#کالم

صدر زرداری نے نون لیگ سے اتحاد کرکے کیا کھویا کیا پایا؟

Untitlesssdddd 1

پیر مشتاق رضوی

پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نازک ترین موڑ پر کھڑی ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی "مفاہمتی پالیسی” نے پارٹی کو وقتی اقتدار تو دلوا دیا، مگر اس کی قیمت پارٹی کے نظریے، ووٹ بینک اور جیالوں کے اعتماد کی صورت میں ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

  1. جیالوں کی ناراضگی اور بلاول کا کردار
    پیپلز پارٹی کے جیالے نون لیگ سے اتحاد پر شروع دن سے ناخوش تھے۔ ان کا موقف تھا کہ یہ اتحاد اصولوں پر سودا ہے۔ اب آزاد کشمیر کے حالیہ الیکشن اور مرکز میں نون لیگ کی مضبوطی نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر صدر زرداری نے فیصلے میں مزید تاخیر کی تو بہت دیر ہو جائے گی۔
    اسی لیے پارٹی کے اندر سے اب یہ آواز اٹھ رہی ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو والد کے سیاسی انکیوبیٹر سے باہر نکل کر خود فیصلے کرنا ہوں گے۔ بلاول اب سیاسی طور پر بالغ ہو چکے ہیں اور جیالوں کی امنگیں ان سے وابستہ ہیں۔
  2. مفاہمت کی قیمت: پنجاب اور آزاد کشمیر کا نقصان
    تاریخ گواہ ہے کہ صدر زرداری کی مفاہمتی پالیسی کا سب سے بڑا نقصان پنجاب کو ہوا۔ "سندھ پی پی پی کا، پنجاب نون لیگ کا” کا غیر اعلانیہ فارمولا اپنانے سے پنجاب میں پارٹی کی تنظیمیں زوال پذیر ہو گئیں۔ اس خلا کو پی ٹی آئی نے بھرپور طریقے سے پ±ر کیا اور 2013 سے 2018 تک جنوبی پنجاب میں پی پی پی کے روایتی ووٹ بینک کو توڑ دیا۔
    بدقسمتی سے اب جب پی ٹی آئی سیاسی میدان میں موجود نہیں، تب بھی پی پنجاب میں کم بیک نہ کر سکی۔ اس کی وجہ وہی مفاہمت ہے جس کی وجہ سے ووٹر کو پی اور نون لیگ میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔ آزاد کشمیر کا الیکشن اس کا تازہ ترین ثبوت ہے جہاں 15 سالہ پی حکومت کے باوجود نون لیگ سب سے بڑی جماعت بن گئی۔
  3. اتحاد کا حساب: کیا کھویا، کیا پایا؟
    اگر بیلنس شیٹ بنائی جائے تو پی پی نے نون لیگ سے اتحاد کر کے بہت کچھ کھویا ہے۔ پنجاب، آزاد کشمیر کی سیاست، پارٹی کا قومی بیانیہ اور ورکر کا مورال اس کی بڑی مثالیں ہیں۔ حکومت میں شامل ہوئے بغیر سپورٹ کرنے سے پارٹی نہ حکومت میں رہی نہ اپوزیشن میں، اور مہنگائی کا سارا ملبہ بھی اس پر گرا۔
    اس کے مقابلے میں جو ملا وہ سندھ حکومت کا تحفظ، آصف زرداری کی صدارت اور مرکز میں فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن ہے۔ زرداری صاحب کا حساب یہی ہے کہ نون لیگ کو فرنٹ پر لا کر مہنگائی میں الجھا دیا جائے اور 2028 کے لیے وقت خرید لیا جائے۔
  4. پیپلز پارٹی کا مستقبل: تین ممکنہ راستے
    پی پی کے مستقبل کے لیے 3 راستے کھلے ہیں۔پہلا: اگر پالیسی نہ بدلی تو پارٹی مزید سکڑ کر صرف سندھ کی صوبائی جماعت بن کر رہ جائے گی۔ دوسرا: بلاول نون لیگ سے فاصلہ اختیار کریں، مہنگائی پر جارحانہ اپوزیشن کریں اور جنوبی پنجاب کو دوبارہ منظم کر کے 2028 کے لیے میدان تیار کریں۔ تیسرا: سٹیٹس کو برقرار رہے اور 2028 میں پھر کسی کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا جائے۔فیصلہ کن عنصر بلاول کا کردار، پنجاب کی تنظیم اور پارٹی کا نیا بیانیہ ہوگا۔
  5. کیا پی اور پی ٹی آئی کا اتحاد ممکن ہے؟
    اس وقت بلاول پی ٹی آئی سے اتحاد کے حق میں نہیں ہیں۔ دونوں کے بیانیے، ماضی کی تلخیاں اور ورکر کی ذہنیت اس کی بڑی رکاوٹ ہے۔ تاہم 2027-28 میں اگر نون لیگ کے خلاف اینٹی انکمبنسی عروج پر ہوئی تو چند سیٹوں پر انتخابی ایڈجسٹمنٹ کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ مکمل اتحاد کا چانس نہ ہونے کے برابر ہے۔۔۔حاصل نتیجہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔پیپلز پارٹی ختم نہیں ہوگی کیونکہ سندھ آج بھی اس کا قلعہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ "قومی جماعت” رہے گی یا "صوبائی جماعت” بن جائے گی؟ اس کا فیصلہ اگلے 18 ماہ میں ہونا ہے۔ اب گیند بلاول کے کورٹ میں ہے۔ وہ زرداری صاحب کے "صبر اور مفاہمت” والے ماڈل کو اپناتے ہیں یا "مقابلے اور عوامی بیانیے” والے ماڈل کو، یہی پی کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے