، معاشی استعداد اور انتظامی ضروریات کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لے۔اس کے بعد اگر کہیں نئے صوبے ناگزیر ثابت ہوں تو آئینی طریقے سے تشکیل دیے جائیں، اور اگر اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی زیادہ مو¿ثر حل ہو تو اسے فوری نافذ کیا جائے۔ریاستیں صرف جغرافیہ تبدیل کرنے سے نہیں بلکہ مو¿ثر حکمرانی سے مضبوط ہوتی ہیں۔پاکستان کو آج سیاسی نعروں سے زیادہ قومی بصیرت کی ضرورت ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، محدود وسائل اور پیچیدہ انتظامی مسائل اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم وقتی سیاست سے نکل کر طویل المدتی قومی منصوبہ بندی کریں۔محسن نقوی کی جانب سے اٹھایا گیا یہ سوال محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک ایسے موضوع کی یاد دہانی ہے جس پر سنجیدہ، آئینی اور قومی سطح پر مکالمہ ناگزیر ہے۔اگر آج ہم نے انتظامی اصلاحات پر بروقت اور دانشمندانہ فیصلے نہ کیے تو آنے والی نسلیں شاید ہم سے یہ سوال ضرور کریں گی کہ جب وقت فیصلے کا تھا تو ہم بحثوں میں کیوں الجھے رہے؟فیصلہ نئے صوبوں کا نہیں، بہتر پاکستان کا ہونا چاہیے۔

انتظامی اصلاحات یا نئے صوبے؟ اب فیصلہ ریاست کو کرنا ہوگا

06/08/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے