فرسودہ نظام کا نوحہ
سہیل بشیر منج
پاکستان میں جمہوری نظام کی شکست و ریخت کسی ایک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ دہائیوں پر محیط ادارہ جاتی کشمکش، سیاسی موقع پرستی اور سماجی زوال کا شاخسانہ ہے اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اس ابتر صورتِ حال کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہمارا ناہموار اور ناپختہ انتخابی ڈرافٹ ہے وہ نظام جہاں شعور و بصیرت سے لبریز رائے اور ایک لمحاتی مفاد کی خاطر بیچے گئے ووٹ کو یکساں وزن دیا جائے وہاں جمہوریت کے اصل روح یعنی "دانشِ اجتماع?” کا قتلِ عام ہوتا ہے جب غربت، افلاس اور معاشی تنگی کو دباو¿ بنا کر ووٹ کی قیمت چند ہزار روپوں میں طے کی جائے تو نتیجے میں منتخب ہونے والی قیادت عوامی خیرخواہ نہیں بلکہ ایک خریدار بن کر سامنے آتی ہے۔گزشتہ چند انتخابی معرکوں نے اس تاثر کو پختہ تر کر دیا ہے کہ ووٹنگ کا عمل محض عوامی جذبات سے کھیلنے اور وقت ضائع کرنے کا ڈرامہ بن چکا ہے عوام کو الیکشن کے الجھاوے میں مبتلا رکھ کر پسِ پردہ اپنی مرضی و منشا کے مطابق نتائج مرتب کیے جاتے ہیں اور نمائندوں کا "انتخاب” نہیں بلکہ "سلیکشن” کی جاتی ہے اس انجینئرڈ جمہوریت کا نتیجہ ہمیشہ ایسی کمزور اور ناپائیدار مخلوط حکومتوں کی صورت میں نکلتا ہے جو عوامی خوشحالی کے بجائے اپنے اپنے سیاسی وجود کو بچانے اور ذاتی مفادات کا تحفظ کرنے میں محوِ پیکار رہتی ہیاس نظام کو دیمک کی طرح چاٹنے میں ہمارے ہوس پرست سیاست دانوں کا اہم کردار ہے جن کی ترجیحات میں ملکی مفاد پر ہمیشہ ذاتی اقتدار کو فوقیت حاصل رہی دوسری جانب نوکر شاہی (بیوروکریسی) کے شاہانہ روئیے اور ان کے پسِ پردہ سازشوں نے انتظامی ڈھانچے کو مفلوج کر کے رکھ دیا تاہم اس تمام تر بگاڑ کا ملبہ صرف حاکموں پر نہیں ڈالا جا سکتا ہماری عوام کی اپنی ذمہ داریوں سے مجرمانہ روگردانی نااہل ق?ادت کو بار بار منتخب کرنے کی خو اور وقتی لالچ کے بدلے اپنے مستقبل کا سودا کرنے کی روش نے اس جمہوریت کو ایک دلفریب نام نہاد تماشے سے زیادہ کچھ بننے نہ دیا ۔پاکستان میں صوبائیت کا پھیلتا ہوا زہر ایک ایسا خاموش ناسور ہے جو قومی یکجہتی کے وجود کو اندھا دھند چاٹ رہا ہے اگر اس خطرناک تعصب کا خاتمہ کر کے ‘ون یونٹ’ یا ایک طاقتور مرکزی نظم و ضبط کی شمع روشن کی جائے تو ان موروثی سیاسی گھرانوں اور اقتدار کے دعویدار خاندانوں کی صد سالہ اجارہ داری پل بھر میں خاک میں مل جائے گی یہی وجہ ہے کہ یہ مفاد پرست طبقے اپنے سیاسی وجود اور خاندانی بادشاہت کو بچانے کے لیے صوبائیت کے زہر کو ہوا دیتے ہیں اور کسی بھی ایسی اصلاح کی راہ میں حائل ہوتے ہیں جو عوام کو بااختیار بنا سکے صوبائیت کی اس باڑ کو گرانے سے نہ صرف روایتی اور پرانے سیاسی تسلط کا سورج غروب ہوگا بلکہ اقتدار بالآخر سچے باصلاحیت اور حقیقی عوامی نمائندوں کی دہلیز تک پہنچے گا جو مسائل کی درست تشخیص کر کے ملک کو صحیح سمت میں گامزن کر سکیں گے ۔ہماری تاریخ کا یہ ایک المناک اور چشم کشا سچ ہے کہ جو ممالک پاکستان کے دہائیوں بعد نقشہ عالم پر ابھرے وہ آج ترقی، ٹیکنالوجی اور اقتصادیات کے اوجِ ثریا کو چھو رہے ہیں جبکہ ہمارا ملک ہر گزرتے دن کے ساتھ گہری تنزلی کی غاروں میں گرتا جا رہا ہے اس المناک زوال کی اصل وجوہات بصیرت سے محروم ق?ادت، ذاتی مفادات پر مبنی ناپائیدار پالیسیاں، اداروں پر خاندانوں کی مسلسل حکمرانی اور قومی یکجہتی پر صوبائی و لسانی تقسیم کو ترجیح دینا ہے جب تک ہم تعصب کی زنجیریں توڑ کر قومی وحدت کا علم بلند نہیں کرتے اور شفاف بلا امتیاز حکمرانی کا راستہ نہیں اپناتے ترقی کی بلندیاں ہمارے لیے محض ایک دلفریب خواب ہی رہیں گی۔پاکستان کی 79 سالہ تاریخ مختلف طرزِ حکومت کے ناکام تجربات اور سیاسی ناپختگی کی ایک دردناک داستان ہے اس طویل عرصے میں پارلیمانی نظام صدارتی ماڈل اور طویل آمریتوں کے تجربات کیے گئے لیکن نتائج کے اعتبار سے ریاست اور عوام دونوں کو سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا بنیادی سوال یہ ہے کہ ان تمام نظاموں نے پاکستان کو کیا دیا کیا پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکا یا عام آدمی کے مسائل حل ہو سکے تو جواب یقیناً نفی میں ہے نظام کوئی بھی ہو ہر دفعہ عوامی بہبود اور ملکی ترقی پر ذاتی اور ادارہ جاتی مفادات کو ترجیح دی گئی پارلیمانی نظام میں سیاسی بلیک میلنگ اور کمزور حکومتوں نے اداروں کو مفلوج کیا جبکہ صدارتی اور آمرانہ ادوار میں طاقت کا یکطرفہ تمرکز مرکزیت کے غلبے اور جمہوری اقدار کی تباہی کا باعث بنا ان تمام طرزِ حکومت کی ناکامی کی بنیادی وجوہات میں سیاسی بصیرت کا ففقدان مسلسل سیاسی عدم استحکام بیوروکریسی کی منفی مداخلت اور آئین کی بار بار پامالی شامل رہی ہے حکمران طبقے نے ہمیشہ اصلاحات کے دلفریب نعرے تو لگائے مگر کبھی پائیدار معاشی پالیسیوں اور انصاف کے شفاف نظام کی بنیاد نہیں رکھی یہی وجہ ہے کہ عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور ریاست ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئی ہے تاریخ ثابت کرتی ہے کہ جب تک شفافیت جمہوریت کی پاسداری اور عوامی خدمت کو اصل مقصد نہیں بنایا جائے گا تب تک ہر طرزِ حکومت صرف ایک ناکام تجربہ ہی ثابت ہوگا اور ملکی تنزلی کا سفر یوں ہی جاری رہے گا۔دنیا بھر کے تجزیہ نگار اور ماہرینِ عمرانیات سویڈن، ناروے اور سوئٹزرلینڈ جیسے شمالی یورپ کے ممالک کے ‘سوشل ڈیموکریٹک’ یا "کلاو¿ڈ بیسڈ ڈائریکٹ ڈیموکریسی” کے ماڈل کو کامیاب ترین نظامِ حکومت مانتے ہیں اس نظام کی سب سے بڑی خوبی قانون کی حقیقی بالادستی، بلا امتیاز احتساب، طاقت کی نچلی سطح تک منتقلی اور عوامی فلاح کو اولیت دینا ہے سوئٹزرلینڈ کی مثال ہمارے سامنے ہے میں نے ایم اے پولیٹیکل سائنس میں سویزر لینڈ کے ائین کو بڑی تفصیل سے پڑھا ہے جو کسی زمانے میں سیاسی خلفشار اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم کا شکار تھا لیکن جب انہوں نے مباشر جمہوریت اور اختیارات کی نچلی سطح تک تفویض کا نظام اپنایا تو وہ دنیا کے مستحکم ترین اور خوشحال ترین ملکوں کی صف میں شامل ہو گیا۔اگر اس کامیاب ترین فلاحی و بلدیاتی نظام کو پاکستان میں من و عن یا مقاصد کے تحت لاگو کر دیا جائے تو اس کی خلاف ورزی ناگزیر نتائج برآمد ہوں گے پاکستان میں اس نظام کے نفاذ کے لیے سب سے پہلے آئینی ترمیم کے ذریعے خود مختار اور بااختیار مقامی حکومتوں (لوکل گورنمنٹ) کا قیام ممکن بنانا ہو گا تاکہ گلی محلوں اور اضلاع کے مسائل کا حل وہیں نکل سکے جب فیصلے اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومتوں کے بجائے مقامی سطح پر عوام کی منشا سے ہوں گے شفاف ٹیکسیشن اور عدلیہ کی مکمل آزادی ہوگی تو موروثی سیاست کا خاتمہ ممکن ہو جائے گا اس تبدیلی سے نہ صرف میرٹ کی بحالی ہو گی بلکہ عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد بحال ہو گا اور پاکستان دائمی بحرانوں سے نکل کر ترقی و استحکام کی نئی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔






